ہم کن مسلمانوں کے وارث ہیں؟

ایاز امیرAyaz Amir

 ہندوستان میں مسلمانوں کا دور ِ حکومت بنیادی طور پر ترک راج کی ایک شاخ تھی۔ محمود سے لے کر بابر تک،سب فاتحین ترک ہی تھے۔ جس میں گاہے بگاہے افغان راج ، جیسا کہ لودھی خاندان اور شیرشاہ، کے ادوار بھی آتے رہے، لیکن اسلام کے قلعے کے باسیوں کی، یعنی ہماری، اُن فاتحین کے ساتھ کیاقدر مشترک ؟ وہ زندگی اور توانائی سے بھر پور لوگ تھے، ان کی فاتح افواج بہادری کی داستانیں رقم کرتیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ اُن مسلمانوں کے طرز ِعمل سے منافقت اور پارسائی کے اُن جھوٹے دعووں کی جھلک تک نہ ملتی جو اس اسلامی جمہوریہ میں سکہ رائج الوقت قرارپائی۔ تھوڑی دیر رک کر ذرا غور کریں کہ اُن میں سے کسی نے بھی اپنی حکومت کو اسلامی سلطنت قرار نہیں دیا تھا۔ قوت ِ بازو پر بھروسہ کرنے والے اُن بہادروں نے اخلاقیات یا عقائد کو ڈھال بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اُن میں سے بہترین اور عظیم ترین حکمران، جو بھی تھے، اپنے کردار کے حوالے سے کھلے اور واضح تھے۔ اُن کے بڑے بڑے حرم تھے، اُن حرموں میں خووبرو کنیزیں ہوتی تھیں اور وہ جتنی شادیاں چاہتے کرلیتے اور جو چاہتے پیتے، اس میں کوئی راز تھا نہ پردہ داری۔ اپنے دہرے رویوں اور منافقانہ روش کہ بند کمروں میں سب کچھ کر گزرنا لیکن عوامی مقامات پر پارسائی کا ڈھنڈورا پیٹنا،کے ساتھ کیا ہم محمود، بابر اور اکبر کے جانشیں لگتے ہیں؟یقینا،’’تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی‘‘۔اور کیا عرض کریں، سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستی کی آزادی ملنے سے صدیوں پہلے دنیا کے ہمارے حصے میں یہ سرگرمی جاری تھی۔ اپنی سوانح عمری میں بابر نے اپنے بہت سے فوجی سرداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سخت جان جنگجو نازک معاملات میں راہ بدل لینے کی عادت رکھتے تھے، بابر نے تو بہت دوٹوک الفاظ استعمال کئے ہیں پر اُسے کون سا پیمرا کا ڈر تھا۔
جہاں تک بابر کا تعلق ہے تو وہ خود اپنی ذات میں ایک انجمن تھا۔ کیا کسی اور بادشاہ نے اپنی رنگین عادات کو اس طرح سرعام بیان کیا ہے؟ تزک ِ بابری مے نوشی کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک جنگجو اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بابر جمالیاتی ذوق بھی رکھتا اور زندگی کی طبعی لطافت سے لطف اندوز ہوتا۔ وہ جہاں بھی گیا، اُس نے باغات لگوائے، میراخیال ہے کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید ہندوستانی باغات قائم کرنے کی روایت کا سہرا بابر کے سر ہے۔ اس نے اپنی تزک میں باغات لگانے کا ذکر جابجا کیا ہے۔ کسی حسین وادی سے گزر ہوتا یا کسی اور امکانی حسن پر نظر پڑتی اور دل مچل جاتا تو تیموری خون کو آب ِانگور کی طلب ستانے لگتی۔ حسین وادی میں دن کے ڈھلتے سائے اور ڈھلکتا آنچل محفل کو دوآتشہ کردیتا۔ وہ جام کی طرف ہاتھ بڑھاتا یا معجون کا مزہ لیتا۔ معلوم نہیں کہ یہ معجون نامی آفت ِ جاں چرس تھی یا افیون؟، لیکن جو بھی تھی، اُس کی پردہ داری نہ تھی۔ بعض اوقات وہ محفلیں گھنٹوں جاری رہتیں،بادشاہ اپنے سرداروں کے ساتھ پیتا اور پھر وہ سب کسی اور ساتھی کو تلاش کرتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ ان مصروفیات میں رات گزارنے کے بعد علی الصبح دشمن کی فوج پر حملہ آور ہوتے۔ یقینا سخت جان افراد تھے اور ان سرگرمیوں کے بعد بھی اُن پرسستی یا کم کوشی مطلق غلبہ نہ کرتی بلکہ وہ آتش ِ تابناک اُن کی شعلگی کو مزید بھڑکادیتی۔
بابر ایک خوبرو لڑکے، بابری(Baburi)، جس سے وہ فرغانہ کے نزدیک آندیجان میں ملا، کا فریفتہ ہوگیا۔ اُس آفت ِجان کو دیکھ کر اُس کا جوحال ہوتا، وہ شہنشاہ کی اپنی زبانی ہی سنیں۔۔۔’’سکون کی اُن ساعتوں میں مجھ پر ایک عجیب سی وارفتگی طاری ہوجاتی اور پھر کیمپ بازار کے ایک لڑکے، بابری نے مجھے دیوانہ کردیا تھا۔ وہ گاہے بگاہے میرے پاس آتا لیکن شرم کے مارے میں اُس کی طرف دیکھ بھی نہ پاتا۔ حکایت دل کہنے کا یارا تھا نہ آرزو ِوصل کی جسارت ۔ اُس کی موجودگی کا جادو قوت ِ گویائی سلب کرلیتا، میں اس کے آنے پر اُس کا شکریہ تک ادا نہ کرپاتا ، تو پھر میں اُسے کیسے کہتا کہ اُس کے خال ِ ہندوش پر میں اپنا سمر قند قربان کرنے کو تیار ہوں۔ ایک دن عالم ِشوق میں، جب میں اپنے مصاحبوں کے ہمراہ ایک گلی سے گزررہا تھا تو اچانک وہ میرے سامنے آگیا، دل کی دھڑکن برہم ہوگئی اور عقل بے سدھ، نہ اُسے دیکھنے کی تاب ، نہ کچھ کہنے کی سکت۔ اس کی یادوں کو دل میں بسائے پہاڑیوں اور میدانوں میں گھومتا رہتا، بعض اوقات باغات اور پھول دار جھاڑیاں میرے ارمانوں کے غنچے کھلاتیں۔‘‘
یہ بھی درست ہے کہ ظہیر الدین بابر نے جام ومینا توڑدی اور قسم کھائی کی جب تک رانا سانگا کو شکست نہیں دے گا، شراب کے قریب ہرگزنہیں جائے گا۔ تیموری جوان نے وعدہ توکرلیا لیکن دل تڑپتا اور وہ بقول حافظ شیرازی پکار اٹھتا’’بیاساقی آں مے کہ حال آورَد‘‘ (ساقی شراب لا کہ جو دل کو سکون دے‘‘۔ ہمایوں کو خط لکھتے ہوئے بابریوں رقم طراز ہوا۔۔۔’’گزشتہ دوسال سے مے کشی کی محفل کی طلب اس شدت سے دل میں نشتر چبھوتی ہے کہ آنکھیں آبدیدہ ہوجاتی ہیں۔ اگر ’ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز ‘ میسر آئیں تو مے کشی سے بڑھ کر کوئی لذت ِ کام ودہن نہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جام تو ہے لیکن صحبت یار باقی نہیں رہی۔‘‘
کیا ثقافتی اعتبار سے اخلاقیات کے ڈسے ہم لوگوں کو ان رویوں سے کوئی نسبت ہوسکتی ہے؟جب ہم کہتے ہیں کہ ہم تیموری شاہ سواروں کے جانشیں ہیں تو یہ ’چھوٹا منہ ، بڑی بات ‘ لگتی ہے، کہاں وہ ، کہاں ہم۔ بھٹوصاحب نے ایک مرتبہ سرِعام اعتراف کیا تھا ۔۔۔’’میں تھوڑی سی پیتا ہوں‘‘تو مذہبی جماعتیں اور مولوی اُن پر چڑھ دوڑے۔ کیا تیموری شاہسوار ایسی مذہبی جماعتوں کی اپنے ہاں موجودگی برداشت کرتے؟کیا وہ انہیں اپنے عقائد کی تبلیغ کرنے دیتے؟مسلمانوں نے ہندوستان پر کم و بیش چھے سو سال حکومت کی۔ اس دوران کیا اُنہیں کبھی کسی نظریے کی سرپرستی کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی؟ کیا خاندان ِ غلاماں یا تیموری بادشاہوں نے بھی کوئی قرارداد ِ مقاصد منظور کرائی تھی؟انھوں نے عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ دراصل انھوں نے تلوار کے زور پر حکومت کی اور جب اُن کا بازوئے شمشیر زن کمزور ہوجاتا تو کوئی خاندان ان کی جگہ حکومت کرنے لگتا اورپہلا حکمران خاندان رعایا بن جاتا ۔ سرسید احمد خان نے اُنہیں محکومی کے دور میں درس دیا تھا’’ اپنے آبائو اجداد کے افعال پر نظر ڈالو اور برطانوی راج کی مخالفت نہ کرو کیونکہ اب خدانے اُنہیں ہندوستان پر راج کرنے کا موقع دیا ہے۔ ایمانداری سے کام لے کر سوچو کہ ملک میں حکومت قائم کرنے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے۔‘‘پاکستان اسی ملے جلے نظریے سے وجود میں آیا تھا۔
ہوسکتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں لیکن اگر سرسید احمد خان کی روح پاکستان میں ہوتی تو اس کی امریکہ نواز پالیسی اور اس کے گفتار کے غازیوں کی مغرب نوازی دیکھ کر بہت خوش ہوتی ، لیکن بابر کی روح کو یہ دیس ویرانہ لگتا۔ اُسے پاکستان میں مستعمل بیانیے کی ہر گز سمجھ نہ آتی۔ کیا پاکستان میں تاریخ کے تمام طلبہ کے لئے تزک ِ بابری کا مطالعہ لازمی قرار نہیں دیاجانا چاہئے؟دراصل ہمیں جو تاریخ پڑھائی جارہی ہے ، وہ مسخ شدہ تاریخ ہے۔ اس میں واقعات اور شخصیات پر من پسند ملمع کاری کردی جاتی ہے۔ اس تاریخ کا مطالعہ تنقیدی صلاحیت کو کند کردیتا ہے، آپ سوالات نہیں اٹھاتے اور جو کچھ بتایا جاتا ہے، اُسے من وعن ماننا شروع کردیتے ہیں۔ یقینا ہر معاشرے میں خبطی افراد ہوتے ہیں، ہر معاشرے میں انتہائی دائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والے پارسائوں کی موجودگی ایک حقیقت ہے، لیکن جن معاشروں میں تنقیدی سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے، اُن میں ایسے افراد معاشرے کی مرکزی سوچ کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے۔مذہب کی شدت پسندانہ پیروی کرنے والی جماعتیں صرف ہمارے ہاں ہی نہیں، ہر مذہب و مسلک، جیسا کہ عیسائی، ہندو اور یہودی، میں ہوتی ہیں۔ ہمارے مبلغ اسلام کے پیروکار ہیں تو ہندو مبلغ اپنے معبودوں سے فلاح کے متلاشی رہتے ہیں۔ اسی طرح عیسائی اور یہودی اپنے اپنے نظریات کے ساتھ وابستہ رہنے میں نجات دیکھتے ہیں۔ ان سب میں ایک قدر مشترک ہے، یہ عقائد کے اعتبار سے غیر لچک دار رویے رکھتے ہیں۔ آپ تصور نہیں کرسکتے کہ کوئی مدرسہ تزک ِ بابری کے مطالعے کی اجازت دے گا۔ اسی طرح عیسائی خانقاہ اور ہندودھرم شالہ بھی اسے ممنوع قرار دیں گے۔ اس کے یہ الفاظ ایک پاردی کوبھی اتنے ہی ناگوار گزریںگے جتنے ایک مذہبی شخص کو۔’’خزاں کی خوبصورت رُت تھی اور ہم نے درختوں کے درمیان پڑائو کیا۔ ایک بھیڑ کے کباب بنائے گئے۔ ہم نے شراب پیالوں میں انڈیلی اور پھر سورج چھپ گیا اور کوئی پردہ داری نہ رہی۔‘‘
کیا ہم اپنی موجودہ سوچ کے ساتھ تیموری نسل کے جانشیں ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟چنانچہ ہم اخلاقیات کے اسپ ِ تازی سے اتر کر زمین پر قدم کیوں نہیں رکھتے؟ہم اس وطن کو ایک معقول اور عام ریاست کیوں نہیں بناتے؟ ایک ایسی ریاست جس میں انسانوں نے رہنا ہے اور جس نے عقائد کے قلعے کا کام نہیں دینا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *