عمران خان اپنے فیصلوں پر 50 مرتبہ پیچھے ہٹے

عمران خان اپنے فیصلوں پر 50 مرتبہ پیچھے ہٹے، حال ہی میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان سیاست میں یوٹرن کا جواز پیش کر چکے

یوٹرن جسے وزیر اعظم عمران خان نے قیادت کی شناخت کے طور پر بیان کیا تھا ، وہ پہلے 100 روز کے دوران تحریک انصاف حکومت کی مستقل پالیسی بن گیا ہے۔ خان اور ان کے کابینہ ممبران اپنے وعدوں اور کابینہ کے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر 50 مرتبہ پیچھے ہٹے ہیں۔ حال ہی میں 16 نومبر کو سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے سیاست میں یوٹرن لینے کا جواز پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق جو سیاستدان حالات کے مطابق یو ٹرن نہیں لیتا وہ حقیقی رہنما نہیں۔ دی نیوز نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے پہلے 100 روز میںلئے گئے یوٹرنز کی فہرست مرتب کی ہے۔ ۱، انتخابات سے قبل عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں ٹھہریں گے، وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے یہ اعلان کیا گیا کہ وہ اسپیکر ہاؤس میں رہیں گے، پھر فیصلہ بدل دیا گیا اور میڈیا کو بتایا گیا کہ وہ پنجاب ہاؤس میں رہیں گے۔ مگر

آخر کار انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس ہی میں رہائش اختیار کی جہاں وہ ملٹری سیکریٹری ہاؤس میں رہ رہے ہیں۔ ۲، انتخابات سے قبل انہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی بھی پروٹوکول نہیں لیں گے مگر ناصرف وہ وزیر اعظم کیلئے مخصوص چھ پرتعیش گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں بلکہ ملک کے ویز اعظم کی حیثیت سے تمام پروٹوکول بھی انہیں دئیے جارہے ہیں۔ ۳، عمران خان نے ہالینڈ کے وزیر اعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ سائیکل پر سفر کر سکتے ہیں تو ہمارے وزیر اعظم کیوں نہیں کرسکتے مگر ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اب وہ خود وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ کا سفر ہیلی کاپٹر میں کرتے ہیں۔ ۴، عمران خان سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو پنجاب کا سب سے بڑا لٹیرا کہتے تھے تاہم عام انتخابات میں کامیابی کے بعد پرویز الہٰی ناصرف عمران خان کے اہم اتحادی ہیں بلکہ تحریک انصاف نے انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب کیا۔ عمران خان نے صوبائی اور وفاقی کابینہ میں چند نشستیں بھی پرویز الہٰی کی جماعت کو دیں۔ ۵، عام انتخابات 2018 سے قبل عمران خان ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد جماعت کہتے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم چیف کے خلاف برطانیہ میں شکایت درج کرائیں گے تاہم عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایم کیو ایم ناصرف خان کی اتحادی جماعت ہے بلکہ انہوں نے وفاقی کابینہ میں بھی انہیں اہم عہدے دئیے۔ ۶، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف اٹھانے کے ایک دن بعد صحافیوں سے کہا تھا کہ وہ پہلے تین ماہ کے دوران بیرون ملک سفر نہیں کریں گے تاہم عمران خان کم از کم پانچ بیرون ملک کے دورے کرچکے ہیں جن میں سے دو سعودی عرب کے اور ایک ایک دورہ متحدہ عرب امارات، چین اور ملائیشیا کا شامل ہیں۔ ۷، عمران خان نے ایک عرصہ قبل ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ وہ شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھیں گے مگر شیخ رشید ناصرف عمران خان کی کابینہ کے رکن ہیں بلکہ وہ عمران خان کے اہم مشیروں میں سے بھی ایک ہیں۔ ۸، عمران خان حکومت کے پہلے کابینہ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی کابینہ بیرون ملک سفر کیلئے خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے بلکہ کمرشل فلائٹس کے ذریعے سفر کریں گے لیکن عمران خان نے وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں کیلئے مخصوص طیارہ ایئرفورس ون استعمال کیا۔ حتیٰ کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان سفر کیلئے چارٹرڈ طیارہ استعمال کیا۔ ۹، عمران خان اپنے سیاسی مخالفین پر اقرباء پروری کیلئے تنقید کیا کرتے تھے، انہوں نے ہمیشہ وعدہ کیا کہ وہ اہم عہدوں پر اہل افراد مقرر کریں گے کیونکہ وہ اقرباء پروری کے مخالف ہیں تاہم ان کے تمام قریبی دوستوں بشمول زلفی بخاری، نعیم الحق، عون چوہدری کو حکومت میں کوئی نہ کوئی کردار دیا گیا ہے۔ ۱۰، عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پولیس میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کریں گےاور پنجاب پولیس میں اصلاحات لائیں گے، انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سابق آئی جی پی کے پی کے ناصر درانی کو پولیس اصلاحات کمیٹی کا سربراہ مقرر کریں گے تاہم ڈی پی او پاکپتن کے واقعے کے بعد درانی نے کمیٹی کی سربراہی سے پولیس میں سیاسی مداخلت کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ ۱۱، عمران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی ٹیم میں کرپٹ افراد کو نہیں رکھیں گے مگر ان کی صوبائی اور وفاقی کابینہ کے کئی اہم ارکان نیب مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں پرویز الہٰی، علیم خان اور زلفی بخاری شامل ہیں۔ ۱۲، عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے مگر انہوں نے ناصرف وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کی اجازت دی بلکہ انہوں نے دیگر ممالک سے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کیلئے مالی امداد مانگی۔ ۱۳، ڈاکٹر عارف علوی نے صدر پاکستان کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پریذیڈنٹ ہاؤس میں نہیں رہیں گے مگر وہ بھی پریذیڈنٹ ہاؤس منتقل ہوچکے ہیں۔ ۱۴، دوسرے کابینہ اجلاس کے دوران عمران خان نے اپنی کابینہ کے ارکان کے بیرون ملک دوروں پر پابندی لگادی تھی مگر وہ خود اپنے بیرون ملک سفر کے دوران آدھے درجن وزراء کو اپنے ہمراہ لے گئے۔چین کےحالیہ دورے میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، عبد الرزاق داؤد، شیخ رشید، جام کمال اور دیگر وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ ۱۵، عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت افغانیوں اور بنگالیوں کو قومییت دے گی مگر بعد میں اس فیصلے کو وجوہات بتائے بغیر واپس لے لیا گیا۔ ۱۶، نواز شریف کی بطور وزیر اعظم نااہلی کے بعد عمران نے قوم کو بتایا کہ وہ پارٹی کے معاملات چلانے کیلئے کسی نا اہل شخص کو اجازت نہیں دیں گے مگر جہانگیر ترین نے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ وہ کئی آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی پلیٹ فورم پر لائے۔ دراصل عمران خان نے انہیں مال مویشی اور زراعت کیلئے ٹاسک فورس کا کنوینر بنایا۔ ۱۷، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ بیوروکریسی کو سیاست سے الگ کریں گے لیکن گزشتہ تین ماہ کے دوران عمران کی جماعت کی بیوروکریسی میں اکثر مداخلت سے کئی تنازعات پیداہوئے۔ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ، آئی جی پنجاب اور اسلام آباد کے تبادلے تحریک انصاف حکومت کی بیوروکریسی میں مداخلت کی مثالیں ہیں۔ ۱۸، حکومت میں آنے سے قبل عمران خان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے معاملات میں سیاسی مداخلت پر تنقید کرتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پی سی بی کو سیاست سے آزاد کریں گے مگر حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے قریبی دوست احسان مانی کو پی سی بی چیئرمین کے عہدہ کیلئے نامزد کردیا۔ ۱۹، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی کابینہ کو مختصر رکھیں گے اور محض 20 وزراء کا تقرر کریں گے تاہم وفاقی کابینہ کی تعداد تقریباً دگنی ہے۔ ۲۰، عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ پارلیمانی سیشنز کے دوران ہر ہفتے پارلیمنٹرینز کے سوالات کے جواب دیں گے تاہم 100 روز کا وقت گزر جانے کے باوجود عمران خان نے قومی اسمبلی کے 28 سیشنز میں سے صرف سات میں شرکت کی۔ ۲۱، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر تعمیر کریں گے جہاں ہر کوئی برابر ہوگا اور جہاں وی آئی پی کلچر کا کوئی تصور نہیں ہوگا تاہم اعظم سواتی، میاں محمود الرشید کے بیٹے اور عمران شاہ کے حالیہ واقعات نیا پاکستان میں وی آئی پی کلچر کی بہت تھوڑی سی مثالیں ہیں۔ ۲۲، عمران خان اور تحریک انصاف کے کئی دیگر رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد تقریباً 200 ارب ڈالرز کی لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لائیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد خان کے کابینہ ارکان نے واضح کیا کہ 200 ارب ڈالرز ٹھیک اعداد و شمار نہیں، یہ مفروضوں پر مبنی ہے۔ ۲۳، عمران خان اور ان کے قریبی معاون جیسے کہ اسد عمر پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے کیلئے وہ باقاعدہ ایک مکینزم تشکیل دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ پٹرولیم لیویز میں کمی لائیں گے جس سے پٹرول کی قیمتیں خود بخود کم ہوجائیں گی۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کئی مرتبہ پٹرول کی قیمتیں بڑھا چکی ہے۔ ۲۴، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بجلی نرخوں میں کمی کریں گے تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 2 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ ۲۵، ماضی میں عمران خان اور اسد عمر نے گیس کے نرخ بڑھانے پر پچھلی حکومت پر تنقید کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد قدرتی گیس کے نرخ کم کردیں گے۔ مگر عمران خان کی حکومت نے گیس کے نرخ میں 143 فیصد تک اضافہ کردیا ہے جو ماضی قریب میں سب زیادہ اضافہ ہے۔ ۲۶، تحریک انصاف میں جنوبی پنجاب صوبہ محاز کے ضم ہونے کے وقت عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ پنجاب میں ایک نئے صوبے کے قیام کیلئے پارلیمان میں ایک قرار داد منظور کی جائے گی۔لیکن حکومت کے 100 روز کے دوران پارلیمان کے سامنے کوئی بھی قرارداد پیش نہیں کی گئی۔ ۲۷، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کردیا جائے گا لیکن ناصرف عمران خان خود وزیر اعظم ہاؤس منتقل ہوگئے ہیں بلکہ ان کی جماعت کے وزیر اعلیٰ اور گورنرز بھی وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز منتقل ہوچکے ہیں۔ ۲۸، عمران خان نے ایک اور یوٹرن اکنامک ایڈوائزری کونسل کی تشکیل پر لیا۔ عاطف میاں کو اکنامک ایڈوائزری کونسل کا رکن مقرر کرنے کے بعد خان کی حکومت نے انہیں مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے دباؤ کا سامنا نہ کرنے پر عہدہ سے دستبردار ہونے کا کہا۔ ۲۹، خان کے کامرس کے مشیر رزاق داؤد نے سی پیک کے حوالے سے متنازع بیان جاری کیا۔ رزاق داؤد نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں انکشاف کیا کہ حکومت سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کا منصوبہ بنارہی ہے تاہم تحریک انصاف حکومت پر تنقید کے بعد مشیر اپنے الفاظ کھاگئے۔ ۳۰، انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کرنے پر بھی تنقید کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایسا متعلقہ محکموں کے سربراہان کی جانب سے کیا جانا چاہئے تھا۔ پھر عوام نے دیکھا کہ وہ خود اپنے الفاظ کے خلاف چلے گئے اور کسی دن راولپنڈی میانوالی ایکسپریس کا افتتاح کرڈالا۔ دررانی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ۳۱، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی جماعت میں کسی بھی الیکٹ ایبل کو خوش آمدید نہیں کہیں گے کیونکہ وہ حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں تاہم عمران خان نے حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ الیکٹ ایبلز کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے الیکٹ ایبلز کو خوش آمدید کہنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب انتخابات میں مقابلہ کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ۳۲، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نیب کو مطلوب شخص کو اپنی جماعت اور کابینہ میں شامل نہیں کریں گے مگر کئی رہنما بشمول پرویز خٹک، زلفی بخاری جو نیب کی تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں، آج وفاقی کابینہ کے ارکان ہیں۔ علیم خان بھی نیب انکوائری کا سامنا کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت کے سینئر وزیر ہیں۔ ۳۳، عمران خان نے دہری شہریت رکھنے والے افراد کو اہم حکومتی عہدوں پر تعینات کرنے پر پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاہم خان کی حکومت میں زلفی بخاری بہت بڑی مثال ہیں جن کی دہری شہریت ہے۔ ۳۴، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ قوم ان کی حکومت کے پہلے 100 روز میں واضح تبدیلی دیکھے گی مگر خان نے بعد میں کہا کہ ان کی حکومت کی کارکردگی جانچنے کیلئے کم از کم 6 ماہ کا وقت دیا جائے۔ اب تحریک انصاف کے چند وزراء نے یہ دعویٰ کرنا شروع کردیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی 100 روز کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ ۳۵، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 200 ماہرین کی ٹیم لائیں گے جو تمام حکومتی اداروں اور محکموں کی رہنمائی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے حکومتی اداروں میں ناصرف اصلاحات آئیں گی بلکہ کارکردگی بھی بہتر ہوگی مگر خان اہم اداروں میں ایسے ماہرین کا تقرر کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب انہوں نے اپنے ہی قریبی دوستوں کو حکومت میں چند اہم عہدوں پر مقرر کردیا ہے۔ ۳۶، عمران خان نے کوئلے سے بجلی پیدا نہ کرنے پر پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ پاکستان کے پاس کوئلے کے بڑے ذخائر ہیں ۔ تاہم جب پچھلی حکومت نے ساہیوال میں کوئلے کا پاور پلانٹ لگایا تو خان نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی ٹیکنالوجی فرسودہ ہے اور تقریباً ہر ترقی یافتہ ملک بشمول چین اس ٹیکنالوجی کو چھوڑ چکے ہیں۔ ۳۷، خان نے وعدہ کیا تھا کہ عوام پہلے 100 روز میں واضح تبدیلی دیکھیں گے اور ایک مرتبہ پی ٹی آئی حکومت بنالے تو وہ اپنا 100 روزہ منصوبے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اب تحریک انصاف کے وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس طرح کے 100 روز کا کوئی بھی منصوبہ نہیں تھا۔ اس 100 روزہ ایجنڈے کا اعلان اگلے پانچ سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت کے لائحہ عمل کیلئے سمت کا تعین کرنے کیلئے کیا گیا۔ ۳۸، عمران نے کے پی اور دیگر صوبوں میں احتساب کمیشن کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا مگر تقریباً آٹھ سو ملین خرچ کرنے کی بجائے صوبائی حکومت نے کمیشن کو تحلیل کردیا ہے۔ ۳۹، عمران خان نے ہمیشہ یہ وعدہ کیا کہ وہ میٹرو بس کے منصوبوں پر خرچ کر نے کی بجائے لوگوں پر خرچ کریں گے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے میٹرو بس منصوبے پر تنقید بھی کی تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے نون لیگ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پشاور میں مہنگے ترین میٹرو بس منصوبے کا آغاز کردیا۔ ۴۰، آسیہ بی بی کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدتحریک لبیک پاکستان نے پورے ملک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران تحریک لبیک کی قیادت کو تنبیہ کی تھی کہ حکومت ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کریں گے مگر تین دن بعد ان کے وزراء نے تحریک لبیک کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کردئیے۔ ۴۱، وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نان فائیلرز کو جائیداد اور نئی کاریں خریدنے کی اجازت ہوگی تاہم حکومت نے بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے نان فائیلرز کیلئے منظور کئے گئے ٹیکس فوائد سے پیچھے ہٹ گئی۔ ۴۲، عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے شہباز شریف کو حکومتی اشتہارات پر ان کی تصویر کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاہم ایک اخبار کے اشتہار میں عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تصویر سے نمایاں تضاد نظر آیا۔ ۴۳، اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایل این جی اور سی پیک منصوبوں کے سودوں کو عوام کے سامنے لائیں گے مگر اقتدار میں آنے کے بعد خان نے اپنے دونوں وعدوں پر یوٹرن لے لیا۔ ۴۴، عمران خان کے سعودی عرب کے پہلے دورے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فود چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے تیسرے اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے سی پیک میں شمولیت پر اتفاق کرلیا ہے تاہم چینی حکومت کے ردعمل پر تحریک انصاف کی حکومت نے اس پر بھی یوٹرن لے لیا۔ ۴۵، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پاکستانیوں کیلئے ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے مگر کے پی میں تحریک انصاف کے سینئر وزیر عاطف خان نے اب واضح کیا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ حکومتی محکموں میں نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ ۴۶، عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں پیشکش کی تھی کہ وہ اپنا کنٹینر حزب اختلاف کو دینے کو تیار ہیں اگر وہ ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہیں لیکن ایک مرتبہ تحریک لبیک نے تحریک انصاف حکومت کے خلاف احتجاج کی مہم کیا چلائی کہ خان نے تحریک لبیک کی قیادت کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ ۴۷، عمران خان نواز شریف کو ان کی جاتی امراء کی رہائش گاہ کیلئے ریاستی ذرائع کے استعمال پر تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے مگر اقتدار میں آنے کے بعد خان اپنی بنی گالا کی رہائش گاہ میں ناصرف سرکاری سیکورٹی سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ چند دیگر سہولیات جیسے کہ بلاناغہ بجلی کی فراہمی وغیرہ سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ۴۸، عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اگر حزب اختلاف کو تحفظات ہیں تو وہ کوئی بھی حلقہ دوبارہ گنتی کیلئے کھولنے کو تیار ہیں مگر جب خواجہ سعد رفیق نے این اے 131 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تو عمران خان نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کرلیا۔ ۴۹، وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی برطانیہ میں کچھ جائیدادوں کا سراغ لگایا ہے مگر جب ڈار نے ان کے دعوے کا سامنا کیا تو شہزاد اکبر نے یوٹرن لے لیا اور کہا کہ ڈار کی جائیدادوں کا سراغ برطانیہ میں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں لگایا گیا۔ ۵۰، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اگر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہ مودی سے سختی سے نمٹیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے بھارت کے ساتھ بار بار دوستی کے جذبے کا اِظہار کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *