کوئٹہ کے ایمل کی کہانی

کوئٹہ سے بعض احباب کا کہنا تھا، عافیہ صدیقی کے بعد ریڈلی کی کہانی بھی تم بیان کر چکے، اب کوئٹہ والوں کا بھی حق ہے کہ ان کے ایک دلاور کا ذکر ہو۔ ایمل کانسی کا ذکر... یاد آیا، جدہ میں ایک اخباری ادارے میں ملازمت کے دوران، ایمل کی کہانی لکھی تھی۔ اتنے برسوں بعد جسے ڈھونڈنا آسان نہ تھا، لیکن وہ جو اقبال نے فرمایا تھا، ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں۔ ہم نے بھی کوشش کی اور وہ کہانی مل گئی:
''ورجینیا کے ایک دور دراز دیہی قصبے کی جیل میں قیدی نمبر253451 کا آخری وقت آ پہنچا تھا۔ اسے ایک مدت سے جس کا انتظار تھا۔
موت کا تصور بڑے بڑے شاہ زوروں پر لرزہ طاری کر دیتا ہے اور فولادی اعصاب برف کی مانند پگھلنے لگتے ہیں۔ لیکن عام سی جسامت والے اس 38 سالہ قیدی کا معاملہ مختلف تھا۔ وہ موت سے ہراساں تھا، نہ اپنے کیے پر پشیمان۔ وہ مطمئن اور آسودہ تھا۔ لگتا تھا کہ طمانیت اس کی جاں تک اتر گئی ہے۔ وہ روزے سے تھا۔ اپنی زندگی کے آخری افطارکے لیے اس نے ابلے ہوئے انڈوں، روٹی، چاول اور کیلے کی فرمائش کی تھی جو پوری کر دی گئی اور اس نے سیر ہو کر کھایا، جیسے وہ موت کے سفر پر نہیں، منزلِ جاناں کی جانب روانہ ہو رہا ہو۔
پروفیسر میاں سعید بھی اس کے پاس تھے، شمالی ورجینیا میں اسلامک سینٹر کے سربراہ‘ جنہوں نے 11 ستمبر2001ء کے بعد بھی اس سے ناتہ نہیں توڑا تھا۔ افطار سے فراغت کے بعد سفر کے لیے تیاری کا آغاز ہوا، اس عمل کے دوران بھی اس کے پائوں میں کوئی لغزش تھی، نہ ہاتھوں میں کوئی لرزش۔ پروفیسر میاں سعید سورہ یٰسین کی تلاوت کر رہے تھے۔ ایک گھنٹے بعد وہ تیار تھے۔ سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص نیلے رنگ کے لباس میں اس کا گورا چٹا رنگ اور بھی نکھر آیا تھا۔ ڈیتھ چیمبر کی طرف روانگی سے قبل اس نے موبائل پر کوئٹہ اپنی والدہ سے بات کی۔ یہی وہ لمحے تھے جب اس کے ہونٹ کپکپائے اور پلکیں نم ہوتی نظر آئیں اور پھر ڈیتھ چیمبر کی طرف جاتے ہوئے بھی پابجولاں قیدی کے وقار اور اعتماد میں کوئی کمی نہیں تھی۔
بستر مرگ پر باندھنے کے بعد اس سے کہا گیا کہ وہ جو کہنا چاہتا ہے کہہ لے۔ اس نے اپنے جکڑے ہوئے ہاتھ کی انگشت شہادت اٹھائی اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگا۔ چار منٹ بعد موت کا انجیکشن دے دیا گیا۔ ہوش سے مدہوشی اور پھر موت سے ہم آغوشی تک اس کے ہونٹوں پر اللہ کی وحدانیت اور محمدﷺ کی رسالت کا اقرار جاری رہا۔ دھڑکنوں کی رفتار کے ساتھ ساتھ آواز بھی مدہم ہوتی گئی اور بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔
ایمل کانسی کے سفر آخرت کی یہ داستان تصوراتی ہے نہ افسانوی۔ یہ اس کی موت کا نظارہ کرنے والوں کی رپورٹ ہے، جن میں کوئی بھی مرنے والے کا ہم مذہب نہ تھا، نہ ہم وطن اور ہم زباں۔ ان 10 افراد میں 6 سرکاری گواہ تھے اور 4 میڈیا والے اور یہ سب گورے چٹے امریکی تھے۔ ان میں واشنگٹن پوسٹ کا نمائندہ گئی ٹیلر بھی تھا اور ٹی وی چینل فور کا کرس گارڈن بھی۔ ایک کا کہنا تھا، ''مجھے اس کے جسم میں بے چینی یا چہرے پر پریشانی کی معمولی سی رمق بھی نظر نہیں آئی۔‘‘ دوسرے کی گواہی بھی مختلف نہ تھی، ''میں نے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کی ہلکی سی لہر بھی نہیں دیکھی۔‘‘
22 اکتوبر 1964ء کو کوئٹہ کے پختون کانسی قبیلے میں آنکھ کھولنے والا ایمل کم گو اور شرمیلا سا بچہ تھا۔ اس کے والد ملک عبداللہ جان کانسی کا ٹھیکیداری کے علاوہ بھی وسیع کاروبار تھا۔ ایمل نے گرامر سکول سے میٹرک، فیڈرل کالج سے گریجوایشن اور بلوچستان یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ اس دوران پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ ہوا اور اپنے دیگر طالب علم ساتھیوں کے ساتھ مختلف مظاہروں میں بھی شریک ہوتا رہا۔ ان میں ایک مظاہرہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بھی تھا لیکن وہ بنیادی طور پر کوئی مہم جُو یا ہنگامہ پرور نوجوان نہ تھا۔ پانچ وقت کے نمازی نوجوان کا بیشتر وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا۔ اس دوران دنیا کے مختلف خطوں میں جہادی تحریکوں کا آغاز ہو رہا تھا۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد ''ام الجہاد‘‘ بن گیا تھا۔ وہ کبھی کبھار اپنے دوستوں کے ہمراہ جہاد میں شرکت کے لیے افغانستان بھی نکل جاتا‘ لیکن اس نے کسی جہادی تنظیم کی رکنیت اختیار نہیں کی تھی۔ طالبان یا القاعدہ سے بھی کوئی تنظیمی تعلق نہیں تھا: البتہ کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں اس کے دوستوں میں طالبان بھی شامل تھے۔ اسامہ بن لادن سے صرف ایک بار اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ قندھار میں یہ ملاقات صرف ہاتھ ملانے تک محدود رہی تھی۔
والد کی وراثت سے 65 لاکھ روپے اس کے حصے میں آئے تو اس نے امریکہ کا رخ کیا۔ یہ 1991ء کی بات ہے۔ اس کا ارادہ ورجینیا میں مقیم اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر کوئی بزنس وغیرہ کرنے کا تھا۔ آغاز میں اس نے ایک کوریئر سروس میں ملازمت کر لی۔ سی آئی اے کے ایک سابق اعلیٰ افسر کا بیٹا کرس مارسنی اس کمپنی کا مالک تھا۔ یہ کمپنی سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں اہم پیکٹ بھی پہنچاتی تھی۔ شاید اسی وجہ سے ایمل پر بھی سی آئی اے کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جنرل حمید گل بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے اور انہوں نے اگست 1998ء میں اپنے ایک انٹرویو میں ایمل پر سی آئی اے کی ایجنٹی کا الزام عائد کر دیا۔ ان کے بقول، جو پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر سی آئی اے کے لیے کام کرتا رہا تھا۔
عراق پر امریکی بمباری اور فلسطین سمیت مسلمان اقوام کے متعلق امریکی پالیسی حساس اور جذباتی ایمل کے اضطراب میں اضافے کا باعث بنتی گئی۔ وہ اس پر ''موثر احتجاج‘‘ کرنا چاہتا تھا جس کی لہروں سے امریکہ کے پالیسی ساز ایوان متاثر ہوئے بغیر نہ رہیں۔ کسی ''دہشت گرد‘‘ تنظیم سے اس کا کوئی رابطہ نہ تھا۔ اس نے خود ایک فیصلہ کیا اور اس پر عملدرآمد کے لیے چینی ساخت کی AK-47 کلاشنکوف خریدی۔ 25 جنوری 1993ء کی صبح اس کا رخ ورجینیا میں سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کی جانب تھا۔ سٹریٹ 123 کے چوک میں سرخ بتی پر وہ گاڑی سے نکلا اور سی آئی اے کے اہل کاروں کی گاڑیوں پر فائرنگ کر دی جو سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے مین گیٹ کی طرف مڑنے کے انتظار میں تھیں۔ اس حملے میں 2 اہل کار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ یہ رش کے اوقات تھے اور ایمل کو حیرت تھی کہ وہ اتنی بڑی واردات کے بعد اس اژدھام سے بچ نکلنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔
اگلے روز وہ پاکستان کی طرف محوِ پرواز تھا۔ امریکہ نے اپنے مطلوبہ ٹاپ ٹین ملزموں کی فہرست میں شامل کر کے اس کی گرفتاری کے لیے 20 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر دیا۔ اپنے زخموں کو یاد رکھنے اور دنیا کے آخری کونے تک دشمن کا تعاقب کرنے والے امریکی، ایمل کانسی کی تلاش میں تھے اور بالآخر ساڑھے چار سال بعد 13 جون 1997ء کی شب انہوں نے اسے ڈیرہ غازی خاں کے ایک ہوٹل میں جا لیا۔ روپوشی کے اس عرصے میں بلوچستان میں بگٹی نواب سے لے کر ڈیرہ غازی خاں کے کھوسہ سردار تک اسے پناہ دینے والوں نے سخت سے سخت دبائو اور بڑے سے بڑے لالچ کے باوجود جس طرح اپنا فرض نبھایا اور بالآخر ایمل اپنے ہی دوستوں کی جس بے وفائی کا شکار ہوا، وہ ایک الگ داستان ہے۔
امریکہ نے اپنے ایک اور ''خطرناک ترین‘‘ دشمن سے نجات حاصل کر لی لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ اپنی ان پالیسیوں سے نجات کب پائے گا جو مشرق سے مغرب تک اس کے خلاف نفرت اور اضطراب کا طوفان اٹھا رہی ہیں... اور یہ بھی کہ وہ کیا چیز ہے جو گوشت پوست سے بنے ہوئے نرم و نازک بدن میں فولاد کی سی سختی اور پہاڑ جیسی استقامت پیدا کر دیتی ہے؟‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *