ریاست کی طاقت اب کس کے پاس ہے؟

کیا پاکستان میں ہمارے نہ دیکھتے ہوئے طاقت کا ڈھانچہ تبدیل ہو گیا؟ آنکھ جھپکتے ہوئے آپ نے اسے مس کر دیا۔

یہ ایک عام تاثر ہے کہ طاقت بندوق کے بیرل میں مرتکز ہوتی ہے اور ہر سروے کے پیچھے فوجی موجود ہوتے ہیں۔  پھر عدلیہ آئی جس نے  پچھلی دہائی سے سو موٹو اختیارات کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے حد سے زیادہ چستی دکھانے کا عمل شروع کیا۔ سیاسی طبقہ ایک طویل فاصلے پر  تیسرے نمبر پر آیا۔یہی کہیں مختلف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی موجود پائی جاتی ہیں لیکن واضح طور پر اقتدار پر موجود مختلف طاقتوں کے تحت ہیں۔

اگرچہ اب بھی اہم فیصلے فوج ہی کر رہی ہے لیکن تحریک لیبک  جیسی حد سے زیادہ شدت پسند جماعت کے معاملے میں جس نے حال ہی میں ملک کو تین دن تک ریاستی رکاوٹ کے بغیر روکے رکھا فوج کے سامنے اینٹوں کی ایک دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔  کسی شخص کے  بارے  میں پاکستان کے سب سے طاقتور اور با وقار اداروں کی طرف سے کسی رد عمل کے بغیر سر عام آرمی چیف کے خلاف بغاوت کی ترغیب دینے کے بارےمیں کبھی نہیں سنا گیا۔ یہ کمزوری کی علامت بھی ہے، اور ملک میں  طاقت کے ڈھانچے میں تبدیلی کا بیش خیمہ ہے۔

اور عدلیہ کا کیا؟ آخر کار  سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہی بد قسمت آسیہ کی رہائی کے دورازے کھولے تھے  جس کی پوری زندگی توہین مذہب کے الزام نے  متاثر کر دی تھی ۔ اسی فیصلے کی وجہ سے تو ہزاروں ٹی ایل پی  سپورٹرز سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ لیکن جب ٹی ایل پی کے قائدین نے اعلان کیا کہ وہ تین جج جنہوں نے اسے بے گناہ ڈکلیئر کیا کو قتل کر دینا چاہیے، تو سپریم کورٹ سے کوئی شور برپا نہیں ہوا۔ اور ذہن میں رکھیں، یہ وہی ادارہ ہے جو کئی بار سیاست دانوں پر توہین عدالت  کے کیس میں برہمی کا اظہار کرتا رہا ہے۔

 سیاست دانوں کی بات کی جائے تو یہ بات عجیب لیکن قابل توقع تھی کہ  ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے  وعدہ کیا کہ ریاست باغیوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی ، لیکن ان کو  فوری طور پر اپنے الفاظ سے پیچھے ہٹنے  اور شکست کے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

 جن لوگوں نے عمران کا اقتدار کی طرف سفر دیکھا ہے انہیں اس سے کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے  ہمیشہ کھلے عام مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت  کا اظہار کیا ہے اور اس کا واضح ثبوت ان کا طالبان خان کا لقب  ہے۔

ایم کیو ایم نے تقریبا ایک  چوتھائی صدی پہلے سیکھ  لیا تھا   کہ مرضی سے کراچی بند کرنے کی طاقت  انہیں اس قابل بنا دے گی کہ ریاست کو جب چاہے نیچا دکھا دے۔ ملک کی شہ رگ  پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ پوری آزادی کے ساتھ ہر کام کر سکتی تھی، بھتہ خوری کر سکتی تھی  اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو یرغمال بنا لیتی تھی۔ ایک سٹوڈنٹ آرگنائزیشن سے لے کر جنگجو ونگ  بننے تک ایم کیو ایم نے کراچی پر بغیر کسی مشکل کے حکومت کی ہے۔ 90 کی دہائی کے وسط میں بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران کراچی میں آپریشن بھی انہیں نہیں روک سکا۔

پھر عمران خان نے یہ سیکھ لیا کہ اسلام آباد کا محاصرہ کر کے  وہ ریاست سے من مانی کروا سکتے ہیں۔ اس طرح ان کے لگاتار دھرنے اور دھرنے کی دھمکیاں سیاسی معاملات کو سپریم کورٹ تک لے جانے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوئیں۔  عدلیہ کے مداخلت کرنے کے فیصلے کا نتیجہ ہم سب جانتے ہیں۔

ٹی ایل پی نے یہ ماڈل توہین مذہب کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے فیض آباد میں دھرنا دے کر ٹیسٹ کیا ۔ دو ہفتے تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے بیچ رابطہ منقطع رہا ۔ جیل میں بھیجے جانے کے بجائے دھرنے میں شامل لوگوں کو ایک سرونگ جنرل کی طرف سے کیش میں انعام دیا گیا۔ مزید یہ کہ ان کا پی ایم ایل این کی حکومت میں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفی کا مطالبہ قبول کر لیا گیا۔ یہ سب کچھ  ریاست کی رٹ کے لیے  کیا گیا۔

جب اس دھرنے نے کام کر دکھایا تھا تو سوال یہ بنتا تھا کہ پورے ملک کو یرغمال بنا کر کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس کا جواب ہمیں رواں ماہ کے آغاز میں ملا جب جب ٹی ایل پی سپورٹرز کے ہجوم نے  پورے ملک کی سڑکیں بلاک کر کے فیکٹریوں، سکولوں اور دفتروں  کی بندش  کو یقینی بنا دیا۔  کاروں، بسوں اور ٹرکوں کو توڑا گیا، اور انتشار کے تین دنوں میں کھربوں کا نقصان ہوا۔ لیکن جب یہ مذہبی جذبات کا معاملہ ہو تو قیمت کا خیال کس کو آتا ہے۔

معاشی نقصانات  اورکیمرہ پر معصوم لوگوں کی گرفتاریوں کے  علاوہ  ریاستی اداروں کی ریپوٹیشن کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ اب ہماری فوج ناقابل تسخیر نہیں رہی۔ توہین  عدالت کی سزا بھی صرف خاص کیسز میں ہی ممکن ہے۔  اور عمران خان کو کاغذ کے شیر کے طور پر بے نقاب کیا گیا، جو  صرف فرضی طور پر دھاڑتا ہے لیکن جب زور کا دھکا دیا جاتا ہے تو عسکریت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔

ٹی ایل پی کے فسادات سے ہٹ کر ہمیں معصوم آسیہ بی بی کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا  جو خادم حسین کی طرف سے پھانسی کے مطالبے کی بھینٹ چڑھنے کے خطرے سے دوچار ہے ، ایک ایسے جرم کی پاداش میں جو شاید اس نے کیا بھی نہیں۔  اگرچہ حکومت نے اپنی سرینڈر دستاویز میں اسے ملک سے باہر جانے سے روکنے پر اتفاق کیا ہے  لیکن  حقیقت یہ ہے کہ قانونی طور پر ملک چھوڑنے سے اسے نہیں روکا جا سکتا کیوں کہ وہ کسی جرم میں گناہگار ثابت نہیں ہوئی۔

اور اگر ایک پنجاب گورنر سلمان تاثیر  کو اپنی پولیس سیکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کے ہاتھوں قتل  کیا جا سکتا ہے تو  کون گارنٹی دے گا کہ ''پاکستان میں محفوظ مقام'' جہاں اسے رکھا جا رہا ہے پر ایسا ہی حادثہ اس کا منتظر نہیں   ہو گا؟ ملک کو کینسر زدہ کرنے والی یہ پاگل پن کی عادت محض چند احمق فسادیوں تک محدود نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *