پاکستانی میڈیا شدید مالی بحران میں

ONE 24/7ٹی وی چینل بند ہو چکا ہے۔ دوسرے کئی چھوٹے اور بڑے نئے چینلز بند ہونے کے قریب ہیں  ان کی اشتہاری آمدنی کئی ماہ سے گر رہی ہے۔

(الیکٹرانک) میڈیا میں اہم لفظ ان دنوں 'رائٹ سائزنگ' ہے۔ کیمرہ مین  اور پروڈیوسرز سے لے کر پروگرام کے میزبان تک ، ہر ایک کی ملازمت خطرے میں نظر آتی ہے ۔ بیورو دفاتر خاص طور پر  اشتہاروں کے زریعے آمدنی کم ہونے کی وجہ سے بند ہوتے جا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ بے روز گار ہوتے جا رہے ہیں۔

2 دہائیاں قبل وجود میں آنے والے فری  الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں کو خطرناک پیشین گوئیاں کی جا رہی تھیں اب ان کا بلبلہ پھٹنے کو ہے۔

ٹی وی چینلز  میں اصلاح کی گنجائش ہمیشہ سے موجود تھی  جس سے معلوم ہوتا تھا کہ کچھ  عرصہ  چلنے کے بعد مشکلات کا سامنا کریں گے  اور صرف مضبوط اور فٹ چینل بچ پائیں گے۔ لیکن یہ بحران چینلز تک محدود نہیں ہے جو کہ بہت سے ماہرین کے مطابق پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔

اخبار انڈسٹری کے اپنے الگ مسائل ہیں ۔ کمپنیوں نے اخبارات سے اشتہارات واپس لے کر اپنے دوسرے  ڈیجیٹل پلیٹ فارم والے ذرائع کا انتخاب کر لیا ہے   اور با اعتبار اخبارات اب  مالی طور پر بہت مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں،

اس طرح وسائل   سے محروم اخبار ات اور میگزینوں نے صفحات کی تعداد کم کر دی ہے  اوراخراجات بچانے کے دوسرے طریقے ااپنا لیے ہیں ۔  کچھ اپنے مستقل ملازمین کو تنخواہ ادا کرنے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں،  جس سے معاملہ مزید گنبھیر ہوتا جا رہا ہے  اور صحافی اور دوسرے ورکرز احتجاج پر اتر آئے ہیں ۔

یہاں بھی میڈیا کی خبریں درست ثابت نہیں ہو رہیں۔   ٹی وی اور اخبارات میں ملازمت کھونے کا  اسٹیمیٹ دوسری تمام انڈسٹریوں سے مختلف ہوتا ہے۔ افضل بٹ،جو  پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اپنے گروہ کے صدر ہیں  نے بتایا ہے کہ حالیہ مشکلات کے باعث 300 سے 500 افراد اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ان کے مطابق اگر حالات بہتر نہیں ہوتے تو اگلے چند ماہ میں مزید بری خبریں مل سکتی ہیں ۔

اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ اس بحران کی وجہ عمران خان کی حکومت کا قیام ہے  جو زیادہ تر میڈیا کے زیر تنقید رہے ہیں ۔  تاہم کچھ غیر واضح اورا معمولی زرائع کے مطابق مسئلہ عمران خان کی حکومت کے قیام سے پہلے سے درپیش ہے۔

ہوا یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اشتہارات کے اخراجات میں کمی اور ن لیگ کی حکومت کی طرف سے دئیے گئے اشتہارات پر ادائیگی سے انکار کی وجہ سے مسئلہ زیادہ پریشان کن صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

پچھلے ہفتے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے ملازمتوں کو بچانے کے لیے میڈیا ہاؤسز کو بقایاجات ادا کرنے کا وعدہ کیا، لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صوبائی حکومت  نے بھی ٹی وی نیٹ ورکس، اخبارات اور میگزینوں کو درپیش معاشی دباؤ  سے نکالنے کے لیے ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔

ایک معروف اشتہاری ایجنسی کے مالک نے لاہور میں ایک  نمائندے کو بتایا کہ حکومت نے میڈیا پر اخراجات میں 70 فیصد کمی کر دی ہے  اور ایڈورٹائزمنٹ کمپنیوں کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں بھی 50 فیصد کمی کی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا: ''حکومت کے میڈیا اخراجات  میں صوبوں اور مرکز میں نگران حکومت آنے کے بعد سخت کمی آئی ۔ کمرشل ایڈورٹائزرز نے ٹیکس ایڈ معاشی پالیسی کی بے  یقینی کی وجہ سے نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے فورا بعد میڈیا مہمات پر اپنے اخراجات کم کرنے شروع کر دیے تھے،''

بلاشبہ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، خاص طور پر پنجاب اور سندھ نے پچھلے چند سالوں میں  اشتہارات خریدنے والوں میں 10 بڑے پرنٹ میڈیا ایڈورٹائزرز کا رتبہ حاصل کیا ہے ۔

انڈسٹری ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کے اشتہاری اخراجات نے ٹی وی چینلز کی آمدنی میں پچھلے پانچ سالوں میں بڑا حصہ ڈالا ہے، لیکن اس کے ٹوٹل کا حساب لگانا مشکل ہے۔

کراچی کی ایک اور اشتہاری ایجنسی کے سینئر ایگزیکٹو اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ''اصل میں حکومت نے  کئی سال سے بہت زیادہ قیمتوں پر ایئر ٹائم خریدتے ہوئے نیوز چینلز کو سبسڈائز کر دیا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں حکومت 3 گنا زیادہ پیسے ادا کرتی ہے ۔ چینلز کی اکثریت حالیہ معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے کیوں کہ حکومتی اشتہارات سے ان کی آمدن اچانک ختم ہو چکی ہے،''

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے اشتہارات کی مد میں  آنے والی آمدنی معقول حد تک بڑھ رہی ہے لیکن  جن میڈیا ذرائع کو حصہ ملتا ہے ان کے حساب سے مارکیٹ  اب بھی چھوٹی نظر آتی ہے ۔

اروڑا ا، ایک ڈان میڈیا پبلیکیشن گروپ، جو سالانہ کئی ذرائع سے اکٹھے کیے ہوئے اخراجات  کی تفصیل فراہم کرتا ہے کا اندازہ ہے  کہ مارکیٹ سائز مالی  سال 2015 میں 66.9  بلین روپے سے مالی  سال 2017 میں 87.7 بلین روپے تک پہنچ کر ایک تہائی کے قریب  بڑھ چکا ہے جس میں سے نصف ریونیو ٹی وی چینل کو جاتا ہے جب کہ ایک چوتھائی کے برابر اخبارات کو جاتا ہے۔باقی رقم ریڈیو، او او ایچ، ڈیجیٹل فارمیٹس وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے و الی کچھ  ایڈورٹائزنگ فرمزکے کچھ ایگزیکٹوز مانتے ہیں کہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کامشترکہ میڈیا خرچہ چارٹرڈ سال 2017 کے دوران 90.5 بلین روپے تک بڑھ گیا ہے جو کہ اروڑا کے اندازے سے زیادہ دور نہیں ہے۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ٹی وی کا شئیر 66 اعشاریہ 4 فیصد پر موجود ہے  جس کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا کا شئیر صرف 10.7فیصد ہے۔

ناظرین  کی کثرت کی بنیاد پر شہرت رکھنے والے بڑے 6 چینلز نے مالی سال 2017 میں ٹی وی ایڈورٹائزنگ کے کل خرچے 42 بلین روپے کا 45 فیصد ہتھیا لیا ہے۔ اے آر وائی ڈیجیٹل اور ہم ٹی وی نے 10 فیصد شیئر کے ساتھ انڈسٹری  میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ، اس کے بعد جیو نیوز نے 8 فیصد ، جیو انٹر ٹینمنٹ نے 7 فیصد اور اردو 1 اور پی ٹی وی ہوم نے 5 فیصد حصہ حاصل کیا۔ باقی حصہ دوسرے چینلز کے بیچ تقسیم ہوا۔

اسی طرح بڑے تین اخباروں نے پرنٹ ایڈورٹائزنگ آمدنی کے کل 20 بلین روپے کا 47 فیصد حاصل کیا جس میں جنگ 26 فیصد شیئر کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد ڈان 12 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور ایکسپریس ٹرائیبیون 9 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

وزیر اطلاعات نے پچھلی حکومت پر اشتہارات کو سیاسی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ پی ٹی آئی انتظامیہ حکومت کی میڈیا مہمات کی مستقبل کی ترسیل کے لیے شفاف میرٹ کی بنیاد پر پالیسی کے ذریعے ''نیوز انڈسٹری میں ''توازن لائے گی''۔ انہوں نے بار بار کہا ہے کہ حکومت ٹیکس اداکرنے والوں کے پیسے کے ساتھ میڈیا  مالکان کے پیٹ بھرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

نیوز انڈسٹری کے بہت سے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اگر پی ایم ایل این نے حکومتی ایڈورٹائزنگ کو چینلز اور اخباروں کو رشوت دینے کے لیے استعمال کیا تو پی ٹی آئی ان کو خاموش کرنے کے لیے یہی اوزار استعمال کر رہے ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے  میڈیا تجزیہ نگار عدنان رحمت دعوے سے کہتے ہیں: ''حالیہ مہینوں میں ہم نے ریاست اور اس کے  مختلف اداروں کو میڈیا مالکان پر دباو ڈالتے دیکھا ہے ۔ پبلک سیکٹر ایڈورٹائزمنٹ جو میڈیا کی کل آمدنی میں 22 سے 23 فیصد  کی بنیاد ہے  کو میڈیا پر حکومت کا ایجنڈا تھوپنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ،''

''صحافیوں اور مالکان سے مشورہ کیے بغیر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو درست کرنے کے لیے موجودہ الگ الگ الیکٹرانک ریگولیٹرز کو ایک نئے ڈھانچے پاکستان میڈیا رعگولیٹری اتھارٹی (پی ایم آر اے) میں بدلنے کی تجویز، نیوز میڈیا کی طرف سے  تیار کردہ مواد کو قابو کرنے کی کوشش ہے۔ نشانہ مواد  تیار کرنے والے پروڈیوسرز  ہیں ،''

یونیورسٹی آف کراچی کی میس کمیونیکیشن کی ایک پروفیسر سیمی نغمانہ ان کے ساتھ اتفاق کرتی ہیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ حالیہ بحران ٹی وی انڈسٹری میں مشروم گروتھ کی وجہ سے طویل عرصے سے چلا آ رہا تھا ۔

''ہم ابھی تک نئے ٹی وی چنلز کو کھلتا دیکھ رہے ہیں باوجود اس کے کہ معاشی بحران انڈسٹری کو جکڑے ہوئے ہے۔ ہماری معیشت ٹی وی چینلز کی اس قدر کھلے عام وسعت  کی قابلیت نہیں رکھتی ۔   اس لیے جب  حکومت کی طرف سے اشتہارات  کا سلسلہ بند ہوا تو بہت سے چینلز نے ملازمین کو برخاست کرنا شروع کر دیا ۔

کراچی کے ایک سینئر صحافی  کے مطابق عدم ادائیگی کے ذمہ دار میڈیا کنزیومر ہیں جو اخبارات ، میگزین اور ٹی وی کے مواد سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن اس کے لیے ادائیگی نہیں کرنا چاہتے۔

گھر بیٹھے 100 سے زیادہ چینلز دیکھنے والے  صارفین جو تھوڑی بہت فیس دیتے ہیں وہ مواد کے پروڈیوسر کی بجائے ڈسٹریبیوٹرز کو چلی جاتی ہے۔  اسی طرح اخبار کی 40 فیصد سے زیادہ قیمت ہاکر ڈسٹری بیوٹرز کی جیب میں جاتی ہے اور دوسری 10 سے 20 فیصد برے قرضوں اور غیر متوقع اخراجات میں گنوا دی جاتی ہے۔جہاں ٹیلیویژن انڈسٹری کو ڈسٹری بیوٹرز سے کچھ نہیں ملتا،  وہاں اخبار بھی  فروخت سے بہت کم  قیمت حاصل کر پاتے ہیں۔

مزید یہ کہ میڈیا پروفیشنلز کے درمیان ایک عام  اتفاق ہے کہ انٹرنیٹ کے عروج اور  اشتہار دینے والوں کے لیے نئے ذرائع کے ابھرنے سے   روایتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے ایڈورٹائزمنٹ کو ڈائیورٹ کر دیا گیا ہے۔ اشتہاری اخراجات کا سائز سالوں سے بڑھ چکا ہے لیکن  ایسے ہی اشتہارات مانگنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اشتہاری آمدنی کا مقابلہ تیزی سے بڑھا ہے۔

''بہت سے مقابلہ کرنے والے چینلز اور اخبارات حکومتی پروپیگنڈا کی ایک کڑی بننے کے لیے تیار ہیں،'' کراچی کے ایک صحافی کہتے ہیں۔ ''اور یہ میڈیا ہاوسز مارکیٹ شیئرز بڑھانے  اور بچانے کے لیےان کاروباروں کو خریدنے کے لیے تیار ہیں ۔ ''

لگتا ہے کہ کچھ اصول تبدیل نہیں کیے گئے،  باوجود اس بات کے کہ اس بے چینی نے بہت سے لوگوں کی نوکریاں چھین لیں ہیں اور دوسرے تمام صحافیوں کی نوکریوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے  ۔

پاکستان براڈ کاسٹو ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے نمائندے تبصرے کے لیے موجود نہیں تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *