اقوام متحدہ کا مرثیہ

" زاہدہ حنا "

یہ کون سوچ سکتا ہے کہ آگ بھی مسلمان یا کرسچن ہوسکتی ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن سچ یہی ہے۔ مسطار جو بوسنیا کا ایک شہر ہے اس میں آگ بجھانے والی گاڑیاں بھی تقسیم ہو چکی ہیں ۔ یہ شہر 1992ء سے 1994ء تک شدید نسلی منافرت کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کا شکار ہوا ۔ ان دو برسوں کے دوران یہاں رہنے والوں پر جو کچھ گزری وہ ناقابل یقین ہے۔

اس جنگ کے شعلے بجھ چکے ہیں لیکن راکھ کے نیچے چنگاریاں اب بھی سلگتی ہیں اور ان لوگوں کو خوف میں مبتلا رکھتی ہیں جنہوں نے نفرت کا ذائقہ چکھا ہے اور جن کی زندگیاں غارت ہو چکی ہیں۔ نئی نسل کے لیے بہت سی باتیں کہانیاں ہیں لیکن مسطار کے مسلمان اورکرسچن آگ بجھانے والی گاڑیاں، شہرکا کوڑا کرکٹ اٹھانے والی کمپنیاں، اس شہرکے دو اسپتال، بجلی فراہم کرنے والی دوکارپوریشن، دو نائٹ کلب ، فٹ بال کی دو ٹیمیں ایک ہی شہر مسطار سے تعلق رکھتی ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ اب سے پچیس برس قبل گزرنے والی قیامت کی نشانیاں ہیں۔

بٹوارہ، ایسا بٹوارا جس کی لکیریں انسانی خون سے کھنیچی گئیں اور جس کی حد بندی انسانی ہڈیوں سے ہوئی۔ جنگ ختم ہو چکی، امن قائم ہو چکا لیکن یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کہ دونوں برادریوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ سب اپنی اپنی حد بندیوں کے اندر ہیں، اسکول اور کالج کے بچے دوسری قومیت کے بچوں کو نہیں جانتے۔ان کی ایک دوسرے سے ملاقاتیں اور دوستیاں نہیں۔

مسطار کے بوڑھے ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب یہ ایک پُر امن شہر تھا، سب ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ آپس میں دوستیاں تھیں۔ فلمیں ساتھ دیکھی جاتی تھیں اورکتابوں پر بحثیں ساتھ ہوتی تھیں۔ آہستہ آہستہ نفرت کی دیمک نے سب کچھ کھا لیا اور اپنے پیچھے ایک ناقابلِ یقین داستان چھوڑی۔ اس داستان میں سے گزریے تو یقین آنے لگتا ہے کہ ہم انسان نہیں، سیاہ باطن دو پائے ہیں، بھیڑیے اور لکڑبگھے ہمارے مقابل لائے جائیں تو وہ ’’انسان‘‘ ٹھہریں گے۔

بوسنیا ہرزگوینا کی داستان ستم نے ساری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا۔ ہمارے یہاں کئی تراجم سامنے آئے جو ہمیں گنگ کر دیتے ہیں۔ ان میں ’’سرائیو و۔ سرائیو و‘‘ بہت پہلے شایع ہوئی تھی۔ یہ مضامین رپورتاژ اور گیارہ سالہ بچی زلاتا فلپووچ کی ڈائری پر مشتمل ہیں۔ اس میں ایک نثری مرثیہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کا ہے جو اس نفرت انگیز جنگ میں انسانوں کو بچانے کے لیے نہیں آئی۔ اقوام متحدہ نام کی شے اب ختم ہو چکی ہے، یہ زلاتکو دروازے وچ نے لکھا تھا جسے اجمل کمال نے ترجمہ کیا۔ دروازے وچ لکھتا ہے :

’’یہ ظاہر ہے کہ بڑی بڑی خوش فہمیوں کا وقت گزر چکا ہے۔ جیسا کوئی شخص کہہ سکتا ہے :کوئی شے ویسی نہیں رہی جیسی پہلے ہوا کرتی تھی اورکوئی شے اب کبھی پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ بہت سی کتابیں، ہم جن کی ورق گردانی یا مطالعہ کیا کرتے تھے، اب ازکار رفتہ ہو گئی ہیں۔ آج ہم جن تصورات کے تحت زندہ ہیں وہ کچھ اور ہیں، ہماری قدریں بدل گئی ہیں، اور ہمارا تجربہ بالکل نیا ہے۔

وہ سب کچھ ہم جس کی تحسین کرتے تھے، جس پر ایمان رکھتے تھے، جس سے امیدیں باندھتے تھے، اب کسی نہ کسی طور پر مضحکہ خیز بن کر رہ گیا ہے۔ آج کی زندگی میں چیزوں کی نئی ترتیب کچھ ایسی ہے کہ ہمیں اپنی اُس معصومیت پر حیرت ہونے لگی ہے جس کے ساتھ ہم نام نہاد عظیم خیالوں، اونچے اصولوں، وقیع اداروں، لوگوں اور تنظیموں پر یقین رکھتے تھے۔

اُن دنوں ہم سوچا کرتے تھے کہ دنیا کا نظام اس بنیاد پر وجود رکھتا ہے کہ انصاف قائم کیا جائے اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ اس نظام میں نیویارک کے ایسٹ ریور کے کنارے قائم وہ شیشے کی عمارت گویا زمین پر چیزوں کی مستحکم ترتیب ، یا کم سے کم ایسی ترتیب کو وجود میں لانے کی سچی خواہش کا ثبوت تھی۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھار ’’وہ شے‘‘ اغراض کی پرچھائیوں میں چھپ جایا کرتی تھی۔

’’وہ شے‘‘ اقدارکے ایک نظام کا حصہ تھی جس کی بنیاد ’’فطری انصاف‘‘ کے اصولوں پر تھی جنھیں فطری ہی سمجھا جاتا تھا اور ساری دنیا انھیں تسلیم کرتی تھی۔ اس لحاظ سے ہمارا خود کو بعض معاملات میں محفوظ تصورکرنا خاصی منطقی بات لگتی تھی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اُس عمارت میں ’’وہ شے‘‘ موجود ہے۔ بچپن میں اپنے ساتھیوں کے درمیان میں نے خود کو سب سے زیادہ اونچا اور ’’اہم‘‘ اُس وقت سمجھا تھا جب میرے والد اقوامِ متحدہ کے ایک فوجی مشن میں شامل ہوکر سومنائی گئے تھے ۔ یہ واقعی بڑی زبردست بات تھی۔ بعد میں، جب میں پہلی بار نیویارک گیا تو میں نے اپنے سفرکا ایک پورا دن اس محترم عمارت کی سیر کے لیے وقف کیا جو ایسٹ ریورکے کنارے قائم تھی۔ میں اپنی مرضی کے اہم ترین دن کا بے تابی اور شوق سے انتظار کر رہا تھا جب میں اُس ہال میں داخل ہوں گا جہاں جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہوگا۔

آج اقوامِ متحدہ کے بارے میں ہمارے تمام تصورات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ بلکہ ملبہ بھی نہیں، کچھ نہیں۔ بس ایک خلا ہے اور بے اعتنائی۔ غصہ تک نہیں۔ اس کے بجائے ہمیں اس پر تھوڑا سا رحم آتا ہے اور ذرا سی حقارت محسوس ہوتی ہے۔ اتنی بے وقار اور ہیچ، پھر بھی اسے یقین ہے کہ وہ کسی کو اپنے اثر یا رعب میں لاسکتی ہے!

ہم سرائیوو کے باشندوں کے لیے ایسٹ ریور کے کنارے پر بنی ہوئی عمارت درحقیقت معدوم ہو چکی ہے۔ اس کی باقیات غم ناک اور قابلِ رحم ہیں۔ صرف چند افراد ہیں جو نہ کوئی نکتۂ نظر رکھتے ہیں اور نہ ریڑھ کی ہڈی، ان کے پاس نہ وقار ہے اور نہ کسی بات پر افتخار، نہ سیاسی بصیرت ہے اور نہ بنیادی انسانی جرأت۔ ان کے پاس اگرکچھ ہے تو بیوروکریسی کے طور طریقوں میں ملفوف اپنے چھوٹے چھوٹے، شرم ناک مفاد ہیں اور ایک اذیت پسندانہ فلسفہ ہے جس کی رو سے لازم آتا ہے کہ دنیا میں کبھی کسی جگہ کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا جائے۔

میں نہیں مان سکتا کہ آج سرائیوو میں کوئی واحد شخص ایسا ہے جو ایسٹ ریور کے کنارے واقع اُس عمارت کی سیرکرنا چاہے گا۔ اس لیے نہیں کہ وہاں کچھ ڈر پوک لوگ بیٹھے ہیں جو کچھ نہیں کررہے ۔ بلکہ محض اس لیے کہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ’’وہ شے‘‘ ہی معدوم ہوچکی ہے ۔ ’’وہ شے‘‘ اُس ماضی کا حصہ ہے جہاں سفید اور سیاہ کو یوں ڈھٹائی کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کیا جا سکتا تھا یا کم سے کم ہمیں ایسا ہی لگتا تھا۔

اقوامِ متحدہ کو بنیادی انسانی انصاف اور پست منافع اندوزی کے درمیان انتخاب در پیش ہوا اور اس نے مؤخر الذکر کا انتخاب کیا، اور یوں خودکشی کر لی۔ہمیں صرف ’’اس شے‘‘ کے مٹ جانے کا رنج ہے اور تھوڑا بہت رنج ہمیں اس بات کا بھی ہے کہ ہم نے اس سے اتنی امیدیں اور اتنی نیک خواہشات وابستہ کر رکھی تھیں۔ یہ قوموں کی تنظیم نہیں رہی، یہ گھٹیا سیاسی جیب کتروں کی تنظیم ہے۔

سرائیوو میں کوئی بچہ اب اس بات پر فخر نہیں کرے گا کہ اس کے باپ نے اقوامِ متحدہ کے کسی امن مشن میں حصہ لیا تھا۔ اس کے لیے اپنے ساتھیوں کے سامنے نظریں اٹھانا مشکل ہوجائے گا۔

اور یہ خاتمہ ہے۔ اور ذرا سا افسوس۔ پرانے دن کتنے اچھے تھے جب ہمیں یہ خوش فہمی تھی کہ دنیا میں ایک طاقت ایسی موجود ہے جو زمین پر سچ کو فتح مند کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تب محسوس ہوتا تھا کہ ہم دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔

’’سرائیوو۔ سرائیوو‘‘ رپورٹوں اور ذاتی یادداشتوں کا ایک ایسا مجموعہ جسے پڑھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ ہم پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر پیدا ہوئے تھے تو کیا ضروری تھا کہ نفرت کی اس خندق میں جھانک کر دیکھتے جس میں ہزارہا لوگ اپنے اخلاقی اور انسانی زوال کی پستیوں میں اترے اور مسرت سے بے حال رہے ، اپنے غیر انسان ہونے کی لذت سے سرشار۔ کاش ہم ناخواندہ ہوتے اور نہ جانتے کہ اس کرۂ ارض پر مختلف خطوں میں رہنے والوں پر صبح و شام کیا قیامتیں گزری ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *