تبدیل ہوتا ہوا بلوچستان

ڈاکٹر رسول بخش رئیسrasool

مخلص افراد، گروہوں اور اداروں کی طرف سے کیے گئے بہت سے اچھے کاموں کو اکثر اوقات بلوچستان سے آنے والی بری خبریں گہنا دیتی ہیں‘ جس طرح زلزلے کا جھٹکا ایک مختصر سی ساعت میں طویل منصوبہ بندی اور سخت محنت سے کیے گئے کام کو ملبے کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا اور نام نہاد دانشور بھی بدقسمتی سے بلوچستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات کی گھات میں رہتے ہیں جبکہ وہاں ہونے والے اچھے کام بوجوہ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنسنی خیزی سے ریٹنگ بڑھتی ہے لیکن کسی فرد یا ادارے کی توصیف سے کچھ نہیں ہوتا۔
ملک کے دیگر صوبوں اور حصوں کی طرح بلوچستان بھی نسلی اور قبائلی گروہوں اور سماجی تحاریک کا مرقع ہے۔ یہاں بھی سیاسی اور سماجی تنوع عوامی زندگی کو اُسی طرح متاثر کرتا ہے جیسے ملک کے دیگر حصوں میں۔ یہ صوبہ بھی مختلف سماجی اور سیاسی وابستگیوں، نظریات، مفاد اور مقاصد میں بٹا ہوا ہے، چنانچہ کوئی ایک سادہ سی لکیر یا دوٹوک معروضہ بلوچستان کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ ملک کے دوسرے حصوں میں رہنے والے افراد بلوچستان کو عموماً میڈیا کی نظروں سے ہی دیکھتے ہیں اور، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ منظر عمومی طور پر حوصلہ شکن ہوتا ہے؛ تاہم یہاں آنے والے اور اس کے خدوخال کو اپنی نظروں سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں تعلیمی سرگرمیاں، فلاحی کام اور قوم سازی کا عمل پورے عزم و توانائی سے جاری ہے‘ لیکن اس طرف میڈیا اور قوم کی توجہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حالات میں بلوچستان میں ایسی تعمیری کاوشوں میں مصروف افراد، جن میں آدمی اور عورتیں، دونوں شامل ہیں، کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے اور اُنہیں تشکیل پانے والے قومی منظرنامے میں اہم جگہ دی جانی چاہیے۔ بلوچستان کے فن کار، کھلاڑی، اساتذہ اور پیشہ ور افراد کی خدمات کا قومی سطح پر ادراک کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کوئٹہ کا دو مرتبہ دورہ کرتے ہوئے مجھے ایک بہت مختلف بلوچستان دکھائی دیا۔ میں نے بلوچ ذہانت کی جو تصویر وہاں دیکھی وہ اُس سے بہت مختلف تھی جو ہم مسائل کا شکار اور پسماندہ علاقے میں تعلیمی معیار کے بارے میں فرض کر لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ تعلیمی معیار دیگر صوبوں میں بہت تسلی بخش نہیں، لیکن بلوچستان میں پیش رفت بہت خوش آئند ہے۔ یہ یونیورسٹی صرف بارہ سال قبل قائم کی گئی، لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے بہت جلد ملک کے اہم اور شاندار تعلیمی اداروں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ پہلے پہل یہ یونیورسٹی شہر سے باہر ایک متروکہ ٹیکسٹائل مل میں قائم کی گئی‘ لیکن پھر اسے ایک بہترین عمارت، جو اس علاقے میں ایک تعمیراتی عجوبہ دکھائی دیتی ہے، میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں موجودہ تعلیمی سہولیات، جیسا کہ لیبارٹریز، کلاس رومز، آڈیٹوریم، روشن راہداریوں اور ہالز کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا چنائو مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن عمارتی خدوخال، اگرچہ ان کی اہمیت اپنی جگہ پر، سے بڑھ کر یہ تعلیمی ادارہ ہیومن ڈویلپمنٹ کی بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ یہاں آنے والوں کو بھرپور تعلیمی ماحول کا احساس ہوتا ہے۔
میں نے پاکستان کی بہت سی نئی اور پرانی جامعات کا دورہ کیا ہے لیکن BUITEMS اور اس کی بلوچستان میں برپا کی جانے والی متاثر کن مثبت تبدیلیوں کا احساس سب سے گہرا ہے۔ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ اس کا تدریسی سٹاف بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، زیادہ تر اساتذہ کرام غیر ملکی تعلیمی ڈگریاں رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر وطن میں آ کر ہم وطنوں کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ یہ یونیورسٹی اپنے عمدہ ماحول کی وجہ سے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے لیے بھی کشش رکھتی ہے۔ اس کی تعلیمی کاوشوں کی ایک جھلک دکھاتا چلوں... یہاں انچاس پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والے کام کر رہے ہیں اور 137 کا بہترین غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلہ ہو چکا ہے۔ اس میں صوبے کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 7,523 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ کچھ طلبہ دیگر صوبوں اور افغانستان سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح BUITEMS کے ماحول کو قومی اور علاقائی یک جہتی کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 33 فیصد سے زائد طلبہ کو یونیورسٹی کی جانب سے مالی امداد ملتی ہے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ BUITEMS ہر قسم کے سیاسی انتشار سے آزاد ہے جس کی وجہ سے بلوچستان اور باقی ملک کے بہت سے تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ وائس چانسلر انجینئر فاروق احمد بازائی اور دیگر اساتذہ کی ان تھک محنت اور لگن کا ثمر ہے کہ یہ یونیورسٹی بلوچستان کے نوجوان طلبہ اور طالبات کی زندگی میں امید کی شمع روشن کرتے ہوئے اُنہیں آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی سرگرمیوں کا روشن پہلو یہ ہے کہ یہاں پہلی یونیورسٹی ( یونیورسٹی آف بلوچستان) 1972ء میں قائم ہوئی تھی لیکن اب یہاں پبلک سیکٹر میں چھ یونیورسٹیاں ہیں جنہیں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور تعلیمی وظائف کی فراہمی کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی بھرپور معاونت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے طلبہ کو بیرونی ممالک کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں بلوچستان کی موجودہ حکومت نے پبلک سیکٹر میں تعلیم کے لیے فروغ اتنی کاوش کی ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ صوبہ اپنے بجٹ کا چھبیس فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔ افسوس، یہ معاملات میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ شاید وقت آ گیا ہے جب ہمیں اپنا فوکس تبدیل کرنا ہو گا۔ ہمیں جامد تصورات اور پہلے سے طے شدہ نتائج کی بجائے متحرک امکانات کی دنیا کو دیکھنا ہو گا۔ بلوچستان کے حالات کو تعلیمی سرگرمیاں تبدیل کر سکتی ہیں۔ امید ہے کہ نجی شعبہ بھی اس میں سرمایہ کاری کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *