سیاست اور نیا پاکستان

جہانگیر ترین، پرویز الٰہی اور دوسروں کے مابین گفتگو جو اس ویک اینڈ کے بعد سامنے آئیکی خبر اصل خبر سے بڑھ   کر پیالی میں ایک طوفان برپا کرنے جیسا  تھا۔

کون نہیں جانتا کہ پنجاب ایک کمزور چیف منسٹر اور ایک سے زیادہ پاور سینٹرز کے ساتھ چل رہا ہے؟ اور گجرات کے چوہدری ایک پاور سینٹر ہیں، اور اس معاملے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔  یہ دیکھتے ہوئے  کہ  ترین بھی  کبھی چوہدریوں کی پارٹی میں تھے ، یہ بات حیران کن بات نہیں  ہونی چاہیے کہ وہ چوہدری سرور سے اپنے اختلافات جہانگیر ترین سے ہی بیان کر سکتے ہیں۔

لیکن سامنے آنے والی گفتگو نے پنجاب  کی  اصل کہانی  سے پردہ اٹھایا ہے ۔ویڈیو کے بارے میں آنے والی خبروں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ طارق بشیر چیمہ کی شکایات  ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے حوالے سے  چوہدری سرور کی مداخلت کے بارے میں تھیں۔

تاہم، پی ٹی آئی حکومت تبادلوں اور پوسٹنگز کی سیاست کرنے والی نہیں تھی۔ یہی چیز تھی جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اور یہ پنجاب کی اصل کہانی ہے:''پی ٹی آئی کے اپنے اصلاحاتی ایجنڈا کو متوازن کرنے کی مشکلات (جو، کچھ لوگوں کے مطابق، کے پی میں منافع بخش رہی)  اور طاقت کی سیاست۔

عمران خان پنجاب کو مقامی حکومت اور ایک خود  مختار اور با اختیار پولیس فورس مہیا کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے  آس پاس کے لوگ ڈرتے ہیں کہ اس عمل میں پارٹی صوبے پر اپنی کمزور گرفت کھو سکتی ہے۔ اس لیے کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں حکومت تو بنائی لیکن صوبے میں اس کی فتح تکمیل سے کہیں دور ہے۔ اور یہ صرف صوبائی اسمبلی میں تعداد کی بات نہیں جہاں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این برابر برابر ہیں، بلکہ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگلے الیکشن میں پارٹی زیادہ سیٹیں کیسے جیت پائے گی۔

جولائی میں ہونے والے الیکشن  پی ٹی آئی  کی جیت سے زیادہ مسلم لیگ ن کے ہارنے سے تعلق رکھتے تھے ۔ نواز شریف کی فوج کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، ان کی طرف سے مزاحمت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش  اور اس نتیجہ میں پیدا ہونے والے واقعات جن میں نواز کی نا اہلی، احتساب مہم اور الیکٹیبلز کی پارٹی سے علیحدگی وغیرہ ، ان سب چیزوں سے یہ میسج ملا کہ پارٹی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اس کے باوجود  پی ٹی آئی  بمشکل صرف لاہور میں حکومت بنا سکی  وہ بھی اتحادیوں کی مدد سےممکن ہو سکا۔

اور کوئی بھی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ پی ٹی آئی اگلے انتخابات میں اس 'عمل' کو دہرا سکتی ہے کیوں کہ پی ایم ایل این اس وقت معلوم نہیں  عتاب کا سامنا کر رہی ہو گی یا نہیں۔  یہ صرف باہر والوں کے لیے ہی  نہیں بلکہ پی ٹی آئی پر بھی واضح ہے۔ شاید اسی وجہ سے پی ایم ایل این  نے ریفارم ایجنڈے پر عمل میں سستی کا رویہ اپنا رکھا ہے یا اس سے بھی زیادہ بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں۔

ڈویلپمنٹ فنڈز کے ایشو کو ہی لے لیجیے۔ عمران خان نے لگا تار یہ کہا ہے کہ ڈویلپمنٹ فنڈز مقامی حکومت کے ذریعے خرچ کیے جانے چاہییں نہ کے پارلیمنٹیرینز کے ذریعے۔ یہ اصول تھا جو انہوں نے کے پی میں بھی قائم کرنے کی کوشش کی جب  ان کی پارٹی 2013 سے 2018 تک  اقتدار میں تھی اور 2018 کے بعد اسے پنجاب میں بھی لاگو کیا جانا تھا۔

لیکن کچھ ماہ بعد ہی موقف دم توڑ گیا ۔

نیوز رپورٹس کے مطابق حال ہی میں وزیر اعظم نے (پارلیمانی پارٹی کے ساتھ میٹنگ کے بعد) اتفاق کیا کہ پنجاب میں ایم پی اے ڈویلپمنٹ فنڈ کی تجدید کی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ پریشان پارلیمنٹیرینز نے خان کو آمادہ کیا کہ ریاستی فنڈز کو سخاوت سے خرچ کیے بغیر وہ 2018 کی جنگ جیتنے کے باوجود پی ایم ایل این  سے جنگ ہارنے کے خطرے میں رہیں گے۔

پاکستانی سیاستدانوں کے لیے دلوں اور دماغوں کو جیتنا (اورشاید الیکشن کے دن ووٹ لینا) سہولیات کے لیے فنڈز کو بہائے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا جو روائتی طور  پرمقامی حکومت کا سر درد ہونا چاہیے۔ اور ڈویلپمنٹ فنڈز کے معاملے میں یہ پرانی سوچ نئے پاکستان کے خواب سے جیت گئی ہے۔

اور کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جہاں تک مقامی حکومتی نظام کا تعلق ہے پرانی سوچ تب بھی غالب رہے گی۔

یہاں بھی  پی ٹی آئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ  آئیڈیلزم اور پرتھکان پرانے سیاسی چیلنجز کے درمیان پھنسی ہوئی ہے ۔ موجودہ مقامی گورنمنٹ سسٹم پر پی ایم ایل این کا غلبہ ہے ۔ اور پنجاب میں بہت سے لوگ جو اس وقت حکومت میں ہیں کو یقین ہے کہ اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم کو متعارف کروایا جاتا ہے تو ان کی پارٹی مقامی انتخابات میں جیتنے کے قابل نہیں ہوگی۔ کیا ہو گا اگر پی ایم ایل این (جو پی ٹی آئی کی بنسبت انتخابات کے لیے زیادہ تیار رہتے ہیں) لوکل گورنمنٹ سیٹ اپ  میں کلین سوئیپ کر جاتی ہے؟ اس خوف  کو عوام کے سامنے بیان نہیں کیا جاتا، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نئے سسٹم کی زیادہ عمدہ تفصیلات  تلاش کر رہی ہے اور اس کی سینیئر قیادت کہتی ہے کہ بڑی اور مخالف اپوزیشن کے سامنے ان کی تعداد اس قانون کو منظور کروانے کے لیے کم ہے۔

کچھ لوگ تو اس حد تک کہتے ہیں کہ اس وقت لوکل گورنمنٹ کو طاقت کا حامل بنانے کے معاملے  میں پرانا آئیڈیا نئے پاکستان کے آئیڈیا پر غالب آ چکا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ  اس وجہ سے لازمی ہے کہ پارلیمنٹیرین کے ذریعے عوام پر خرچ کرنے کا معاملہ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک  حکومت میں اس قدر اعتماد پیدا نہیں ہو جاتا کہ وہ لوکل سطح پر نئے پاکستان کے نظریہ کو فتح حاصل کرتے نہ دیکھ لے۔

ایسے معاملات  کو مسترد کرنا مشکل ہے کیونکہ پاکستانی سیاستدان کبھی نہیں چاہتے کہ فنڈز اور خرچ کا معاملہ یا تھانہ کچہری کا معاملہ مقامی حکومت کے سپرد کر دیا جائے۔ حتی کہ پرویز مشرف بھی ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ لوکل گورنمنٹ ان کی کامیابیوں میں سے ایک تھی لیکن جس وقت انہوں نے عام انتخابات منعقد کروائے، اختیارات کی تقسیم کا عمل ختم ہو گیا۔

لہٰذا یہ ماننا مشکل نہیں کہ اگر پی ٹی آئی میں ایسا کوئی مباحثہ ہونے جا رہا ہے، اس کے دعویدار خان سے جیت جائیں گے کیوں کہ یہی طریقہ ہے جس پر سیاسی جماعتیں چلتی ہیں۔ جیت کا معاملہ اصلاحات پر ہمیشہ غالب رہا ہے ۔ آخر کار خان نے پہلی بار اس اصول کو اس وقت چنا جب انہوں نے ' الیکٹیبلز' کو انتخابات جیتنے کے لیے  اپنی پارٹی میں لیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پولیس ریفارمز پر کچھ سننے کو نہیں مل رہا  جب کہ یہ پی ٹی آئی کا ایک اہم ایجنڈا تھا۔ ۔ پاکپتن کی ناکامی، آئی  جی پنجاب کا تبادلہ،(جو کچھ ہی عرصہ بعد ہوا)  اور اس کے بعد ناصر درانی کا پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن سے استعفی، ان واقعات کے بعد لگتا ہے کہ پارٹی نے اس معاملے کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ جب پوچھا جاتا ہے حکومتی عہدیدار کہتے ہیں کہ یہ ہوگا لیکن تفصیل پوچھنے پر کوئی جواب نہیں ملتا۔ شاید یہاں بھی طاقت کے اصل کھروں نے خان کو نیاپاکستان بنانے کے لیے تھوڑے انتظار پر آمادہ کیا ہے۔

لیکن اصل چیلنج اقتدار کی ضروریات اور ریفارم ایجنڈا کے بیچ تواز ن پیدا کرنا ہے  نہ کہ ایک چیز کو چھوڑ کر ایک کو پکڑ لینا۔ موخرالذکر کو مکمل طور پر ترک کرنا زیادہ عرصہ تک خان  کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔ اگر وہ نیا پاکستان کی ایک یا دو انیٹیں نہیں لگاتے وہ پرانے پنجاب میں انتخابات جیتنے کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *