فہمیدہ ریاض کی آس

" زاہدہ حنا "

میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی ،یہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘ کا نام تھا۔ شعر و شاعری کے میدان میں ایک بالکل ہی نیا نام اس کی جگہ اگر کسی مرد کا نام ہوتا تو میں کبھی نہ چونکتی لیکن ایک لڑکی کا نام دیکھ کر جلدی جلدی صفحے پلٹے تاکہ دیکھوں یہ لڑکی کیسی نظمیں لکھتی ہے۔ ہمارے یہاں صف اول کی شاعرات ہیں ہی کتنی اسی لیے اگر کسی نئی شاعرہ کا نام نظر آئے تو یقینا تجسس ہوتا ہے۔

فہمیدہ کی نظمیں پڑھ کر جی خوش ہوا کیوںکہ ’’فنون‘‘ کی اس اشاعت میں چھپی ہوئی چھ نظمیں نہ صرف خوبصورت تھیں بلکہ ان کے لب و لہجے میں وہ نسائیت جھلک رہی تھی جو کسی شاعرہ کے کلام کی بنیادی خصوصیت ہونی چاہیے۔یہ الگ بات ہے کہ ہماری اکثر شاعرات جب جذبات کا اظہار کرتی ہیں تو ان کا لب و لہجہ خالص مردانہ ہوتا ہے، جو نہ صرف کانوں پر گراں گزرتا ہے بلکہ ان کی شاعری کے حسن کو بھی غارت کردیتا ہے ۔فہمیدہ نے چار لائنوں کی ایک چھوٹی سی نظم ’’جھجھک‘‘میں ایک کنواری لڑکی کے جذبات و احساسات اور اس کی کیفیات کی عکاسی جتنے دل آویز انداز میں کی ہے اس کا انداز ہ صرف پڑھ کر ہی لگایا جاسکتا ہے :

یہ مری سوچ کی انجان، کنواری لڑکی

غیر کے سامنے کچھ کہنے سے شرماتی ہے

اپنی مبہم سی عبادت کے دوپٹے میں چھپی

سرجھکائے ہوئے کتراکے نکل جاتی ہے

اسی طرح ’’احتراز‘‘ اور زاد راہ‘‘ بھی بہت اچھی نظمیں ہیں۔پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ چلو ایک اچھی اور ذہین شاعرہ کا اضافہ ہوا، ذہن میں فہمیدہ کا نام محفوظ ہوگیا اور بات ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد یاد نہیں پڑتا کہ فہمیدہ کی نظمیں اور کن رسائل میں پڑھیں ۔ شاید ’’نقوش‘‘ میں بھی اس کی ایک دو نظمیں چھپی تھیں لیکن اس وقت ان کے نام بالکل یاد نہیں آرہے ۔

1966ء میں فنون کا شمارہ نمبر چار ہاتھ آیا تو الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیا، صفحے پلٹتے ہوئے نظریں ایک تصویر پر جم گئیں ۔دلکش نقوش والی اس لڑکی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، نام پر نظر پڑی تو پتہ چلا کہ فہمیدہ ریاض کی تصویر ہے اسی شمارے میں ’’ہمارے شاعر‘‘ کے عنوان کے تحت فہمیدہ کی چھ نظمیں اور ان کا تعارف بھی چھپا تھا۔ فہمیدہ کی شاعری کا تعارف کراتے ہوئے محمد خالد اختر نے یوں تو بڑی طول طویل باتیں کہی تھیں لیکن ان کے دو جملے بڑے سچے اور کھرے تھے۔ انھوںنے لکھا تھا کہ ’’اگرچہ فہمیدہ نہایت جدید شاعرہ ہے اور اس کی شاعری بھی جدید ہے، اس کے باوجود سمجھ میں بھی آتی ہے، مسحور بھی کرتی ہے۔ جدید شعری رحجانات کے حوالے سے یہ کچھ عجیب سا ’’حادثہ‘‘ ہے مگر بڑا خوشگوار حادثہ ہے۔ اس کے ہر مصرعے میں نسائیت کے احساسات کی واضح آواز سنی جاسکتی ہے۔ اس تعارف کے ساتھ فہمیدہ کی جو نظمیں چھپیں، ان کے نام تھے ’’اب سو جاؤ‘‘ ، ’’وہ لڑکی‘‘ ، ’’ہاکس بے‘‘ ، ’’سردیوں کی ایک شام ‘‘ ، ’’مری چنبیلی کی نرم خوشبو‘‘ اور ’’ایک شام ‘‘ ۔ ان نظموں میں سے وہ ’’وہ لڑکی‘‘ اور ’’اب سوجاؤ ‘‘ خاص طور پر بہت مقبول ہوئیں۔

’’وہ لڑکی‘‘ میں عورت کے شدید اور قدیم ترین جذبہ ’’رقابت‘‘ کو بالکل ہی انوکھے انداز اور نسائی لب و لہجے میں اجاگر کیا گیا ہے۔ ’’جن پر میرا دل دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔ وہ سب باتیں دُہراتے ہو ۔۔۔۔۔وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو ۔۔۔۔۔مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں، تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔ تنہائی میں چپکے چپکے نازک سپنے بنتی ہوگی، تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیا وہ مجھ سے اچھی ہوگی؟‘‘

اسی طرح ’’اب سوجاؤ‘‘ میں عشق، درد، خلوص اور شدتِ جذبات کا جو اظہار ہے وہ صرف ایک لڑکی ہی محسوس کرسکتی ہے اور ایک لڑکی ہی اسے ادا بھی کرسکتی ہے:

’’تم چاند سے ماتھے والے ہو ۔۔اور اچھی قسمت رکھتے ہو ۔۔بچے کی سی بھولی صورت ۔۔اب تک ضد کرنے کی عادت ۔۔کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں ۔۔کچھ سینے میں چبھتی باتیں ۔۔اب انھیں بھلادو ، سوجاؤ ۔۔اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو‘‘۔

ان نظموں کی اشاعت کے بعد فہمیدہ کا نام کراچی کے ’’دانشوروں‘‘کے لیے ایک مسئلہ بن گیا اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ’’آخر یہ کون لڑکی ہے جو اتنی اچھی نظمیں لکھتی ہے؟‘‘ اور بعض لوگوں نے بڑے سکون سے یہ تحقیق شروع کر دی کہ ’’بھئی اس بات کا پتہ چلانا چاہیے کہ اتنی پیاری نظمیں وہ کس سے لکھواتی ہے؟‘‘ ظاہر ہے کوئی بھی لڑکی اگر ادب یا صحافت کے میدان میں آئے تو لوگ برسوں تک یہی سوال کرتے رہتے ہیں کہ کس سے لکھواتی ہے؟ کسی لڑکی کا خود لکھنا دنیا کے آٹھویں عجوبے سے کم نہیں۔

فہمیدہ کے بارے میں مجھ سے بھی کئی لوگوں نے پوچھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میں اس کے بارے میں جانتی ہوں لیکن میں خود ہی لاعلم تھی تو دوسروں کو کیا بتاتی ۔ پھر ’’فنون‘‘ میں اس کی تین نظمیں ’’ شائع ہوئیں جن میں سے ’’ہے یہ عالم دل کا‘‘ بہت پسند آئی۔

چار پانچ ماہ پہلے اچانک اطلاع ملی کہ فہمیدہ کی شادی ہو گئی۔ اس کے دوسرے دن خبر ملی کہ جن صاحب سے شادی ہوئی ہے وہ انگلستان میں رہتے ہیں اور اب فہمیدہ بھی وہیں چلی جائے گی۔ پھر وہ لندن پہنچ گئی۔ فہمیدہ کی چھوٹی بہن نجمہ ریاض کو خط لکھا لیکن وہ بڑے سکون سے خط کا جواب گول کرگئیں اور میں فہمیدہ کے پتے نشان کے بارے میں لاعلم ہی رہی۔

اب سنا ہے کہ فہمیدہ کی نظموں کا مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ شائع ہوگیا ہے۔ ایک دو کتاب گھروں سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ان کے پاس نہیں پہنچا ہے۔ اب دیکھیے لاہور سے یہ مجموعہ یہاں کب پہنچتا ہے۔ لیکن مجھے اس بات کی فکر ضرور ہے کہ کیا فہمیدہ اب بھی اتنی ہی پیاری نظمیں لکھیں گی۔

وطن سے ہزاروں میل کی دوری پر پہنچ کر وہ اپنی گھریلو مصروفیتوں میں گم ہوجائیں گی یا کچھ وقت شاعری کو بھی دیں گی۔ اردو میں فہمیدہ کی شاعری ایک اچھا خوش آئند اضافہ تھا ان سے لوگوں کو بہت سی امیدیں تھیں۔ اب یہ فکر ہے کہ تخلیق کے یہ سوتے پہلے ہی کی طرح اُبلتے ہیں یا خشک ہوجاتے ہیں۔

میری یہ تحریر اب سے 51 برس پہلے روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں 6اگست 1967ء کو شائع ہوئی تھی ۔ میں ان دنوں ’’ایک خاتون کی ڈائری‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتی تھی۔ اس نصف صدی کے دوران فہمیدہ نے کیسا قامت نکالا اور کتنا نام کمایا۔ نیک نامی اور بدنامی قدم سے قدم ملاکر ان کے ساتھ چلیں۔ اپنے مزاج میں وہ دبنگ اور باغی تھیں، انھوں نے ان خصوصیتوں کو اپنی شاعرانہ خلاقی کے ساتھ آمیخت کیا تو لوگ ایک نئے ذائقے سے آشنا ہوئے۔ کچھ نے انھیں بے باک کہا لیکن بیشتر ان کے گرویدہ ہوئے۔

انھیں آمریت سے نفرت تھی اور آمروں کو ان سے خوف آتا تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں زیست ان کے لیے اتنی مشکل ہوگئی کہ وہ ہندوستان چلی گئیں اور سات برس انھوں نے وہاں گزارے۔ وہاں بھی انھوں نے مختلف علمی اور ادبی اداروں کے لیے کام کیا۔ جونیجو صاحب کے آخری زمانے میں ظفر اُجّن اور اپنے دو بچوں کے ساتھ لوٹ آئیں۔ واپس آنے کے بعد بھی زمانہ ان پر کچھ زیادہ مہربان نہیں رہا۔ شہرت ان پر چھاجوں برسی لیکن شہرت کے سکے سے نانِ جویں نہیں خریدی جاسکتی۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ شدید بیماریاں جھیلتی رہیں۔ سب سے بڑا غم جوان بیٹے کبیر کی ابدی جدائی کا تھا۔ کبیر پر یہ مصرعہ صادق آیا کہ ’’مارا دیارِ غیر میں مجھ کو وطن سے دور‘‘۔ آلام کے ان دنوں میں بھی انھوں نے قلم ہاتھ سے نہیں رکھا۔ وہ شعر کہتی رہیں، ترجمے کرتی رہیں۔ ’’مزدک‘‘ پر ایک طویل قصہ لکھا۔ باغی انھیں لبھاتے تھے، مزدک پر نہ لکھتیں تو کیا کسی شہنشاہ معظم کا قصیدہ لکھتیں؟

ان کی ابتدائی عمر حیدرآباد میں گزری، سندھی ان کے لیے اتنی ہی مادری زبان تھی جتنی اردو۔ انھوں نے شیخ ایاز کے کام کا ترجمہ کیا۔ ابتداء انھوں نے عشقیہ شاعری سے کی اور پھر وہ نسائی حقوق کی ایک اہم اور بڑی علمبردار ہوکر سامنے آئیں۔ جمہوری حقوق، انسانی حقوق ان تمام لوگوں کے لیے وہ اپنی شاعری سے لڑتی رہیں جنھیں ان کے کسی بھی حق سے محروم کردیا گیا تھا۔ پاکستان کو آمریت نے جتنا بڑا نقصان پہنچایا اس کا اکثر لوگوں کو اندازہ ہی نہیں، اس لیے ان کی ہر آمر سے لڑائی رہی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں جب ان کے گرد گھیرا بہت تنگ ہوگیا تو انھوں نے جلاوطنی اختیار کی۔ ہندوستان چلی گئیں۔ جانے یہ جلاوطنی تھی یا ایک وطن سے دوسرے وطن کی طرف سفر تھا۔ انھوں نے ’’غداری‘‘ کے طعنے سنے لیکن پھر لوٹ کر آئیں اور ساری زندگی اس پاکستان میں گزاری جس کے بہت سے لوگ ان پر عرصۂ حیات تنگ رکھتے تھے۔ ان کی آخری گھڑیاں لاہور میں اپنی بیٹی ویرتا کے گھر پر گزریں۔ وہ جو عشق اور جنس کی شاعر کہلاتی تھیں، انھوں نے ویرتا کے لیے ایک ’’لوری‘‘ لکھی تھی۔ اس لوری پر ہی میں اپنی بات کا اختتام کرتی ہوں۔

سن ری میری نین تارا ۔۔ تری ماں کا جیون سارا ۔۔ آنسوؤں کی بہتی دھارا ۔۔ گزرتا چلا گیا ۔۔جانتی ہوں مرے دوار کھڑا ایک بھیڑیا ۔۔ کھارہا میری جوانی، مرا خون پی رہا ۔۔ بھیڑیا جو دھن نے پالا ۔۔ جگ پہ راج کرنے والا۔۔سن مری ننھی سی جان ۔۔ یہ زمین یہ آسمان ۔۔ سکھ کی ساری آن بان ۔۔ منڈیوں میں بھرا دھان ۔۔جب تلک ہمارا نہیں ۔۔ چین سے گزارا نہیں ۔۔ کسی کا سہارا نہیں ۔۔ کوئی اور چارہ نہیں ۔۔بھیڑیے سے نہیں ڈرنا ۔۔ مری جان ! جم کے لڑنا ۔۔ کبھی مت ہونا نراس ۔۔سن مری ننھی نویلی ۔۔ نہیں ہوگی تو اکیلی ۔۔ سنگ ہونگے بانہہ بیلی ۔۔ترے سنگی، ترے میت ۔۔ ترے ساتھ ساتھ ہونگے ۔۔ ہاتھ میں کئی ہاتھ ہونگے ۔۔ یہی میری ایک آس!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *