قاہرہ کے مزید چند روز اورشہر اسکندریہ کا سفر

قاہرہ مصر کا دارلحکومت ہے اور افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ساتھ ہی یہ دنیا کا 17واں سب سے بڑا شہر ہے۔یہاں کی آبادی لگ بھگ 10ملین ہے۔ قاہرہ مصر کے شمال میں دریائے نیل کے کنارے پر واقع ہے۔ 19ویں صدی کے وسط میں شاہ اسماعیل نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی طرز پر شہر قاہرہ تعمیر کیا تھا جہاں سرکاری عمارتیں اور جدید طرز تعمیر دکھائی دیتی ہیں۔ جب کہ قدیم شہر میں سینکڑوں قدیم مساجد دکھائی دیتی ہیں۔
قاہرہ میں ہماری زیادہ تر سواری اوبیر ٹیکسی کے ذریعے ہوتی تھی ۔ لیکن الازہر یونیورسٹی نے پروگرام کے دوران یونیورسٹی بس کا بھی اہتما م کیا تھا۔ اس کے علاوہ قاہرہ کے میٹرو پربھی ہم نے سواری کی جو کافی آرام دہ تھی۔ سیکورٹی کا اچھا بندوبست تھا اور ہر اسٹیشن پر بیگ وغیرہ کی تلاشی لی جاتی تھی۔ جس سے اندازہ ہورہاتھا کہ یہ شہرتحفظ کے معاملے میں زیادہ حساس ہے۔قاہرہ کی سڑکیں ٹریفک سے ہمیشہ بھری رہتی تھیں اور گاڑیوں کے مسلسل ہارن نے مجھے کچھ دیر کے لیے ہندوستانی سڑکوں کی یاد دلادی تھی۔ ایک بات مجھے یہ پسند آئی کہ لوگ بلا کسی خوف و خطر سڑک پار کررہے تھے اور گاڑیاں بھی دھیمی ہو جاتی تھیں۔ جس سے اندازہ ہوا کہ ڈرائیور کی ہمدردی سڑک پار کرنے والوں کے ساتھ کافی ہے۔
اتوار11؍نومبر2018 کوعطیف قادری کی سربراہی میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک (Pyramid)اہرام دیکھنے کے لیے ہم سب روانہ ہوئے۔ اہرام مصر کا شمار انسان کی بنائی ہوئی عظیم ترین تعمیرات میں سے ایک ہے۔یہ اہرام زمان�ۂ قدیم کی مصری تہذیب کی سب سے پر شکوہ اور لافانی یادگار ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر متفق ہیں کہ ان اہرام کی تعمیر کا مقصد فراعین مصر اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کو دفن کرنا تھا۔اہرام کے قریب پہنچ کر اس بات کا احساس ہوا کہ آخر کس طرح انسانوں نے ایسی بلندترین عمارتیں بنائیں تھیں۔ کس طرح اتنے بھاری بھرکم اور وزنی پتھروں کو جوڑ ا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اہرام مصر کو دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک ماناگیاہے۔
سوموار؍12 نومبر 2018کوڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے ہم سب کو یہ اطلاع دی کہ قاہرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو اور اورینٹل زبانوں کے صدر ڈاکٹر جلال السعید الحفناوی صاحب نے ہم سبھی کو ڈپارٹمنٹ آنے کی دعوت دی ہے۔ ہم سب حسبِ معمول ناشتہ سے فارغ ہو کر تیار ہوگیے اور بذریعۂ ٹیکسی قاہرہ یونیورسٹی پہنچ گیے۔یونیورسٹی کے گیٹ پر سیکوریٹی کا زبردست انتظام تھا۔ اندر داخل ہونے کے لیے ہمیں ڈاکٹر جلال کی مدد لینی پڑی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مصری انداز میں ایک رعب دار آواز کے ساتھ سیکورٹی اسٹاف سے ہمارے اندر داخل ہونے کی بات کی اور ہم کچھ ہی پل میں یونیورسٹی کے اندر داخل ہو گیے۔ قاہرہ یونیورسٹی 1908میں قائم ہوئی تھی۔ تاہم 1908سے 1940تک اس کا نام Egyptian Universityتھا۔ اس کے بعد 1940سے 1952تک اس کا نام King Fuad I Universityتھا۔قاہرہ یونیورسٹی ،الازہر یونیورسٹی کے بعدمصرکی دوسری سب سے قدیم یونیورسٹی ہے۔اس میں لگ بھگ 280,000طالب علم 22 شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ہم سبھی لوگ ڈاکٹر جلال اورڈاکٹر خواجہ صاحبان کی رہنمائی میں شعبۂ ادبیات میں داخل ہوئے جو کہ قریب ہی میں واقع تھا۔ چند زینے طے کرتے ہوئے ڈاکٹر جلال کے خاص دفتر میں داخل ہوئے جہاں کئی کرسیاں سجی ہوئی تھیں اور ڈاکٹر صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہوگیے۔عربی زبان کی مدھر آواز کانوں سے مسلسل ٹکرا رہی تھی اور یہ احساس ہورہاتھا کہ شعبہ اردو میں عربی زبان کا استعمال عام ہے۔ڈاکٹر جلال ہم سبھی سے مخاطب ہو کر بات چیت کر تے اور گاہے بگاہے اپنے اسٹاف اور طالب علموں کا بھی خیال رکھتے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ڈاکٹر جلال ایک مصروف اور ذمّہ دار پروفیسر ہیں۔ تصویروں کا سلسلہ جاری رہا اور ہر کوئی ڈاکٹر جلال کے ساتھ تصویر کھینچوانے میں دل چسپی دکھا رہے تھے۔دورانِ گفتگو ڈاکٹر جلال نے اپنی مصروفیات اور کچھ پریشانیوں کا بھی ذکر کیا۔ ابھی ہم سب محوگفتگوہی تھے کہ ڈاکٹر جلال نے ہمیں لنچ کے لیے یونیورسٹی کی ایک شاندار کینٹین لے گیے۔ کینٹین کے مینو سے ہم سب پریشان تھے کہ کیا کھایا جائے اور کیا نہ کھایا جائے۔ آخر ہم سب نے کھانا آرڈر کرنے کا فیصلہ ڈاکٹر جلال پر چھوڑ دیا۔
میں نے برطانیہ میں یہ بارہا محسوس کیا ہے کہ عرب اور مشرق وسطیٰ کے لوگ کھانا ہم سے زیادہ کھاتے اور آرڈر کرتے ہیں ۔ اگر ہم نے ان کی دعوت پر کم کھانا منگوایا یا کھانے سے انکار کیاتوشاید انہیں ہماری یہ بات ناگوار گزرتی ہے۔میں اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ڈاکٹر جلال سے اردو زبان اور شعبے سے متعلق کئی سوال کر ڈالے۔ڈاکٹرجلال نے بتایا کہ وہ فارسی زبان کے طالب علم تھے اور جب انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ کی ضرورت پڑی تو انہیں بدقسمتی سے فارسی زبان میں اسکالر شپ نہ مل سکی۔ تاہم انہیں فارسی کی جگہ اردو زبان میں اسکالر شپ کا آفر ملا اور انہوں نے اس طرح اردو زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔
منگل 13؍ نومبر2018 کو ہمیں قاہرہ سے اسکندریہ جانا تھا۔ ہم صبح سویرے تیار ہو کر قاہرہ کے معروف رمسیس اسٹیشن پہنچ گیے۔صبح سات بجے کی ٹرین ہماری منتظر تھی۔ اسٹیشن مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا ۔ اس بھیڑ سے اندازہ ہورہا تھا کہ لوگ ٹرینوں میں خوب سفر کرتے ہیں۔ قاہرہ سے تقریباً ڈھائی گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم اسکندریہ پہنچ گیے۔ پلیٹ فارم پر ڈاکٹر خواجہ صاحب کی دو ہونہار طالبہ ہم سب کا انتظار کر رہی تھیں۔خواجہ صاحب پرنظر پڑتے ہی ینس اور تقی محمدکے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی گاڑی کا بندوبست تھا جس پر ہم سب سوار ہو کر پہلے ایک مقامی ریستوران میں ناشتہ کیا۔ اس کے بعد ہمارا قافلہ اسکندریہ کے معروف تاریخی اسکندریہ لائبریری کی طرف چل پڑا۔کہا جاتاہے کہ یہ لائبریری Ptolemy II Philadelphusکے دورِ حکومت میں (285-246 BC)قائم ہوئی تھی۔لائبریری میں داخل ہونے کے لیے پہلے ٹکٹ خریدا گیا اور پھر ہم سب اندر ینس کی رہنمائی میں لائبریری کی سیر کرنے لگے۔ ریڈنگ روم جدید آرائش سے سجا ہوا تھا اور اس کے آس پاس کئی قدیم پرنٹگ مشینوں کی نمائش بھی لگی ہوئی تھی۔لائبریری کے ایک حصّے میں انور سادات کی گولی لگی ہوئی ملٹری یونیفارم بھی نمائش کے لیے رکھاگیاہے۔جو اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ مصریوں کو ملٹری جنرل کی حکمرانی پر ناز تھا۔اس طرح مزید کئی مقامات دیکھنے کے بعد ہم سب سمندر کے کنارے پہنچے اور کچھ وقت گزارنے کے بعد قریب کے ایک ریستوران میں کھانا کھانے چلے گیے۔ شام کی سرد ہواؤں کا مزہ لیتے ہوئے ہم واپس اسٹیشن پہنچے اور ٹرین سے قاہر ہ کی طرف روانہ ہوگیے۔
بدھ 14؍ نومبر2018 کو ہم سب ایک بار پھر طلبا وطالبات کو خطاب کرنے کے لیے الازہر یونیورسٹی پہنچے۔ اس محفل میں پہلے ، دوسرے اور تیسرے سال کی طالبات سے مخاطب ہوکر اپنی بات رکھی اور ان کے سوالات کا جواب بھی دیا۔تاہم ہمیں اس بات کا بھی احساس ہوا کہ زیادہ تر طالبات اردو بولنے میں یا تو جھجھک رہی تھیں یا وہ بول نہیں پارہی تھیں۔ شاید اس کی وجہ عربی زبان میں اردو کی تدریس ہو یا عربی ماحول کا اثر ہو۔پروگرام کے اخیر میں صدر شعبۂ اردو ابراہیم محمد ابراہیم نے ہم سبھی احباب کا شکریہ اداکرتے ہوئے توصیفی سند سے نوازا۔
جمعرات 15؍نومبر2018 کو ہم اردو زبان کی طالبہ مریم ریحان کے ہمراہ قاہرہ کے معروف میوزیم دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سے قبل اردو کی طالبہ ندا امین کے اصرار پر ہم بچّوں کے کینسر ہسپتال گیے۔ندا اس ہسپتال میں بطور والنٹیر ہر جمعرات کو کینسر سے متاثر بچوں کو قرآن پڑھاتی ہیں اس کے علاوہ میوزک تھیراپی بھی مہیا کرتی ہیں۔ یہ ہسپتال جدید عمارت اور سہولیات سے آراستہ ہے۔ ندا امین نے ہمیں ہسپتال کی تمام چیزوں سے متعارف کرایا۔ اس ہسپتال کی ایک بات مجھے بڑی عجیب لیکن اچھی لگی وہ یہ کہ اس کا نام نمبروں پر ہے۔57357 Hospital) )جو کہ ہسپتال کے بینک اکاؤنٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ لوگوں کو عطیہ دینے میں دشواری نہ ہو۔تھوڑی دیر ہسپتال میں وقت گزارنے کے بعد ہم میوزیم پہنچے جہاں قدیم مصری مجسمے اپنی آن،بان ا ور شان سے لوگوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے تھے۔ اس میوزیم میں 120,000اشیاء موجود ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ پورا میوزیم دیکھنے کے لیے ایک دن درکار ہے۔
رات کی سیاہی نے قاہرہ کی گلیوں میں سنّاٹا پھیلا دیا تھا اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سے بے پرواہ ہو کر مصری لوگ دن بھر کی تھکان میٹھی نیند سے پوری کررہے تھے۔لیکن سفر کی تیاریوں نے مجھے میٹھی نیند سے محروم رکھا کیوں کہ صبح 3:45کی فلائٹ سے مجھے لندن واپس آنا تھا اس لیے میں اپنا سامان باندھ کر ائیر پورٹ کے لیے نکل پڑا۔ جہاز پر بیٹھتے ہی مصر کی مہمان نوازی اور عزت افزائی ذہن ودل کے خانوں میں نقش ہوتے چلے گیے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یوسف کے شہر میں زلیخا جیسی چاہت اور حسنِ یوسف کے قصوں میں حسینوں جیسی شیرینی آج بھی مصریوں کے اندر موجود ہے جن کے قصے پوری دنیا میں منفرد مہمان نوازی کی وجہ سے مشہور ومعروف ہیں ۔میرا ذہن اسی سوچ وفکرمیں غرق تھا کہ اچانک جہازنے قاہرہ ائیر پورٹ کو خیرآباد کہہ کر لندن کی جانب اڑان بھرلی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *