بچوں کی کھانسی کا بہترین علاج کوئی دوا نہ دینا ہے

" پیری کلاس "

والدین اکثر مایوس یا تھوڑے اپ سیٹ ہو جاتے ہیں جب میں انہیں بتاتی ہوں کہ ان کے بچوں کی کھانسی اور زکام کو ٹھیک کرنے کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔میں انہیں بتاتی ہوں کہ کوئی دوا کام نہیں کرتی اور ادویات کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہم 6 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کھانسی یا زکام کی کسی دوا یا علاج کی  تجویز نہیں دیتے۔

لیکن آخر  والدین کو تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا بچہ کھانسی، ناک بہنے اور خون کے انجماد کی وجہ سے دن رات  کتنی مشکلات سے گزر رہا ہوتا ہے۔

ادویات کے ساتھ والدین کو کچھ تسلی ہوتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچپن میں یہ دوائیں استعمال کر چکے ہیں۔ پین سٹیٹ کالج آف میڈیسن کے پروفیسر آف پیڈیاٹرکس ڈاکٹر یان پال کہتے ہیں: انہیں تسلی ہوتی ہے کہ وہ یہ دوائیں استعمال کر چکے لہذا اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

دی بی ایم جے میں ایک نئے تجزیے میں تحقیق کرنے والوں نے  ثبوت اکھٹے کیے ہیں کہ کیا کھانسی اور زکام کی دوائیں  ناک بہنے، کنجسشن اور زکام کے خاتمہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔ اور آیا یہ نقصان بھی دے سکتی ہیں یا نہیں۔

''والدین ہمیشہ پریشان رہتے تھے کہ کچھ ہونے والا  ہے اور انہیں کچھ کرنا ہے،'' ڈاکٹر مائیک وین ڈریل نے کہا جو آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف کوینز لینڈ میں پروفیسر آف جنرل پریکٹس اینڈ ہیڈ آف پرائمری کیئر کلینیکل یونٹ ہیں، اور اس مطالعے کے پہلے مصنف تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بطور پرائمری کیئر فزیشن وہ اس ضرورت کے بارے میں اچھی طرح با خبر ہیں جو والدین محسوس کرتے ہیں کہ  کچھ ایسا تلاش کیا جائے جو ان کے بچوں کی تکلیف میں افاقہ دے سکے۔

وہ کہتے ہیں: بد قسمتی سے ہماری ریسرچ یہ ظاہر کرتی ہے اور دوا کے فائدہ مند ہونے کے ثبوت بہت محدود ہیں۔ خاص طور پر بچوں میں تو دوائیں بلکل بے اثر رہتی ہیں۔

ڈاکٹر وین ڈریل نے کہا: یہ سمجھنے کے علاوہ کہ دوائیوں کا فائدہ مند ہونے کا کوئی خاص ثبوت نہیں ہے ، والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چھوٹے بچوں پر یہ استعمال کرنے میں خطرہ ہو سکتا ہے۔ فوڈ اور ڈرگ انتظامیہ کی طرف سے 2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کھانسی اور زکام کی ادویات فروخت نہ کرنے کی تجویز دی۔ امیرکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے ان سفارشات کو 6 سال کی عمر کے بچوں تک کے لیے منتخب کر لیا۔  مینوفیکچرر رضاکارانہ طور پر شیر خوار بچوں کے لیے یہ پراڈکٹس مارکیٹ  سے ہٹا لیں اور بچوں کے استعمال کی اجازت کے لیبل ہٹا دیے  اس کے بعد معلوم ہوا کہ کچھ بچے ان دواوں کے استعمال کی وجہ سے ہسپتال پہنچ گئے ۔ بچوں پر ان دواوں کے اثرات غنودگی، نیم بے ہوشی  اور دل کی حرکت کے بے قاعدگی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔

این وائی یو سکول آف میڈیسن کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر آف پیڈیاٹرکس اینڈ پاپولیشن ہیلتھ ڈاکٹر شونا ین  کہتی ہیں: جب عام زکام اور کھانسی کا معاملہ ہو تو یہ علامات ذاتی حد تک ہوتی ہیں'' وہ مزید کہتے ہیں: والدین بغیر دوائیوں کے بچوں کو  ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے دوائیوں کے استعمال کے بغیر ہی بہت سا پانی  یا شہد  دے سکتے ہیں۔ (بوٹولزم کے خطرے کی وجہ سے ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد نہ دیا جائے)۔ بخار کے لیے آئیبوپروفین یا آئیسیٹامینوفن اور سینے کے انجماد کے لیے سیلین ناک کے قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر پال  نے  بتایا:''ہمارا 2007 کا  تحقیقاتی مطالعہ یہ دکھانے کے لیے تھا کہ شہد ایک عام کھانسی کی دوا dextromethorphan  یا علاج نہ ہونے سے زیادہ موثر تھا،'' اس کے بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا شہد کھانسی سے آرام سونے میں  رکاوٹ ختم کرتا ہے۔ دوسری طرف آرگینک ایگیو نیکٹر کا اثر صرف وقتی ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا، ''خلاصہ یہ ہے کہ دکان پر ملنے والی کھانسی اور زکام کی ادویات   6 سال سے کم عمر بچوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے ثبوت بہت محدود ہیں۔

تحقیقات سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکا کہ  کھانسی کی دوا سے بچوں کی کھانسی میں کمی آتی ہے یا یہ کہ antihistamines اور decongestants  اچھی طرح سونے میں مدد دیتے ہیں۔ ادویات جو بچوں کو موسمی الرجی کی وجہ سے ناک بہنے میں مدد گار ہوتی ہیں وہ اسی بچے کے وائرس کی وجہ سے ناک بہنے میں مدد نہیں دیں گی کیوں کہ بنیادی میکانزمز مختلف ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر پال نے کہا کہ بڑے بچوں اور نوجوانوں کے لیے  بھی زکام کی ادویات کی افادیت مسلمہ نہیں ہے ، اور ہمیشہ منفی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب ادویات کی بڑی خوراکیں لی جاتی ہیں۔ خطرہ یہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ادویات کو تیار کرنے کے بہت سے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ین ایف ڈی اے کی طرف سے فنڈ کی مدد سے بچوں کی کھانسی اور سردی کی ادویات پر لیبلنگ اور خوراک کی  ہدایات بہتر بنانے کے لیے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ تحقیق  سے معلوم ہوتا ہے کہ مطالعاتی آبادی میں والدین ادویات  پر مریض کی لکھی عمر کی اوسط، دوا کے اندر موجود اشیا اور خوراک کے بارے میں کنفیوژ ہو جاتے ہیں۔ ہر دوا مختلف اجزا سے تیار کیا جاتی ہے ۔

میں خود بھی انہیں یقین دلاتی ہوں، میں بچے کو چیک کرتی ہوں،  اور یہ یقینی بناتی ہوں کہ بچے کے کان ، پھیپھڑوں، اور گلے کو درست طریقے سے ڈھانپا گیا ہے ،''  ڈاکٹر وین ڈریل نے کہا۔ ''میں والدین کو یقین دلاتی ہوں کہ  یہ زکام ہے جوخود بخود ختم ہوتا ہے اور اس کے لیے ہمارے جسم میں دفاع کا نظام مضبوط ہوتا ہے جو زکام کا بندوبست ایک ہفتہ میں کر دیتا ہے۔ '' انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ادویات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی جسامت میں پر اعتماد رہنے کی ضرورت ہے۔ ''میں انہیں بتاتی ہوں کہ  ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو زکام سے آرام کے  لیے مددگار ہوتی ہو۔ اس کو ایسی کوئی چیز نہ دیں جو آپ اپنے بڑے بچوں کو دیتے ہیں یا خود لیتے ہیں۔"

اور یقینا ہم ہمیشہ والدین کو بتاتے ہیں کہ کیا چیز ایسی ہے جو قابل توجہ ہے اور ایسی کونسی علامات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف زکام تک محدود نہیں ہے۔ بچے کا سانس نہ لے سکنا بہت سنجیدہ مسئلہ ہو سکتا ہے اس اگر بچہ بہت تیزی سے سانس لے رہا ہے یا بھی آسانی سے سانس نہیں لے پا رہا تو اسے چیک کرنا لازمی ہے۔ زیادہ بخار بھی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے اسی طرح انفلوئنزا  کی علامات جیسا کہ کانپنا، ٹھنڈ محسوس کرنا ، جسم میں درد محسوس کرنا  اس طرح کی چیزوں کو اینٹی وائرس ڈرگز سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف ''عام  زکام '' والے بچوں کو عام طور پر کھانے اور پینے کے قابل ہونا چاہیے، کھیلنے کے قابل اور چست ہونا چاہیے یا کم از کم بے چینی سے پاک ہونا چاہیے۔ ''یہ بدقسمتی ہے کہ  بیماریاں بہت عام ہیں جن میں بچے اور شیر خوار بچے مبتلا ہوتے ہیں، والدین  کام نہیں کر پاتے  لیکن ہم 60 سال پہلے کی نسبت اتنے آگے نہیں ہیں،'' ڈاکٹر پال نے کہا۔ ''اب بھی ہمارے پاس عام سردی کے علاج کے ذرائع دستیاب نہیں ہیں،'' تو کہانیاں پڑھیں،فون اور ٹی وی دیکھنے کے اوقات میں تبدیلی لائیں او ر چکن سوپ ابالیں۔

ڈاکٹر وین ڈریل نے کہا : ''اگر آپ لوگوں کو معلومات دیں اور انہیں بتائیں کہ کس چیز کی توقع رکھنی ہے،وہ عام طور پر قبول کریں گے کہ انہیں ادویات کی ضرورت نہیں،'' ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *