اس بحران میں پڑھے لکھے لوگ کہاں ہیں ؟

" شہزاد شرجیل "

ایسا آخری بار کب ہوا کہ  کسی نے کہا ہو کہ ہماری امید صرف تعلیم سے جڑی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹے میں  تو کسی نے بھی نہیں کہا ہو گا؟ اگر ہم واقعی اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ  تعلیم پاکستان کی بہتری کا واحد راستہ ہے  تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ  ہمارے پاس کچھ ایسے اساتذہ ہونے چاہیے جو ہمیں ماضی کے مسائل اور آنے والے چیلنجز سے آگاہ رکھنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔  ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، ڈاکٹر فیصل باری، اور ڈاکٹر محمد وسیم جیسے چند دانشوروں کے علاوہ کسی ایسے سکالر کا نام لیجئے جسے پبلک انٹلیکچول کے طور پر مقبولیت حاصل ہو اور انعام پائیے۔  ہمارے تعلیم یافتہ لوگ کہاں چلے گئے ہیں؟  دنیا بھر کے ہر ملک میں  امپورٹ کے ہر ڈسکورس میں رہنمائی کا کردار علمی شخصیات کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی علمی شخصیات تھنک ٹینک قائم کرتی اور ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یونیورسٹی پروفیسرز ہی حکومتوں کی پالیسی سازی میں مدد کرتے ہیں۔ ٹی وی ٹالک شو کے میزبان اور نیوز اینکرز بھی علمی شخصیات ماہرین اور تجزیہ کاروں کو بلاتے ہیں۔

ہماری کمیونٹی میں صورتحال مختلف ہے جہاں ٹی وی اینکرز پبلک انٹلیکچولز کی اہمیت اختیار  کر گئے ہیں اور مزید ظلم یہ کہ وہ اپنے ساتھی اینکرز کو تجزیہ نگار اور ماہرین کے طور پر مدعو کر لیتے ہیں  ہر ہر معاملے اپنی مرضی کے تجزیے دیتے ہیں،  ہر معاملے کے پیچھے ایک سازش کا انکشاف کرتے ہیں  اور  یہ کہنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے  کہ میں نے فلاں پروگرام یا فلاں کالم میں آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔

ڈیڑھ صدی قبل ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے فیکلٹی ڈویلپمنٹ  کا قدم اٹھایا جس میں دنیا بھر کی بڑی یورنیورسٹیوں سے طلبا کو پی ایچ ڈی کے لیے سکالرشپ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایچ ای سی کی طرف سے کوالٹی کی بہتری کے لیے اس طرح کے تمام اقدامات قابل تعریف ہیں  لیکن اب تک  ہمارے پاس کچھ ایسے لوگ موجود ہونے چاہیے تھے جن کی قابلیت کو نہ صرف ملک بھر میں بلکہ ملک سے باہر بھی پذیرائی حاصل ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے  نیم سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں جو اس وقت ملک میں موجود ہیں  ان میں ہمارے پاس 20 ایسے قابل ذکر علما موجود نہیں ہیں جو عوام کو برداشت، نظریات اور عقائد، سیاسی معیشت،  پبلک آفس، مفادات کی زد، سائنس اور ٹیکنالوجیکل ڈویلپمنٹ ، لٹریچر اور آرٹ پر  رہنمائی فراہم کر سکیں۔ کیا 200 ملین کی آبادی والے ملک  میں 20 ایسے سکالرز کی موجودگی  کا مطالبہ بھی نہیں کیا جا سکتا؟ یہ تو ایک کروڑ آدمیوں میں سے ایک شخص بنتا ہے۔

تو پھر ملک میں کون سے اکیڈیمک جرنلز علاقے کے بہترین جرنلز میں سے ہیں؟  ایسا کون ہے جس میں ریسرچ پبلکیشن کے ذریعے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی ہو؟  چلیں گیم کے اصول تھوڑے  نرم کر لیتے ہیں۔ یہ  سکالرز، ریسرچرز ، سائنٹسٹس، دانشور،  پاکستان میں رہ بھی نہیں سکتے۔ آپ نے کتنی بار ڈاکٹر نرگس موالولہ کو دیکھا ہے جو پاکستانی امریکی ایسٹروفزسسٹ ہیں  اور گریویٹیشنل لہروں کے مشاہدہ میں اہم کردار کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا کہ انہیں کسی سیمینار میں سائنس سے متعلقہ کسی معاملے پر گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا ہو؟ وہ مساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کرٹس اینڈ کیتھلین ماربل پروفیسر آف ایسٹروفزکس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ وہ اسی ادارے کی فزکس ڈیپارٹمنٹ کی ایسو سی ایٹ ہیڈ بھی ہیں۔  یا پھر جب تک معاملہ ایٹمی فزکس یا بم کے بارے میں نہ ہو تب تک ہمارے لیے قابل غور ہی نہیں سمجھا جاتا ؟  یا پھر صرف ایسے ایسٹرالوجسٹس کی بات کو سنا جا سکتا ہے جو ضمنی الیکشنز کے نتائج  پر پیشین گوئی کر سکتے ہوں یا  ٹی وی چینلز پر آ کر یہ بتا سکتے ہوں کہ سیاستدان پر کونسا مہینہ بھاری ہو گا۔

پاکستان میں پبلک فورمز پر پروفیسر عائشہ جلال کو کتنے مواقع پر مدعو کیا جاتا ہے؟ وہ ایک پاکستانی امریکی مورخ ہیں جو ٹفٹس یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں میری رچرڈسن پروفیسر کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔انہوں نے ہارورڈ میں بھی تدریسی خدمات کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے اور کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں  'the sole spokesman: Jinnah, the Muslim League’, The Demand for Pakstan, ‘The Struggle for Pakistan: A Muslim Homeland and Global Politics, جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔  شائد ریٹنگ اور مقبولیت کی خاطر صرف ایسے شو ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں جس میں سرکاری دانشوروں کو ایک دوسے پر گالی بکنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ایچ ای سی کا فیکلٹی کے لیے ریسرچ اور پبلیکیشن  پر مشتمل طریقہ کار اختیار کرنے کا مطالبہ درست ہے  لیکن جن لوگوں کو بیرون ملک سکالرشپ ملتی ہے وہ یا تو اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل نہیں کر پاتے یا  واپس آ کر ملک میں تدریسی خدمات دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ جو پاکستان میں اپنے ریسرچ پروگرام  مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں بہت زیادہ دباو  ڈال کر peer reviewers اور سپروائزرز ڈھونڈنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ نقل کے بہت سے واقعات تسلسل سے سامنے آتے ہیں۔ ایچ ای سی خود بھی اس طرح کے سکینڈلز سے محفوظ نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایسے  تعلیم یافتہ افراد ہونے چاہییں  جو خود ساختہ عوامی دانشوروں کےسامنے اپنا دفاع کر سکیں۔ ہمیں منجھے ہوئے علمی دانشوروں کی ایک نئی فصل کی ضرورت ہے جن کی اپنے مضمون کی سمجھ بوجھ اور علم  کی سطح ملک میں اور بیرون ملک  قابل قبول اور قابل اعتبار ہو۔ حاضرین سے کھچا کھچ بھری ہوئی جلسہ گاہیں  ہی اس علمی گفتگو کو صحتمند بنانے کی ضامن ہو سکتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *