’’چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ‘‘

مستنصر حسین تارڑMHT

چنانچہ ایک شخص کی اکلوتی بیٹی کی آنکھیں نور سے خالی ہو گئیں، اور پھر قلندر کے مزار پر حاضری دینے سے پھر سے نور سے بھر گئیں تو وہ کیسے اس معجزے کو قلندر سے منسوب نہ کرے۔۔۔ اگر نیپال کے قدیم شہر بھگتا پور کے ایک ویران ہو چکے کائی زدہ مندر میں ایک پجاری ایک بے شکل پتھر کو خدا مانتا ہے اور پچھلے کئی برسوں سے اس کی پرستش کر رہا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اس پتھر نے مجھے وہ سب کچھ دیا جس کی میں نے خواہش کی۔ یا پھر مانٹریال کے ماؤنٹ رائل کلیسا کی بلندی تک اٹھتی سینکڑوں سیڑھیوں پر اپاہج لوگ اپنے آپ کو گھسیٹتے ہوئے چڑھتے ہیں اور پھر ان میں سے کچھ وہاں پہنچ کر اپنی بیساکھیاں پھینک دیتے ہیں کہ ان کا یقین ہے کہ کلیسا میں شیشے کے ایک مرتبان میں محفوظ یہ سینٹ آندرے کا دل ہے جس نے یہ معجزہ کر دکھایا ہے۔۔۔ تو یہ سب کیا ہے۔۔۔ ایسا ہوتا تو ہے پر کیسے ہوتا ہے اس کی ہمیں کچھ خبرنہیں۔۔۔
شاید یہ یقین اور مکمل ایمان کے کرشمے ہیں۔۔۔
صدق دل سے ایمان لے آؤ تو ایک پتھر بھی پگھل جاتا ہے، تمہاری مانگ پوری کردیتا ہے۔۔۔
بے شک مجھ میں یقین اور ایمان جہاں تک درگاہوں کا تعلق ہے، کسی حد تک مفقود ہے، شائد اس لئے کہ میں بے نیاز ہو گیا ہر چوکھٹ سے جب میں نے قصویٰ کے سوار کی چوکھٹ پر حاضری دے کر اپنے آپ کو ان کے سپرد کردیا۔۔۔ مجھے کسی اور در یا آستاں کی حاجت ہی نہ رہی۔۔۔ اس نے میری سب حاجتیں کچھ مانگے بنا بھی پوری کردیں۔۔۔ اور کم از کم دوبار جب میں نے ان کی جوتیوں میں ان کے ہاتھوں کی لگی گانٹھوں کا واسطہ دے کر فریاد کی تو وہ درخواست پوری ہو گئی۔۔۔
شرک کیا ہے، کفر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور دکھوں کے مداوے کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کا فیصلہ کون کرے۔۔۔
سر کو ڈھانپے وہ چھوٹی سی گڑیا مجھے دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں نور آگیا تھا، گلاب کے پھولوں کا ایک گل دستہ، ہاتھوں میں تھامے قلندر کو ’’تھینک یو سر‘‘ کہنے کے لئے آئی تھی۔
مزار کی جالی کے ایک کونے میں چاندی کے ایک منقش کشکول میں شہباز قلندر کا وہ پتھر تھا جسے وہ گلے میں آویزاں کئے پھرتا تھا۔۔۔
اس کشکول میں وقفوں وقفوں سے منرل واٹر کی ایک بوتل انڈیل دی جاتی تھی اور وہ پانی پتھر سے چھوتا کشکول کے پیندے میں سے قطرہ قطرہ ٹپکتا تھا اور لوگ ہجوم کرتے تھے۔۔۔ کشکول میں سے رستے پانی سے ہتھیلیاں بھگوتے انہیں آنکھوں، سے لگاتے تھے، چہرے پر ملتے تھے اور چلو بھر کر اسے حلق سے اتارتے تھے۔۔۔
ایک اپنے آپ سے غافل شخص جس کے کھچڑی بال کاندھوں تک آتے تھے، اس نے کشکول کو چھو کر اپنا ہاتھ بالوں پر پھیرا اور ایک نعرہ لگا کر ہجوم میں گم ہو گیا، مزار سے ذرا پرے کچھ سیاہ پوش اپنے دھیان میں گم تھے اور وہاں کوئی ایسا مقدس مقام تھا جس کی اہمیت سے میں آگاہ نہ تھا۔۔۔ وہاں دھویں سے سیاہ ہو چکے طاقچوں میں کچھ چراغ جلتے تھے اور تیل کی سیاہی ایک دیوار کو سیاہ کرتی تھی۔
اور پھر یکدم ایک گیت کا چراغ جل اٹھا، مجھے یاد آگیا۔۔۔
چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ
پنجواں میں بالن آئی جھولے لالن
سندھڑی دا سیہون دا۔۔۔ شاہباز قلندر
تو گویا یہ وہی چراغ تھے۔۔۔ لوگوں کے دلوں کے دیئے تھے جن کی لو میں ان کی فریادیں اور پکاریں تھیں۔
بال چراغ عشق دا تے کردے روشن سینہ
میں نے بیجنگ کے ایک تاریخی بدھ مندر کے صحن میں مہاتما کے لئے اگر بتیاں سلگائی تھیں۔ موم بتیاں جلائی تھیں صرف اس لئے کہ گئے زمانوں میں ہمارے ہاں بھی تو گندھارا عہد میں مہاتما بدھ کا راج تھا اور میرے ہم سفر ادیبوں نے میری اس حرکت پر بہت ناک بھوں چڑھائی تھی۔۔۔
لیکن یہاں میرے اندر پانچواں چراغ جلانے کی کچھ خواہش نہ ہوئی۔۔۔ چار چراغ ہی کافی ہیں۔
میں چونکہ بہت دیر سے شہباز قلندر کے اس منقش جالیوں والے احاطے یا پنجرے کے آس پاس بلندگنبد میں جو صدائیں اور پکاریں گونجتی تھیں ان صداؤں اور پکاروں میں گم تھا تو وہ شخص جس کے پاس خزانے کی کنجی تھی وہ مجھے پہچان کر مہربان ہو گیا ’’تارڑ صاحب۔۔۔ میں جالی کا دروازہ کھول دوں۔۔۔ تاکہ آپ زیارت کر سکیں، قلندر کی قبر کو بوسہ دے سکیں، من کی مراد حاصل کر سکیں‘‘۔
’’بہت بہت شکریہ۔۔۔ میں کہاں اور عثمان مروندی کہاں۔۔۔ میری کیا اوقات۔۔۔ بہرطور شکریہ۔۔۔ لیکن اس بچی کو اجازت دیجئے کہ وہ اپنے پھول سے ہاتھوں میں تھامے ہوئے پھولوں کو قلندر کی بھینٹ کر دے‘‘ اور اس نے مہربانی کردی۔۔۔
دربان تو وہاں کا مہربان ہوتا تو بات بنتی، ہم اس کے پاؤں پڑ جاتے کہ وہ اندر بھی جاتا ہوگا تو وہاں کی دھول کا کوئی ذرہ تو اس کے پاؤں میں دمکتا ہوگا۔۔۔ وہ بے شک نہ مہربان ہوتا پر ہماری بات تو بن جاتی۔۔۔ چراغ تو ہم وہاں جلاتے۔۔۔ تو بات بنتی۔۔۔
ہم باہر آگئے۔۔۔ ایک محراب اور برآمدے میں وہ ڈھول پڑے تھے، وہ نقارے اور نوبتیں خاموش پڑی تھیں۔۔۔
ہِند سندھ پیرا تیری نوبت باجے
جی میں آیا، یہی آیا کہ ان پر ایک ضرب لگا کر احتجاج کروں کہ عثمان مروندی کو عقیدے، مسلک اور تعصب سے آزاد کردو، اسے محدودنہ کرو، کمرشلائزنہ کرو۔۔۔
اس کی نوبت کی آواز کل جہانوں میں گونجنے دو۔
قلندر، ایک فقیر جس کے گلے میں جذب اور فقر کا ایک بھاری پتھر تھا، وہ ذی شان ہو چکا تھا۔
اس کے لبادے میں جو پیوند تھے وہ سونے کے تاروں کے تھے، اس کا کشکول چاندی کا تھا اور وہ فقیر نہ رہا تھا، ایک شہنشاہ ہو چکا تھا۔۔۔ وہاں اس کی درویشی اور سادگی کے جھرنے نہ تھے جو روح کو سیراب کردیں، شاندوری، سونے کے گنبدوں اور کمرشل ازم کے دریا بہہ رہے تھے۔۔۔
ایک قلندر کو قید کردیا گیا تھا۔۔۔
ہم سیہون شریف سے نکلے تو نقاروں، ڈھولوں اور نوبتوں کی گونج مدھم ہو گئی اور وہ میرے قلب میں اتر کر سرگوشیاں کرنے لگا کہ سنو۔۔۔ برگشتہ نہ ہونا، دھیان نہ کرنا۔۔۔ یہ سب دکانداریاں، فریب اور دھوکے ہیں۔۔۔ میں وہی ہوں جو کہ تھا۔۔۔ میرے مرشد مولانا روم نے جو کہاجسے بلھے شاہ نے پنجابی میں ڈھالا ، میں وہی ہوں
کی جاناں میں کون اوئے بلھیا
نہ میں بھید مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوّا جایا
اور میرے بعد آنے والے سچّو، سرمست اور سچّل نے میرے بارے میں ہی تو کہا تھا تھا کہ۔۔۔
نہ میں سنی، نہ میں شیعہ، نہ میں جُرم و ثواب
نہ میں شرعی ، نہ میں داعی، نہ میں رنگ رباب
نہ میں ملا ، نہ میں قاضی، نہ میں شور شراب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *