عدالت نے بغاوت کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلیے

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلیے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے جونئر وکیل کہنا تھا کہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میں پیشی کے باعث پیش نہیں ہو سکتے۔

بعد ازاں نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی۔

عدالت نے صحافی سرل المیڈا کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ شہری آمنہ ملک اور پاکستان زندہ باد پارٹی نے لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق وزرائے اعظم کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے دونوں وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

8 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے بغاوت کیس میں ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔

22 اکتوبر 2018 کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران نواز شریف کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی تھی۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال مئی میں ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *