یاد رسول سے تعمیر ملت کا نسخہ

ہمارے معاشرے کے اگر تمام مسائل کا جائزہ لیا جائے تو شاید سب سے بڑا مسئلہ’ عدم برداشت‘اور 'ظاہر پسندی' قرار پائے ۔ ہمارا سیاسی کلچر ہو ، یا مذہبی فرقہ واریت ، امن و امان کا مسئلہ ہو یا سماجی و معاشرتی معاملات ، حتیٰ کہ شدت پسندی ہو یا دہشت گردی ،ان سب مسائل کی بنیادی وجہ نظریات میں عدم برداشت اور اعمال میں ظاہریت پسندی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کا اگر چہ کوئی شار ٹ کٹ نہیں، اس کے لیے برسوں کی تربیت درکار ہے ۔ یورپ کی طرح کی احیاۓ علوم کی تحریک (Reniassance) ہی یہ کام بخوبی کر سکتی ہے  لیکن اگر ہم تہواروں اور سماجی تقریبات سے اس کا آغاز کریں اور حکومتی مشینری سمیت قابل ذکر سماجی فورمزکو اس کام میں شریک کریں تو ایک مناسب آغاز کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر عید میلادالنبی کا معاملہ دیکھیں۔ اس کو عوامی رنگ یعنی میلے ٹھیلے اور جشن و تہوار کی شکل دینے کے بجائے اکڈیمک اور فلاحی کاموں کی شکل دے دیں تو فرقوں کی قباحت بھی ختم ہو جائے گی اور  ظاہر پسندی کے بے فایدہ مشاغل بھی ۔ اس سے اتحاد و اتفاق بھی پیدا ہو گا اور اجتماعی سوچ بھی  ۔اس مقصد کے لیے ہم یہاں ایک تجویز پیش کرتے ہیں۔
پی ٹی وی سمیت تمام ٹی وی چینلز اساتذہ ، طلبہ ، علماء اور پارلیمنٹ کے ارکان کے درمیان سیرت کے موضوع پر کوئز مقابلوں کا اعلان کرے۔ یہ مقابلے ہر طبقے کے درمیان ہوں ۔ یعنی اساتذہ کا مقابلہ اساتذہ کے درمیان اور علماء کا مقابلہ علماء کے درمیان ہو۔ یکم ربیع الاول سے مہینے کے آخر تک یہ مقابلے ہوں۔ مقابلے کے انعقاد کی  مناسب تشہیر کی جائے۔اس کے  ججز کا تعلق پاکستان کے بجائے دوسرے مسلم ممالک سے ہو اور سوالات بھی باہر سے مقرر کردہ کتب سے بنائے جائیں۔ اس طرح یہ  ایک غیر جانب دار  انٹرنیشنل ایونٹ بن جائے گا۔
اسی طرح علاقائی، قومی اور عالمی زبانوں میں سیرت پر کتب اور مقالہ جات  لکھنے کے مقابلے سرکاری سطح پر بھی اور بڑے بڑے ادارے بھی منعقد کراءیں اور ان پر بڑے بڑے انعامات سپانسر کراۓ جاییں۔ ان کے منصفین ایسے ہوں جو غیر متنازع ہوں ان کے فیصلے قابل قبول ہوں ۔ بہتر ہو کہ اس میں غیر مسلم ادارے شامل کیے جائیں تاکہ وہ پیغمبر اسلام کے متعلق مسلمانوں کے نظریات اور جذبات سے آگاہ ہوں۔
ربیع الاول کی مناسبت سے مختلف شہروں کو سجانے کے بجائے ان میں صفائی ستھرائی کے مقابلے کرایے جاءیں ۔اور اس میں مختلف چیزوں کے نمبر رکھے جائیں ۔ جیسے کم سے کم بھکاری ، کم سے  کم کچی بستیاں ، صاف پانی کی فراہمی وغیرہ۔ جیتنے والے شہروں کو جو انعامات ملیں وہ صرف اور صرف مستحقین کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ ہوں۔ اس کے علاوہ جلسے جلوسوں، کھانے پینے ، نعتوں وغیرہ کے تمام پروگراموں پر پابندی لگائی جائے یا ان کی کوئی میڈیا کوریج نہ کی جائے۔ اس کے مقابلے  میں اوپر بیان کردہ قسم کے مقابلے کو کورج دی جاۓ گی تو یہ بے مقصد سلسلے خود ہی ختم ہو سکتے ہیں ۔
اوپر کوئیز کے مقابلوں کی پوری تفصیلات بیان کی جا سکتی ہیں کیونکہ ہم  پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے  سمیت مختلف تعلیم اداروں میں  اس  قسم کے سینکڑوں مقابلے کامیابی سے منعقد کرا چکے ہیں ۔ یوں مناسب سطح پر میڈیا کے تمام ذرائع سے تشہیر کی جائے تو ہم دن منانے کی  بے فاءدہ رسم سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔ اپنے پیغمبر کو ایک دن کی شخصیت بنانے کے بجائے پورے سال کی ہستی ، دن رات اور ہر لمحے کی ہستی بنا سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ اوپر ذکر کردہ پروگرام کی تیاری ایک دن کی نہیں مسلسل عمل اور سنجیدہ منصوبہ بندی ہی سے ممکن ہے۔   یوں ہم پیغمبراسلام  کو پیغمبر انسانیت بنا سکتے ہیں اور ان کی یاد سے ملت و قوم کا نسخہ کشید کر سکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *