چند سیکنڈز میں جسم کی تھری ڈی اسکیننگ دکھانے والا طبی اسکینر تیار

کیلیفورنیا: ایک عشرے کی بھرپور محنت کے بعد پورے جسم کی اسکیننگ کرنے والا پی ای ٹی یا پوزیٹران ایمیشن ٹوموگرافی اسکینر تیار کیا گیا ہے جو موجودہ پیٹ اسکینر سے 40 گنا تیز رفتار ہے اور صرف ایک اسکین میں پورے جسم کا تھری ڈی ماڈل تیار کرسکتا ہے۔

اسے ایکسپلورر کا نام دیا گیا ہے جس میں پی ای ٹی اور ایکس رے کمپیوٹر ٹوموگرافی کو باہم ملاکر استعمال کیا گیا ہے۔ کئی سال کی مسلسل محنت کے بعد اس کا پہلا نمونہ 2016ء میں سامنے آیا تھا جو قدرے چھوٹا تھا اور اس کے بعد پورے انسانی قد کے برابر اسکینر حال ہی میں بنایا گیا ہے۔

اسے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ڈے وِس اور چین میں شنگھائی امیجنگ ہیلتھ کیئر نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔ اسکینر کے حیرت انگیز نتائج دیکھ کر ماہرین بہت خوش ہیں اور ان کے مطابق اسے مریضوں کے علاج اور تحقیق میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں نیوکلیئر میڈیسن کے ماہر اور اسکینر انجینئر رامسے بداوی نے کہا کہ ’اگرچہ یہ حیرت انگیز تصاویر اور تفصیل دکھاتا ہے لیکن اس میں تصاویر جوڑنے کا عمل مزید بہتر بنایا جائے گا، یہ عام پی ای ٹی اسکینر کے مقابلے میں بہت آگے ہے، اب تک ایسا کوئی آلہ نہیں بن سکا جو اس طرح کا تفصیلی جسمانی ڈیٹا ظاہر کرسکے‘۔

ایکسپلورر 20 سے 30 سیکنڈ میں پورے جسم کا اسکین بنالیتا ہے جو روایتی پی ای ٹی اسکینر کے مقابلے میں 40 گنا حساس اور تیز ہے۔ اس کے لیے مریض کو ریڈیائی ٹریسر کی کم مقدار دی جاتی ہے اور اس کے بدلے تفصیلی تصاویر لی جاسکتی ہیں جس کی بدولت سالماتی سطح پر بھی مرض کو جاننے میں مدد ملے گی۔

توقع ہے کہ ایکسپلورر سے بیماریوں کی تشخیص میں بہت مدد ملے گی اور شاید ہم امراض کو ایک نئے انداز سے جان پائیں گے۔ اس اسکینر کی تفصیلات شکاگو میں منعقدہ ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی جائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *