جوئے شیر لانا

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ہم لاہور کے ایک مشہور و معروف تعلیمی ادارے سے وابستہ تھے ویسے تو ہم اب بھی جس ادارے سے وابستہ ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے لیکن ماضی تو پھر ماضی ہے۔ اور انسان بھی عجیب مخلوق ہے حال سے کبھی خوش نہیں رہتا ۔ ہمیشہ ماضی کی یادیں ہی اسے سنہری لگتی ہیں ۔ رات کو مطالعہ کر کے سونے کی عادت بھی قصہ پارینہ بن چکی اب تو ہم میڈیا گردی کرتے ہیں اور اسی میڈیا گردی کے دوران ہماری نظر اردو کے ایک محاورے پر آ کر جیسے رک ہی گئی اور ہم آج سے کچھ سال پیچھے چلے گئے جب ہم سینیئر سکول کے طلبا کی اردو کی کلاس میں محاوروں اور ان کے مفہوم پر روشنی ڈالنے کو بے تاب تھے۔ ہمیں طلبا پر "جوئے شیر لانا" کا معنی و مفہوم آشکار کرنا تھا۔ ہم نے تختہ سفید پر سیاہ مارکر سے محاورہ لکھا اور بڑا ماحول بناتے ہوئے لگے طلبا کو شیریں اور فرہاد کی داستانِ محبت سنانے کہ کس طرح فرہاد نے شیریں کے باپ کی فرمائش پر پہاڑ سے نہر کھود نکالی جو کہ شیریں کے محل تک آتی تھی۔ سالوں کی مشقت کے بعد جب فرہاد کامیاب و کامران واپس لوٹا تو اسے شیریں کے باپ نے شیریں کی ناگہانی موت کی جھوٹی کہانی سنا ڈالی۔ جس پر فرہاد نے اسی تیشہ سے اپنی جان لے لی جس سے اس نے نہر نکالی تھی۔ ہم محبت کی اس الم ناک داستان کو سناتے ہوئے خود بھی دل گیر ہوئے جاتے تھے اور یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ہمارے ان جوان ہوتے طلبا کے ذہنوں پر سچی محبت کا کیسا گہرا نقش بنے گا لیکن یہ خواب اس وقت چکنا چور ہو گیا جب ہماری کلاس کے ایک "ہونہار" طالب علم کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی کہ
" میم! فرہاد کتنا پاگل تھا۔۔۔ ایسے ہی اپنی جان لے لی۔ آج کل تو جتنی چاہیں۔۔۔ شیریں تلاش کر لیں"
اس کے اس جملے کے جواب میں پچیس کے پچیس لڑکوں نے اس کی یوں تعریف کی کہ جیسے صاحب صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی جیت کر آئے ہوں اور ایک ہم تھے کہ اس طالب علم کو گہری نظروں سے دیکھنے لگے جیسے ہمیں اس میں مستقبل کا بہت بڑا اور سچا عاشق نظر آ رہا ہو۔ ایک لمحے کو تو لگا کہ یہ محاورہ ہی غلط ہے لیکن پھر ہم بھی ٹھہرے استاد۔ اس محاورے پر تحقیق اور عملی زندگی میں اس کے اطلاق پر غور شروع کر دیا۔
اب اس نئی نسل کے بھی کیا کہنے۔ یہ مانے یا نہ مانے جوئے شیر تو ان کو بھی لانا ہی پڑتا ہے۔ کالج کے لڑکے صبح صبح تیار ہو کر سڑک پر نکل آتے ہیں کہ جناب علم کی دولت سمیٹنے جا رہے ہیں
ہمیں نہ روکو۔۔۔ ہمیں نہ ٹوکو۔۔۔
دل ان کو دیکھ کر باغ باغ ہوا جاتا ہے۔ حلیہ ان کا کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ پریشانی کے عالم میں استری کی گئی سفید شرٹ گلے میں جھولتی یونیفارم کی ٹائی اور پینٹ کے تو کیا کہنے۔ یوں لگتا ہے کہ ابھی گری۔۔۔ وہ تو بھلا ہو بیلٹ نما اس چیز کا جو ان کی عزت کی محافظ ہوتی ہے۔ اور جوتے۔۔۔ جوتوں کو تو کبھی پالش کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ دکھاوے کے لیے کندھے پر ایک بیگ بھی ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ اندر سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ہمیں 12 سال ہو گئے ان کا سر تا پا جائزہ لیتے ہوئے لیکن مجال ہے جو ان کے حلیے میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ بالکل فرہاد کی طرح پرعزم ہیں۔ ان کا مشغلہ کالج جانے اور واپسی پر پبلک ٹرانسپورٹ کو "ڈک" لینا ہے۔ اور یہ کوئی آسان مشغلہ نہیں ہے اس کے لیے انھیں جوئے شیر لانا پڑتا ہے۔ صبح صبح کوسٹرز کو زبردستی روکنا اور اس میں اپنے لیے گنجائش پیدا کروانا ان کے دن کا پہلا ٹارگٹ ہوتا ہے۔ اسے کوئی آسان کام نہ سمجھا جائے۔ بے چاروں کو اس کے لیے ہر حد سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو دھمکیوں سے کام چل جاتا ہے لیکن کبھی ان غریبوں کو گاڑیوں کے شیشے توڑ کر یا کنڈکٹر کو پیٹ کر اپنی اہمیت کا احساس دلانا پڑتا ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات والا معاملہ ہے۔ اسی نسل نے تو آگے چل کر ملک سنبھالنا ہے۔ ابھی سے محنت کریں گے تو ثمرات نظر آئیں گے۔
ان طلبا کی آنیاں اور جانیاں تو ایک طرف۔ پورا سال کالج محلے اور سڑکوں پر غنڈہ گردی کرتے گزر جاتا ہے۔ پڑھنا پڑھانا تو ان کے مسلک کا حصہ نہیں سو اس کی نوبت کبھی نہیں آتی۔ اور یہ بھی دل و جان سے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہیں اب امتحان لینے والوں کو ان کے مسلک یا عقیدے سے کیا غرض۔ انھوں نے تو سال کے آخر میں سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ نتیجہ وہی کہ اب ان غریب بے چارے اور معصوم طلبا کے لیے امتحان میں پاس ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف بن جاتا ہے۔ اب کون سنے ان کی فریاد ۔ جو بویا تھا وہ کاٹنا پڑ گیا۔ لیکن یہ بھی کہاں سمجھنے والے ہیں۔ ان میں سے اکثر لڑکے پہلی فرصت میں اپنی اپنی شیریں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں مگر جناب یہ شیریں بھی تو آج کے زمانے کی شیریں ہے۔۔۔۔ چھوٹے موٹے فرہاد پر تو وہ بھی کمپرومائز نہیں کرتی۔ اب فرہاد صاحب جتنے ویل سیٹلڈ ہوں گے اتنے ہی کامیاب عاشق قرار پائیں گے۔ باقی بے چارے وہی اس فیلڈ میں آپ کو جوئے شیر لاتے نظر آئیں گے۔
لیں جی ہم نے تو اپنے طلبا کے گوش گزار کر دیا کہ کارزارِ حیات میں جوئے شیر لانے کے معانی و مفہوم اور اہمیت و افادیت کیا ہے۔ انھیں اب۔۔۔۔
کوئی بتلاو کہ ہم بتائیں کیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *