تاریخ کا بوجھ اور قحط الرجال

تاریخ کا بوجھ کچھ کم نہیں تھا کہ قحط الرجال نے ہمارے گھر کا رخ کر لیا۔ کیا ریاستیں اس طرح چلتی ہیں؟
ہم باؤنڈری کمیشن کے سامنے بے بس ہو گئے۔ گورداسپور ہمیں نہیں مل سکا۔ مشرقی پاکستان مل گیا کہ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت اسے پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ جغرافیائی صداقتیں اپنے آپ کو منوا کے رہتی ہیں۔ زمینی فاصلوں کو شاید کم کیا جا سکتا اگر معاملات صاحبانِ بصیرت کے ہاتھ میں ہوتے اور وہ دلوں کو جوڑ دیتے۔ زمینی فاصلے کیا کم تھے کہ دلوں میں فاصلے بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ قحط الرجال کا برا ہو کہ جو آیا، فاصلوں کو بڑھاتا چلا گیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کچھ نتائج مزید بھی ہیں مگر قحط الرجال کا موسم ابھی تمام نہیں ہوا۔
قحط الرجال کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان ہماری خارجہ پالیسی میں سب سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کو اب بھارت سے زیادہ افغانستان سے خطرات لاحق ہو گئے۔ بھارت کو براہ راست اقدام کی ضرورت نہیں کہ افغانستان اس کی ' فرنٹ لائن سٹیٹ‘ بن چکا۔ کل ہم بھی اِسی طرح ایک عالمی قوت کی 'فرنٹ لائن سٹیٹ‘ تھے۔ تاریخ کا یہ کیسا مذاق ہے کہ میدان جنگ اس وقت بھی افغانستان ہی تھا۔
اسلام آباد سے پولیس کا اعلیٰ افسر اغوا ہوا اور اس کا بے جان جسم افغانستان سے واپس آ گیا۔ جان اس کی وہیں رہ گئی۔ ایک ملک جو دوست ہو سکتا تھا، ہمارے لیے مقتل بن گیا، یا پھر ہمارے مجرموں کے لیے پناہ گاہ۔ کہتے ہیں روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا‘ ہم نے افغانستان میں اس کا راستہ روک دیا۔ روس تو نہیں مگر چین گرم پانیوں تک پہنچ گیا، ایک باہمی معاہدے کے نتیجے میں۔ ایسا معاہدہ روس کے ساتھ بھی کیا جا سکتا تھا۔ اگر ہم امریکہ کی گرفت میں نہ ہوتے تو روس سے دوستی کی جا سکتی تھی۔ ہم مگر اشتراکیت کو اسلام اور سوویت یونین کو پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔ آج بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ داری اسلام اور امریکہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس بصیرت کی داد دیجیے کہ ہم نے ستر برسوں میں صرف خطرات کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور دشمنوں کی تعداد میں بھی۔
خارجی خطرات جب اس سطح تک پہنچ جائیں تو پھر بقا کے لیے دو امور اہم ہوتے ہیں: قومی وحدت اور ریاستی حکمتِ عملی کی تشکیل نو۔ دونوں کاموں کے لیے رجال کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر سیاست دان نہیں لیڈر اہم ہوتا ہے۔ سیاست دان قوم کو تقسیم کرتا ہے، لیڈر جمع کرتا ہے۔ سیاست دان کا مفاد اس میں ہوتا ہے کہ ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے بالمقابل لا کھڑا کیا جائے۔ جارحیت اور ہیجان پیدا کیا جائے۔ لیڈر اتفاقات پر اصرار کرتا اور کسی بڑے مقصد کے لیے لوگوں کو جمع کر دیتا ہے۔ مثال سے یہ واضح کروں تو قائد اعظم لیڈر تھے اور جی ایم سید سیاست دان۔
پاکستان آج بڑے لیڈر سے محروم ہے۔ عمران خان وزیر اعظم تو بن گئے لیڈر نہیں بن سکے۔ ان کے ایجنڈے میں قومی وحدت کا کوئی نکتہ شامل نہیں۔ ان کا ہر وزیر ایسی شمشیرِ برہنہ ہے جو مقابل صفوں کو چیرنا چاہتی ہے۔ سب کے ہاتھ میں تلوار ہے، مرہم کسی کے پاس نہیں۔ پارلیمان خارجہ پالیسی کا ماخذ نہیں بن سکی۔ معلوم نہیں یہ کس ٹکسال میں ڈھلتی ہے۔ تاہم یہ معلوم ہے کہ جہاں ڈھلتی ہے، وہاں شدید قحط الرجال ہے۔
یہ طے ہے کہ ڈیڈ لاک ہے۔ معاملات آگے نہیں بڑھ رہے۔ ہم حالات کے رحم و کرم پر ہیں اور ردِ عمل میں فیصلے کرتے ہیں۔ افغانستان کے باب میں کسی نئی پالیسی کا کہیں گزر نہیں۔ واقعات کی گواہی یہ ہے کہ تلخی مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ فاصلوں میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔ امریکہ نے بھی جان لیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے کے لیے خود کو مضبوط بنا لیا ہے۔ اس کو زخم پہنچانے کے لیے اب افغانستان سے بہتر کوئی روزن نہیں۔ اس کی تمام تر توجہ بھی اسی پر ہے، بھارت کی بھرپور تائید کے ساتھ۔ اس صورت حال میں سابق حکمتِ عملی پر اصرار خود کشی کے سوا کچھ نہیں۔ 
آج ملک میں کوئی ایسی شخصیت یا ادارہ موجود نہیں ہے جو قوم کو کسی ایک نکتے پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ سیاسی راہنما گروہی مفادات کی اسیر ہیں اور ریاستی ادارے متنازعہ ہو چکے۔ یہ معمولی خسارہ نہیں ہے‘ جو ماضی کی حکمتِ عملی کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ میں تکرار کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں، سیاسی استحکام ہے۔ افسوس کہ کوئی اس کو سننے کے لیے تیار نہیں۔
کاش مدینہ کی ریاست کا خواب دکھانے والے ایک نظر اسوہ حسنہ پر ڈال لیتے۔ یہ ریاست اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر تھی۔ آپﷺ کی پہلی ترجیح قبیلوں اور مذاہب میں منقسم، ریاست یثرب کا استحکام تھا۔ ادھورا علم جہالت سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ لوگوں کو آپﷺ کا وہ ارشادِ گرامی تو یاد ہے جس میں آپ نے بڑے لوگوں کو قانون سے ماورا قرار دینے کی وعید سنائی لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ آپﷺ نے عبداللہ ابن ابی جیسے قومی مجرموں کو، ان کی سازشوں اور جرائم کے باوجود، مسلسل نظر انداز کیا کہ سیاسی استحکام کے لیے یہی ضروری تھا۔
علم محض روایات کو نقل کرنے کا نام ہوتا ہے تو ان دو باتوں میں تطبیق مشکل ہو جاتی۔ قرآن مجید نے اپنے بارے میں یہ کہا کہ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو تم دیکھتے کہ اس میں اختلاف ہے۔ قرآن میں اختلاف کا نہ ہونا، اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ بھی اختلاف سے پاک تھی اور یہ آپﷺ کے اللہ کا رسول ہونے کی ایک دلیل ہے۔ عبداللہ ابن ابی جیسے جرائم پیشہ کو نظر انداز کرنے کی حکمت یہ تھی کہ اس کے خلاف اقدام یثرب میں انتشار پیدا کر سکتا تھا‘ جس سے ریاست کا استحکام متاثر ہوتا۔ یہ آپﷺ کی حکمت ہے جس نے یثرب کو 'مدینہ‘ ہی نہیں، مدینہ منورہ بنا دیا۔ 
جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں، انہیں سب سے پہلے سمجھنا ہو گا کہ بطور حکمران آپﷺ کا اسوہ کیا ہے؟ مدینہ آنے کے بعد، آپ نے کس طرح اپنی ترجیحات کو متعین فرمایا؟ آپ نے جب با اثر لوگوں کو قانون سے ماورا سمجھنے کا نقصان بیان کیا تو اس کا سیاق و سباق کیا تھا؟ اگر عبداللہ ابن ابی کے جرائم سے صرفِ نظر کیا تو اس کی حکمت کیا تھی؟
افغانستان، بھارت اور ایران میںگھرا ایک ملک خارجی خطرات سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ بالخصوص ان خطرات سے، جو افغانستان کی طرف سے امڈے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف نفرت صرف حکومتی سطح پر نہیں ہے۔ اسے وہاں کے گلی بازار میں پھیلا دیا گیا ہے۔ طالبان نے جس طرح افغانستان کے امن کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے، اس کا ذمہ دار بھی پاکستان کو سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کا حلقہ اثر محدود ہے۔ افغانستان میں ان کے مخالفین بھی بہت ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ملک کا امن برباد کر دیا ہے۔ وہ ان کی سرگرمیوں میں بھی پاکستان کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔
ہمیں اس فضا کو بدلنا ہے۔ اس کے لیے ہمیں قومی وحدت کو تلاش کرنا ہے اور اس کے ساتھ خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو بھی ناگزیر ہو چکی۔ دونوں کاموں کے لیے رجالِ کار کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کرپٹ لوگوں کا پیچھا کر رہے ہیں اور ادارے متنازعہ ہو چکے۔ قحط الرجال کا ایسا موسم پاکستان پر پہلے کب اترا تھا؟ اب فضا کو کون بدلے گا؟ 
ہم تاریخ کے فیصلوں کے اثرا ت سے نہیں نکل سکے کہ بے بصیرتی کے فیصلے بھی ان میں شامل ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *