میڈیا کے لیے نازک دور

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں میڈیا آج  کل محاصرے میں ہے کیونکہ  معیشت اور حکومت کے ساتھ دوسرے عوامل بھی میڈیا کو زیر تسلط رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ سپریم کورٹ جج فائز عیسی آئین اور قانون کی بے حرمتی  کرنے والوں سےنرمی برتنے والوں میں سے نہیں ہیں۔گزشتہ جمعرات انہوں نے ایک  سماعت کے دوران تبصرہ کیا کہ میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی  ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اب جکڑی ہوئی میڈیا والی ریاست میں رہ رہے ہیں'' ،  جہاں ہر طرح کے نظریات سوائے طاقتور حلقوں کی آرا کے ، کسی طرح بھی قابل قبول  نہیں سمجھے جاتے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک  کے مستقبل کے فیصلے کرنے کا حق پارلیمنٹ کے پاس ہے یا خفیہ طاقتوں کے پاس؟ جسٹس فائز عیسی کے یہ  ریمارکس پچھلی حکومت کے آخری دن سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے پر سو موٹو کے ایک کیس کی کاروائی کے دوران آئے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ  نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ ٹی وی نیوز چینلز کو کسی کے حکم پر کیبل آپریٹرز کی طرف سے آف ایئر کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے  نیوز چینلز کی آزادانہ نشریات کی یقین دہانی  نہ کروانے پر پیمرا ریگولیٹر کی سرزنش کی۔

بنچ آئی ایس آئی کے کردار پر بھی نا خوش تھا اور مطالبہ کیا کہ عدالت کواس طاقتور خفیہ ایجنسی کے  اصل مینڈیٹ اور  کردار پر بریفنگ دی جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہوئے انہیں اس قدر اہم معاملے میں عدالت میں  پیش نہ ہونے پر جہاڑ پلائی۔

وہ سب لوگ جو میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں انہیں  عدالت عظمیٰ کے ان ریمارکس پر  کسی حد تک تسلی ہوئی ہو گی۔ اس کے باوجود ہم  میں سے بہت سے یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اگرچہ عدالت آزادی  کے حق میں ایک مضبوط   کردار کی حامل ہے لیکن کچھ ایسی طاقتیں موجود ہیں جو پاکستان کو ایک خاص بیانیہ پر مشتمل ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔

یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ میڈیا کو الیکشن سے قبل کیسے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے  طاقت کے زور سے   من مانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ کیا نشر کیا جائے اور کیا نہیں۔  مزاحمت کی بجائے زیادہ تر میڈیا ذرائع کے مواد سے ہی معلوم ہونے لگا کہ ریاست کے چوتھے ستون پر خودد ساختہ سینسر شپ عائد ہے۔

یقینا پی ٹی آئی کی یہی پالیسی ہے کہ معیشت میں خرابی پرانی حکومت پر تھونپ دی جائے  اور اپنی ذمہ داری کسی صورت قبول نہ کی جائے  اور اس پالیسی کا مقصد عوام کو ن لیگ سے دور کرنا ہے لیکن اس کا نقصان دونوں اطراف برابر ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے معیشت  کے مسائل سامنے آنا شروع ہوئے، اس کا اثر میڈیا پر بھی پڑا  اور کمرشل ایڈورٹائزرز نے اشتہارات پر خرچہ کم کر دیا۔ اس کے ساتھ موجوددہ حکومت نے پچھلی حکومت کی طرف سے دئیے گئے اشتہارات کی ادائیگی سے بھی انکارکر دیا  جس کی وجہ سے بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔

اس کے باوجود یہ کہنا بے ایمانی ہو گی کہ میڈیا  میں   آمدن میں کمی اور نوکریوں  کی قربانی کی بنیادی وجہ محض مالی بحران ہے ۔ بہت سے ایسے  سینئر صحافیوں کی نوکری چلی گئی ہے یاان کے پروگرام بند کروائے گئے ہیں جو سویلین بالا دستی کی حمایت کا اظہار  کر رہے تھے۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ  میڈیا کے معاشی مسائل بھی موجود ہیں  لیکن  بہت سے ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کی واحد وجہ معاشی مسائل ہی نہین بلکہ کچھ اور عوامل بھی ہیں۔

اصل صورتحال کو جانچنے کے لیے  کسی راکٹ سائنس  کی ضرورت نہیں۔ پی ٹی آئی کے قانون سازی کے ریکارڈ اور اقتدار کے ابتدائی 100 دنوں میں اس کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں آپ کو پارلیمنٹ میں یا عوام کے سامنے بہت کم معاملات ایسے نظر آئیں گے جن پر قانون سازی کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہو۔

لیکن شروع میں تیار کیے گئے ڈرافٹس میں سے ایک (یہ ایسے تھا جیسے حکومت کو پہلا کام یہی تفویض کیا گیا ہو)  یہ تھا کہ تمام  میڈیا سٹیک ہولڈرز کو ایک چھتری کے نیچے جمع کیا جائے ۔

اس تجویز پر میڈیا میں سٹیک ہولڈرز خاص طور پر کام کرنے والے صحافیوں اور ایڈیٹرزکی طرف سے  سخت رد عمل آیا کیونکہ اسے ریگولیٹری فارمز کی شکل میں میڈیا پر مزید قدغنیں لگانے کی ایک کوشش  سمجھا گیا۔

وزیر اطلاعات جو کہ بیک وقت وزیر اعظم اور دوسرے ریاستی طاقتور اداروں کے بہت قریب  سمجھے جاتے  ہیں کی طرف سے سوشل میڈیا پر کنٹرول کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں  جو کہ  روائتی میڈیا کو خاموش کیے جانے کے بعد معلومات کے تبادلے  کا واحد ذریعہ سمجھا جا رہا تھا۔

سوشل میڈیا کے  صارف کی حیثیت سے میں یہ کہنے والا آخری شخص ہوں گا کہ یہ پلیٹ فارمز  اپنے آپ کو  جعلی خبروں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے استحصال کے لیے پیش نہین کرتے  لیکن یہ بلکل نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے لوگوں کی تعداد حد سے زیادہ ہے ۔ یہ چیز حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ پھر بھی جہاں ایسا مواد ہو اس کو  مسترد کر کے حقائق کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ایسا استعمال  حکام بالا کو خوفزدہ نہیں کرتا۔ جو چیز انہیں غیر محفوظ کرتی ہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے  جیسا کہ، مثال کے طور پر نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل اور ابتدائی تحقیقات کے بعد جس نے حقوق کی تحریک کو جنم دیا وہ سوشل میڈیا پر بپا ہونے واالا شور تھا۔  لیکن پھر بھی ڈر کیوں؟  ایسا نہیں ہے کہ ریاست کے اثاثوں کو  سزا اور مظلوم کو انصاف مل گیا ہو۔ اس وقت شاید پی ٹی آئی طاقت ور اداروں کے ساتھ ایک ہی  پیج پر رہنے کے لیے میڈیا پر پابندیوں کی حمایتی ہو ، لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان بامعنی تبدیلی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، تو ان کو دفتر میں شوکت عزیز سے زیادہ اختیارات  کا حصول یقینی بنانا ہو گا۔  طویل المدتی  سطح پر میڈیا ان  کا بہترین اتحادی ثابت ہو گا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ عمران کے ویژن میں یہ بات شامل ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *