پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی ’’سیاسی موت‘‘ کا سفید جھوٹ پہلے دن سے نوشتہ دیوار ہے، نوشتہ دیوار ہی رہے گا۔

دنیا میں جہاں بھی انسانوں کی اکثریت نارمل زندگی سے آراستہ ہوئی لوگوں نے وہیں معمول کی خوبصورت زندگیاں گزار دی ہیں۔ جو لوگ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ نظریاتی شیفتگی سے ذرہ بھر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، وہ اجتماعی طور پر پاکستانی معاشرے کے ایسے ہی بہتر نارمل افراد ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان پیپلز پارٹی ہی نے فرد کی بات کی ہے، پیپلز پارٹی ہی نے نارمل طرز حیات کا فلسفہ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی ہی نے ریاست میں انسانی حقوق کی قانون سازی کی ہے، پیپلز پارٹی نے ہی آئینی بالادستی کے تحت قومی اداروں کی بنیادیں رکھی ہیں۔

پیپلز پارٹی نے ہی ’’بھول جائو درگزر کرو اور آگے بڑھو‘‘ کے عمرانی معاہدے کے ’’نیلسن ڈاکٹرائن‘‘ کا انتخاب کیا۔ پیپلز پارٹی کی نظریاتی تشکیل اور روح میں انہیں حب الوطنی، عوام دوستی، اقتصادی عدل، قانونی مساوات اور احترام انسان کے لافانی نغمے ہر سمے سنائی دیتے ہیں۔

یہ تو ہار گیا مقدر اس جماعت کا جسے گزشتہ پانچ برسوں کے دورانئے میں اپنے ہاں شاہی فقیروں (CARPET BEGGERS) اقتدار کی امانت کو کمیشن کی کھلی منڈی میں منتقل کرنے والے ایجنٹوں، پارٹی کی پروجیکشن کے نام پر ’’میڈیا پرسنوں‘‘ اور وزارت کے منصب پر تخت نشین ہوتے ہی کم ظرف کرداروں کی ایک سیاسی نسل کا تجربہ ہوا۔

ان میں ایسے بھی تھے جن کی قربانیوں اور خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ افسوس انہوں نے اپنی تھکاوٹ "LIQUID CASH" سے تیار شدہ بستر پر استراحت فرما کے ہی اتاری، ان میں ایسے شرفاء کا بھی نام موجود ہے جو اس جماعت کے اندر اپنے سیاسی کیریئر کا شاندار ماضی رکھتے ہیں۔ آج وہ اور ان کے اہل و عیال، روزگار، تعلیم اور رہائشوں سے لے کر آسائشوں تک ایک معیاری زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن؟ جب نظریاتی لوگوں سے گفتگو فرمائیں گے، لگے گا وہ رات کو ’’تنور‘‘ میں سوتے اور دن کو کسی بزرگ کے مزار پر بیٹھے ’’لنگر‘‘ کے منتظر ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں پاکستان میں ایسے افراد کی نسل ابھی موجود ہے جو پیپلز پارٹی کی نہیں عوام کی ایجنٹ ہے۔ وہ اپنی غربت اور جدوجہد کی آبلہ پائی سے ابھی زمیں بوس نہیں ہوئی، اسے ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات سے وابستگی ہے۔ بھٹو کی اولاد نے ان کے نظریات کی آبیاری میں اپنے سر پیش کئے ہیں۔ یہ لوگ پارٹی کی شخصیات یا افراد کے ترجمان یا کاسہ لیس نہیں، ان کا اوڑھنا بچھونا پارٹی کے افکار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری پاکستان کی قومی سیاست کے عہد نو کی علامت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کی پہلی اور دوسری نسل کے سیاستدانوں میں سے پہلی نسل تو قریب قریب معدوم ہو چکی، دوسری عمر رفتہ کے ریٹائرڈ دائروں میں داخل ہونے کو ہے۔ سیاست میں نئی نسل کا عہد شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کے سیاسی عمل میں شاید سب سے طاقتور سیاسی علامت بلاول بھٹو زرداری ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے اول روز سے عوام کے دلوں پر دستک دے رکھی ہے۔ وہی دستک پیپلز پارٹی کی قیادت اور عوام کے درمیان مکالمے اور پیامبری کا تسلسل رہی ہے۔ بلاول کا یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ پیپلز پارٹی ’’ن‘‘ ’’ق‘‘ ’’ف‘‘ قسم کے لاحقوں کے بغیر ایک مکمل نظریاتی پارٹی ہے۔

کراچی میں آصفہ اور بختاور کے ساتھ مل کر بلاول بھٹو زرداری نے جب پیپلز پارٹی کی چھیاسیویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ تینوں بہن بھائیوں کا اکٹھے سالگرہ کا کیک کاٹنا بذات خود پاکستانی عوام کے ساتھ نہ ختم ہونے والے رشتے کا تصدیقی فیصلہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ’’عوام کو طاقت کا سرچشمہ‘‘ کہا تھا یا جب ذوالفقار علی بھٹو نے خود کو ’’غریب کی آنکھ کا آنسو کہا‘‘ ’’بارش کے پانی سے جس کی چھت ٹپک رہی ہو‘‘ وہ خدا کی مخلوق کی اعتراف تھا یعنی اللہ کی مخلوق ہی قیادت کا استحقاق رکھتی ہے۔

جو لوگ عوام کو پائوں تلے روند کر تخت شاہی پر بیٹھنا چاہتے ہیں وہ خدا کی دھرتی پر خدا کے باغی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کی اس نظریاتی جماعت اور اسی نظریاتی عقیدے کے وارث اور ترجمان ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی گزشتہ یوم تاسیس پر تقریر نے عوامی جدوجہد کی اس قافلہ سالار پارٹی میں زندگی کا وہ کرشمہ پیدا کر دیا جو صرف اس جماعت سے ہی مختص ہے۔ بلاول کو یاد رہے۔

تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صدا

ہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *