رات کے مقابلے میں دن میں زخم تیزی سے مندمل ہوتے ہیں، تحقیق

کیمبرج: ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ رات کی نیند دن بھر کی تھکاوٹ اور بدن کی ٹوٹ پھوٹ کو دور کرتی ہے لیکن جب زخم بھرنے کی بات ہو تو رات کے مقابلے میں دن میں زخم تیزی سے ٹھیک ہوتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ اندرونی جسمانی گھڑی (سرکاڈیئن ردم) کے تحت جسم کے کئی افعال دن کے وقت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں اور ان میں انسانی خلیات (سیلز) کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی بھی شامل ہے جس سے زخم تیزی سے بھرتے ہیں۔

اس سے قبل سائنس کے علم میں اتنا ہی تھا کہ دماغ کا ایک اہم حصہ ’ہپوتھیلے مس‘ انسانی جسمانی گھڑی کا مرکز ہے لیکن معلوم ہوا ہے کہ اس کا اثر تو جسم کے ایک ایک خلیے پر بھی ہوتا ہے اسی کے تحت جسم کے ناسور اور زخم رات کی بجائے دن میں ڈرامائی انداز میں تیزرفتاری سے بھرتے ہیں۔

اس ضمن میں 2017ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے زخم بھرنے میں مددگار جلد کے خلیات ’فائبرو بلاسٹس‘ کا جائزہ لیا جو چوٹ کی صورت میں ایک جگہ سے دوسرے مقام تک جاتے ہیں اور کولاجن جیسے پروٹین بنا کر زخم بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زخم پر بافتوں (ٹشوز) کی تہیں بناتے ہیں۔

لیکن یہ عمل اتنا سادہ نہیں کیونکہ اس میں ایکٹن نامی ایک پروٹین بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس پروٹین کے نہ ہونے کی صورت میں فائبرو بلاسٹ زخم پر جھلی بنانے سے قاصر رہتا ہے۔ ماہرین نے غور کیا کہ جلد کے خلیات بھی شب و روز کے چکر کے تابع ہوتے ہیں اور ان میں ایکٹن پروٹین پر بھی جسمانی گھڑی اثرانداز ہوتی ہے۔

اس کے لیے ماہرین نے تجربہ گاہ کی تجزیاتی ڈشوں (پیٹری ڈِش) میں فائبرو بلاسٹس خلیات کی افزائش (کلچر) کی اور انہیں مختلف اوقات میں دیکھا گیا۔ یعنی ماہرین نے دن اور رات جیسی کیفیات پیدا کیں تو معلوم ہوا کہ دن اور رات میں فائبرو بلاسٹس بننے کے حیرت انگیز نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

دیگر الفاظ میں کھلے زخموں کو بھرنے والے خلیات رات کے بجائے دن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت تیزی اور بہت تعداد میں منتقل ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *