روزمرہ کی ورزش آپ کی جسامت کو 30 سال زیادہ نوجوان رکھ سکتی ہے

" گریچون رینولڈز "

70 سال سے زائد عمر محققین کے ایک گروپ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دہائیوں تک ورزش کرنے والے افراد اور 25 سالہ نوجوانوں کے پٹھوں میں مضبوطی کے لحاظ سے فرق نکالنا مشکل ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے مرد اور عورتیں نقل و حرکت کے حساب سے اپنی عمر کےباقی لوگوں سے کئی گنا چست ہیں  اور جسمانی طور پر اپنی عمر سے تیس سال کم عمر معلوم ہوتے ہیں۔

ہماری عمر ہر لمحہ بڑھتی ہے جس کی وجہ سے ہماری جسم کے مختلف اعضا کی توقعات اور حقیقی صورتحال میں دلچسپی بڑھتی جاتی ہے ۔

پریشان کن طور پر اعداد و شمار اور عام مشاہدہ  یہ ظاہر کرتا ہے کہ بہت سے بوڑھے لوگ کمزوری، بیماری اور دوسروں پر انحصار کی پریشانیوں سے گزرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن سائنس سے یہ طے نہیں ہوا کہ اس طرح کی جسمانی کمزوری  عمر کی وجہ سے درپیش ہوتی ہے یا پھر ہمارے ماڈرن لائف سٹائل کی وجہ سے پیش آتی ہے۔

کچھ علامات سے البتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی حرکت اور ورزش سے ہماری عمر بڑھنے کی رفتار پر خاص اثر پڑتا ہے۔ حالیہ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ بڑے کھلاڑیوں کے پٹھے، دماغ، مدافعتی نظام اور دل اسی عمر کے دوسرے لوگوں جو بیٹھے رہتے ہیں کی نسبت زیادہ صحت مند ہوتے  ہیں۔

لیکن ان میں سے زیادہ مطالعوں نے مقابلے والے تجربہ کار کھلاڑیوں کی طرف توجہ دلائی ہے نہ کہ ان لوگوں کی طرف جو تفریحی طور پر ورزش کرتے ہیں اور ان تحقیقی مطالعات میں خواتین کا ذکر بہت کم ملتا ہے۔

اس لیے نئے مطالعے میں، جو اگست میں Journal of Applied Physiology میں شائع کیا گیا،  Ball State University of Muncie, Ind کے محققین نے بوڑھے مرد و خواتین کے ایک مخصوص  طبقہ  پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔

بال سٹیٹ کی ہیومن پرفارمنس لیبارٹری کے ڈائریکٹر اور نئے مطالعے کے سینئر مصنف سکاٹ ٹریپ کہتے ہیں: ''ہمیں ان لوگوں میں دلچسپی تھی جنہوں نے 1970 کی دہائی کے  دوران  جسمانی ورزش  کا آغاز کیا ،'' ۔

ڈاکٹر ٹریپ نے مزید بتایا: اس دور میں ٹائٹل 9  نامی کتاب کے کچھ اقتباسات اور 1977 کی  شائع شدہ کتاب The Complete Book of Runningسے مدد ملی جس میں کچھ نوجوان مردوں اور خواتین کی جسمانی ورزشوں  کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ یہ لوگ مشغلے کے طور پر ورزش کرتے تھے۔

ان میں سے کچھ نے اس مشغلے کو تقریبا 50 سال تک برقرار رکھا، دوڑ، سائکلنگ، تیراکی یا گھر سے باہر کام کرنے کی عادات جاری رکھیں اگرچہ انہوں نے کبھی اس معاملے میں کسی سے مقابلہ نہیں کیا۔  وہ مرد اور عورتیں آج اپنی 70 کی دہائی میں ہیں، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس  تحقیق کا آغاز کیا۔

مقامی اشتہارات اور بھرتی کے دوسرے طریقوں سے انہوں نے ان میں سے 28 کا پتہ لگا لیا جن میں 7 عورتیں شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک پچھلی 5 دہائیوں سے جسمانی طور پرچست تھا۔

انہوں نے اسی عمر کے بوڑھے لوگوں کے ایک دوسرے گروہ کو بھی بھرتی کیا جنہوں نے اپنی جوانی میں ورزش نہیں کی تھی اور 20 کی دہائی کے نوجوان لوگوں کا ایک تیسرا گروہ بھی بھرتی کیا۔

وہ ہر ایک کو لیب میں لائے، ان کی حرکات و سکنات کی چستی کے ٹیسٹ لیے، اور ٹشو سیمپل استعمال کرتے ہوئے پٹھوں میں کچھ خاص  اینزائمز کے لیولز اور کیپلری ٹیوب کی تعداد  کا پتا لگایا۔  جتنا زیادہ  نمبر ظاہر ہوتا اس سے ان کی جسمانی حالت کا اندازہ ہوتا تھا۔

محققین نے  کارڈیوویسکیولر سسٹم  اور اعصاب پر خاص فوکس رکھا کیونکہ  مانا جاتا ہے کہ  یہ چیزیں عمر کے ساتھ کمزور ہوتی جاتی ہیں اور سائنس دانوں کو توقع تھی کہ انہیں وہی دیکھنے کو ملے گا جسے  ڈاکٹر ٹریپ  گروپوں کے بیچ فرق کے “hierarchical pattern” کا نام دیتے ہیں۔

انہیں لگتا تھا کہ نوجوان لوگ زیادہ مضبوط پٹھوں اور جسمانی حرکات کی صلاحیتوں کے حامل ہوں گے اور عمر بھر ورزش کرنے والے  دونوں معاملات میں کچھ کمزور ہوں گے جب کہ ایسے عمر رسیدہ افراد جو بلکل ورزش نہیں کرتے وہ سب سے پیچھے ہوں گے۔

لیکن نتیجہ  بہت مختلف تھا۔

ورزش کرنے والے بوڑھوں کے پٹھے جوانوں کے پٹھوں سے مشابہت رکھتے تھے، بہت سی کیپیلری ٹیوبز اور انزائمز  نوجوانوں کے جیسے تھے اور بیٹھے رہنے والے بوڑھوں کے پٹھوں سے کہیں زیادہ  مضبوط تھے۔

بوڑھے چست گروہ کے پاس جوانوں کی نسبت حرکات و سکنات کی صلاحیتیں کم  تھیں، لیکن ان کی صلاحیتیں سست لوگوں سے 40 فیصد زیادہ تھیں۔

در اصل جب محققین نے محرک عمر رسیدہ افراد کی حرکات و سکنات کی قابلیت کا  موازنہ  مختلف عمر کے ''نارمل'' صلاحیتوں کے لوگوں کے ڈیٹا سے کیا تو انہوں نے حساب لگایا کہ عمر رسیدہ فعال گروہ ان لوگوں کی طرح صحت مند تھا جو ان سے 30 سال چھوٹے تھے۔

ڈاکٹر ٹریپ کے مطابق: مضبوط  کارڈیوویسکیولر اور اعصاب والے عمر رسیدہ افراد کے بارے میں ان نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس جسمانی کمزوری کو ہم عمر کے ساتھ جوڑتے ہیں وہ عا م طور پر عمر سے متعلق نہیں ہوتی۔

تاہم، یہ تحقیقاتی مطالعہ کراس سیکشنل تھا اور لوگوں کی زندگیوں کے ایک لمحے کو ظاہر کرتا ہے اور ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ آیا کہ ان کی ورزش کی عادات  صحت میں براہ راست فرق کا سبب بنتی ہیں یا نہیں۔

نہ ہی اس سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ جینز، انکم ، ڈائیٹ اور دوسرے لائف سٹائل پر مبنی عوال  بھی اس چیز میں اثر انداز ہوتے ہیں اور اگر ہوتے ہیں تو کس حد تک ۔

اس مطالعہ میں پٹھوں کے گوشت اور صحت کے دوسرے اقدامات پر  تفتیش  کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اگر زندگی کے  آخری حصہ میں ورزش شروع کی جائے تو بھی یہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ڈاکٹر ٹریپ کے مطابق ان معاملات پر بھی بہت جلد تحقیق کی جائے گی۔

البتہ پہلے تجربہ کے نتائج سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ورزش کے ذریعے جسم میں صحت  کو بہتر کیا جا سکتا ہے  اور اچھی صحت کے عوامل کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جو عمر کے آخری حصہ میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ٹریپ نے آخر میں کہا: ''یہ لوگ بہت  مضبوط تھے،'' ، ''میں اپنی 50 کی دہائی میں ہوں اور ان لوگوں کو فٹ اور محرک دیکھ کر مجھے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ ''

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *