ایک جیسے لیکن مختلف

آئیں اس نا خوشگوار  معاملے سے نمٹ لیتے ہیں

یاد ہیں وہ 200 بلین ڈالرز کو جو پی ٹی آئی واپس لانے والی تھی جب وہ اقتدار میں آئی؟ اچھا اندازہ لگائیں کہ اس معاملے کی حقیقت کیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ  ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہاں، پی ٹی آئی کے اندر کسی نے یہ مفروضہ پیش کیا۔  یہ رقم کبھی واپس نہیں آئے گی ۔ ہاں، یہ سب ایک چکما تھا۔ لیکن  پھر بھی اس کے آگے بڑھا یا جا رہا ہے۔

وہ وعدہ یاد ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک بار اقتدار میں آ جانے سے 90 دن میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا؟ اچھا، تو اندازہ لگائیں کیا ہوا؟ اگرآپ  ان میں سے ایک ہیں جن کو یقین تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، تو  پھر آپ کو بیوقوف بنایا گیا ہے ۔ لیکن کوئی بات نہیں آگے چلیں

 وزیر اعظم کی بیرون ملک پاکستانیوں کو اپیل اور ان کا دعویٰ کہ پاکستان کے مالیاتی مسائل حل ہو جائیں گے جب وہ ایک بار اقتدار میں آئیں گے کیوں کہ وہ پوری دنیا سے فنڈز اکٹھے کریں گے؟  اندازہ لگائیں کہ وہ کیا تھا؟  وہ میگا ڈالرز ایک افسانہ اور ایک مذاق، اور  پی ٹی آئی کے خوابوں کے محل میں سے ایک اختراع تھی۔ کسی کے پاس کہیں سادہ طرز حکومت کا بیانیہ تھا ؟ لیکن جانے دیں ۔۔۔

یاد ہیں میرٹ کے بارے میں بلند وبانگ دعوے  کہ ہر تعیناتی میرٹ پر ہوگی؟ اندازہ لگائیں کہ اس کا کیا ہوا؟ دوست معجزانہ طور پر میرٹ کے لیے اہل ہیں بنسبت ان کے جو دوست نہیں ہیں، اور آئی جی اور ڈی پی اوز کا ان بنیادوں پر تبادلہ کیا جاتا ہے جو میرٹ  کا مذاق بنا دیتی  ہیں؟ لیکن چلیں جانے دیں۔

یاد ہیں وہ وعدے کے پنجاب کو خیبر پختونخواہ کے گڈ گورننگ  ماڈل کے مطابق  بنائیں گے اورصوبے کو ااچھی قیادت فراہم کریں گے جو شہباز شریف کے ترتیب دیے گئے معیاروں کے پتے پلٹ دے؟ اندازہ لگائیں کہ ان وعدوں کا  کیا ہوا؟ ایک کمزور چیف منسٹر اور تین طاقتور شخصیات کو  گورنر، سپیکر اور سینیئر منسٹر  بنا کر ایسی صورتحال پیدا کی گئی ہے کہ کسی کو پتا نہیں کہ انچارج کون ہے اور کون ایسی قیادت مہیا کر رہا ہے جس کے ذریعے  پنجاب کو جنت بنا دیا جائے گا۔  ہفتے والے دن  جو ویڈیو لیک  ہوئی اس میں  ایک پی ایم ایل کیو منسٹر کو جہانگیر ترین کے سامنے گورنر کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے  دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ویڈیو پنجاب میں موجود باہمی اختلافات  اور پی ٹی آئی کے بہترین منصوبہ بندیوں کو  خراب کرنے کی دھمکیوں سے پی ٹی آئی کے خوف کی تصدیق کرتی ہے۔ لیکن خیر، چلنے دیں ۔

یاد ہے ہیلی کاپٹرز اور فرسٹ کلاس سفر اور پرٹوکول اور بڑے گھروں میں رہنے پر برہمی جیسے بلند و بانگ دعوے اور وعدے؟  اندازہ لگائیں کہ کیا ہوا؟  تقریبا  سارا بچگانہ نوعیت کا  جوش  مضمحل ہو گیا ہے اور حالات وہی عام طرز حکومت اور پروٹوکول کی طرف  واپس پہنچ گئے ہیں ۔ کیا وہ تبدیلی آئی جس کے آپ منتظر تھے؟ یہ محض ایک دھوکہ تھا ۔ لیکن پھر بھی چلنے دیں۔

اس سے کے ذریعے ہم اس تلخ حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں  اور 100 کی تکمیل پر ہم نیا پاکستان کے حقیقی چہرے سے مکمل طور پر واقف ہو چکے ہیں۔ اب یہ سب سے اچھا وقت ہے کہ اس چہرے کی  جعلی ڈیکوریشن سے ہٹ کر اس کی عمومی صورتحال کو اپنا لیا جائے۔

رنگ بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہماری تمام  مصنوعی  روشنیوں کے پیچھے عمومیت کے گہرے ذخیرے پوشیدہ ہیں۔ یہ ایک عمومیت ہے جو ہمارے خراب تعلیمی نظام کی گود میں پلتی ہے، جس کو قانون کی عدم مساوات سے تسکین دی جاتی ہے اور جس کو اس علم کے ساتھ پختہ کیا جاتا ہے کہ یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں کہ آپ کیا جانتے ہیں بلکہ اس کی قیمت ہے کہ آپ کس کو جانتے ہیں۔

اس معاملے میں معمولی ہونا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ معمولی ہونا  کافی اچھا تصور کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو یہ احساس کرنا ہو گا کہ بطور وزیر اعظم وہ ونسٹن چرچل کا مقابلہ نہیں کر رہے بلکہ نواز شریف کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ اب بھی شریف سے بہتر لیڈر بن سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں شریف کو عمومیت کے ساتھ شکست دینی ہو گی جو کہ ان کے اختیار میں ہے۔

عمومیت کو قبول کر لینا نہ صرف خان کے لیے بہتر ہے بلکہ ان کی پارٹی اور پورے ملک کے لیے بھی بہتر ثابت ہو گا۔ یہ چیز انہیں  ان کی اصل جگہ پر لے آئے گی  اور ان کی پارٹی کو بھی اصل حالت میں بحال کرے گی  اور انہیں پی پی اور ن لیگ کا درست مقابل سمجھا جائے گا۔

ولیم شیکسپیئر سے انتہائی معذرت کے ساتھ: ''کیا انصافی لوگوں  کے ہاتھ ، جسمانی اعضا، جہات، شعور، محبتیں، جذبات اسی خوراک پر انحصار نہیں کرتے، انہی ہتھیاروں سے  زخمی نہیں  ہوتے، انہی بیماریوں کا شکا ر نہیں ہوتے، انہی ذرائع سے علاج نہیں  کرواتے،  انہی سردیوں اور گرمیوں سے ان کو تپش اور ٹھنڈک نہیں ملتی  جس سے ایک نونی ''ن لیگ کے ارکان'' یا ان کے جیالوں کو ملتی ہے؟اگر آپ ہمارے جسم میں سوئی چبھائیں تو خون نہیں نکلے گا؟ اگر آپ ہمیں گدگدی کریں گے تو کیا ہم ہنسیں گے نہیں؟''

پی ٹی آئی کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اسے اسی دھاگے سے بنا جاتا ہے، اسی کپڑے سے کاٹا جاتا ہے اور اسی دکان سے سیا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی لوگوں کی سپورٹ کرتی ہے جو اسی زمین پر پلے بڑھے ہیں، اسی مائنڈ سیٹ کے حامل ہوتے ہیں، اسی ثقافتی اور سیاسی ماحول  میں پرورش پاتے ہیں، انہیں عقائد کے حامل ہیں اور انہیں ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں  تا کہ کامیابی، شہرت اور فائدے  کا حصول ممکن بنا سکیں۔

اور انہیں انہی معیاروں پر جانچا جاتا ہے۔

ایک جیسے ہونے کے باوجود پارٹی میں بہت سے لوگ اب بھی اپنے بارے میں نظر کے دھوکے کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ اصل میں اپنے بیانیے کی جعلی  چکا چوند سے متاثر ہیں۔  لیکن  نظر کی فریبی اور بیانیے کی چکا چوند عومیت  کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتی ہے۔اسی عمومیت سے پی ٹی آئی کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ غلطیاں کریں اور ان سے سبق سیکھیں ۔ یہ  عمومیت  ہی وہ چیز ہے جو عمران خان کو ان کے اپنے الفاظ کے جادو سے نکال کر ایک عام آدمی بننے میں مدد فراہم کر سکتی ہے تا کہ انہیں ایک عام شخص کی طرح ہی  سمجھا جائے ، انہیں  عام انسان سمجھا جائے جو غلطی کر سکتا ہے  جیسے کہ ہر انسان کرتا ہے۔ ایک عام آدمی کچھ معاملات میں بہت اچھا ثابت ہوتا ہے اور کچھ مین کمزور رہتا ہے۔

پاکستان کی سیاست کو معمول کی طرف مڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسا معمول استحکام کو تقویت دے گا ۔ لیکن اس معمول میں  آنے کے لیے عمومیت کو قبول کرنے کی ضرورت ہے جس  کے مطابق یہ سمجھ لیا جائے کہ پی ٹی آئی وزرا  سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور ہمیں ہر معاملے میں ان کے دفاع کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس عمومیت کے بعد وزیر اعظم زیادہ محتاط ہوں گے اور  ایسے وعدےکریں گے جو پورے بھی کیے جا سکیں۔ ایسی عمومیت میں پنجاب حکومت کی غلطیوں پر تنقید کی جا سکے گی اور آسمان نہیں گرے گا۔ اور جس میں عدالتی  سماعت، دھرنے، ریاستی رٹ کو درپیش چیلنج ، اور حکومت کی نا اہلی  جیسے معاملات میں اس عمومیت کو مد نظر رکھا جائے گا۔

ایک بار جب ایسی عمومیت کو قبول کر لیا جائے گا تو عمران  خان اپنی پرفارمنس کے زریعے اپنے سے کم معمول لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کارکردگی میں انہیں منڈیلا کی سطح پر جانے کی ضرورت نہیں ہے  بلکہ  انہیں نواز  شریف سے تھوڑا بہتر بننے کی ضرورت ہے۔ تب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔  ہماری عمومیت ہمیں یکجا کرتی ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے سامنے  بھی ایک عام چیلنج پیش کرتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عام انسان تمام انسانوں سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *