دلیل قتل نہیں ہوا کرتی

عزیزان گرامی قدر، صحافی اقتدار کے کھیل میں فریق نہیں ہوتا اور اقدار کی کشمکش میں غیرجانبدار نہیں ہو سکتا۔ صحافی کو اس سے غرض نہیں کہ عوام کس جماعت اور کس رہنما کو ووٹ کی امانت سونپتے ہیں۔ صحافی کا کام یہ دیکھنا ضرور ہے کہ ووٹ کا عمل شفاف تھا یا نہیں؟ آئین کی بالادستی برقرار ہے یا نہیں؟ ریاست شہریوں کا تحفظ کر رہی ہے یا نہیں؟ عدالت میں انصاف ہو رہا ہے یا نقشہ نویسی؟ صحافی حرف قانون کا پابند ہے اور حرف انکار کا امین ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو خیال آئے کہ صحافت تو جمعہ جمعہ آٹھ دن کی حکایت ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد کو ایسی کون سی مدت گزری ہے۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور ابلاغ کے دوسرے ذرائع تو گویا ہم عصر دنیا کی کہانی ہیں۔ انسانی معاشرے کی تاریخ تو ان گنت صدیوں پر محیط ہے۔ وقائع نویس، مدیر اور نشریات سے پہلے کی دنیا میں اقتدار اور اقدار کی اس فصیل پر کون پہرہ دیتا تھا۔ شاید آپ کو یاد ہو، ایتھنز کا ایک ناٹا ، گنجا اور مائل بہ فربہی فلسفی ریشم کے کیڑے کی طرح سوال اور دلیل کی چادر بنتا تھا۔ سقراط نام کے اس شخص پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا گیا اور اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ ایک صاحب عرفان نے مدینہ کی گلیاں چھوڑ کر پہاڑی پر تنہائی کی موت قبول کی تھی۔ اسے صاحبان اقتدار کی روش سے اختلاف تھا۔ تاریخ میں اس ہستی کا اسم گرامی ابوذر غفاریؓ بتایا گیا ہے۔ اور اٹلی کا وہ باریش صاحب نظر جس نے کلیسائی احتساب کے کارندوں سے کہا تھا کہ میرے سر تسلیم خم کرنے سے زمین سورج کے گرد چکر لگانا چھوڑ نہیں دے گی۔ پیرس کا وہ انگار فلسفی والٹیئر جس نے پوپ سے کہا تھا کہ آپ جو لفظ بول رہے ہیں، ان کا مطلب تک نہیں جانتے۔ خود ہمارے ہاں دیکھیے، محمد علی جوہر اور ابوالکلام محی الدین آزاد کی حریت میں کسی کو شک ہے؟ لیجئے ایک روایت، قیام پاکستان کے بعد کی، یاد آ گئی۔ یہ امانت بھی آپ کے سپرد کی جائے۔

خواجہ شہاب الدین ہمارے مرکزی وزیر اطلاعات تھے۔ گورنر ہاؤس میں صحافیوں کی ایک مجلس تھی۔ خواجہ صاحب نے دیکھا کہ ہجوم سے خاصے فاصلے پر ایک صاحب بے نیازی سے کرسی پر بیٹھے سگریٹ کے کش لگا رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ چراغ حسن حسرت ہیں، امروز کے مدیر۔ خواجہ شہاب ڈھاکہ کے نواب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، قامت کی رمزیں سمجھتے تھے۔ خود اٹھ کر مولانا تک پہنچے، اپنا تعارف کرایا کہ خواجہ شہاب ہوں۔ جواب ملا، بہت اچھی بات ہے۔ تشریف رکھیے۔ خواجہ صاحب چکنم میں پڑ گئے کہ اب کیا کہا جائے۔ فرمایا، میں گزشتہ برس حج پر گیا تھا۔ حسرت صاحب نے آنکھ نیہوڑا کر تمباکو کا دھواں اپنے فراخ کشمیری سینے میں کھینچا اور کہا، بہت اچھی بات ہے۔ خواجہ صاحب نے گڑبڑا کر کہا، میں اس برس بھی حج کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حسرت صاحب کی طبیعت پھڑکی، فرمایا، خیال رکھیئے، آپ کے گناہوں کی رفتار خاصی تیز معلوم ہوتی ہے۔

کلکتہ کی عدالت میں 8 فروری 1922 کو امام الہند کے قول فیصل سے بھٹو صاحب کے سول مارشل لا کی فوجی عدالت میں ہم عصر صحافت کی زندہ رود کے بیان واشگاف تک ہماری صحافت میں گریز، انحراف، انکار اور شہادت کا یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا، اس خیال سے حکایت ختم کرتا ہوں کہ ان نصف درجن طوطیان خوش بیاں کا ذکر بھی ناگزیر ٹھہرے گا جن کے شہید جسم سلامت اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کے اسمائے گرامی بوجوہ شرمندہ اشاعت نہیں ہو سکتے۔ صرف یہ گزارش مقصود تھی کہ صحافت کا تشخص ذریعہ ابلاغ سے متعین نہیں ہوتا۔ صحافت صنعت نہیں، علم اور خبر کی توسیع ہے۔ خبر کا مزاحمت سے تعلق ناگزیر ہے۔ ان گزارشات کا پس منظر وفاقی وزیر اطلاعات کا لاہور میں وہ فکر انگیز خطاب ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ایک مجلس میں ارزاں کیا۔ محترم فواد چوہدری نے فرمایا کہ ’کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کر رہے ہیں۔ یہ نظریات کی لڑائی ہے، یہ بندوق سے نہیں، دلیل سے لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ناکامی یہ ہوئی کہ دلیل والوں کو بندوق والوں سے بچا نہیں سکی۔‘ تری آواز مکے اور مدینے… ہم جانتے تھے کہ جہلم کی موجوں سے پلے جنگلوں میں یہ چیتا کہیں موجود ضرور ہے۔ اس کے اندر کا شعلہ لپکے گا۔ اور یہ بالآخر دلیل کی طرف لوٹے گا۔ واپس آنے والوں سے ہمیں یہ نہیں پوچھنا کہ ’اب لوٹ کے آئے تو گھر کیسا لگا ہے؟‘۔ صرف کچھ یاد دلانا ہے۔

2014 کا برس تھا، ہماری تاریخ میں اس برس کو تشویش، اضطراب اور اندیشوں کا عنوان دیا جائے گا۔ اپریل کی 19 تاریخ کو حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ مئی کی سات تاریخ کو ملتان میں راشد رحمان شہید کئے گئے۔ اس بیچ 22 اپریل کو حامد میر کی عیادت کرنے وہ شخص کراچی پہنچا تھا، درویش جس کی جوتیاں سیدھی کرنا بھی اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ پرویز رشید ساڑھے تین برس کے لئے وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے پر فائز تھا۔ اس لئے کہ یہ شخص عقوبت خانے سے اقتدار تک، اقدار کی لڑائی لڑتا ہے۔ یہ اعزاز منصب کا محتاج نہیں ہوتا۔ مجروح صحافی حامد میر کی عیادت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ہم غلیل والوں کے مقابلے میں دلیل والوں کے ساتھ ہیں۔ کسی کا نام نہیں لیا تھا۔ پرویز رشید کا یہ بیان ہی جرم ٹھہرا۔ فرد جرم تو بعد میں تیار کی گئی۔ یہ درست ہے کہ تب غلیل والوں کا طریقہ کچھ مختلف تھا۔ ایک نکتہ بہرصورت مشترک تھا۔ گزرے ہوئے کل میں بھی دلیل نشانے پر تھی۔ آج بھی دلیل ہدف ہے۔ دلیل قتل نہیں ہوا کرتی۔ خشک سالی ہو یا باراں کی نرم پھوار، دلیل کی کونپل پتھر سے سر نکالنا جانتی ہے۔ سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا ریاست کل اپنا فرض پورا کر رہی تھی؟ کیا ریاست آج اپنا فرض پورا کر رہی ہے؟ صحافی کا دلیل پر اجارہ نہیں۔ دلیل تہذیب کی امانت ہے۔ کمرہ عدالت ہو یا اخبار کا صفحہ، دلیل کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ اس فرض کی ادائی وقفے وقفے سے اور اپنی سہولت دیکھ کر نہیں کی جاتی۔ ریل کا کانٹا بدلنے والے کے اوقات کار مقرر ہو سکتے ہیں، دلیل کی حفاظت اس احساس سے تعلق رکھتی ہے جو وقت کی رفتار کا پابند نہیں۔ دیکھیے، حکایت دروں کا بیان تھا، علی افتخار جعفری یاد آ گئے

اٹھ گئے ارض ہنر سے ترے عشوؤں کے اسیر

اے سخن اب ترے پیچاک کسے ڈھونڈتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *