100 دن کا ناچ گانا

100 دن کے ٹائم لائن کے بارے میں کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی اور کسی حکومت سے اس دورانیے میں پالیسی کے نتائج فراہم کرنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی، جب تک کہ پالیسی کے نتائج بہت معمولی نوعیت کے نہ ہوں۔ اب یہ واضح نہیں کہ اصل میں 100 دن کے کیا وعدے تھے، پی ٹی آئی  نے حکومت میں آتے ہی 100 روزہ ایجنڈا کو نظر انداز کر دیا  ، باوجود اس حقیقت کے کہ الیکشن سے قبل اس نے خود 100 روزہ پلان سامنے لانے کا اعلان کیا اور اس پر تسلسل سے بیان بازی بھی کی۔

کیا عمران خان نے یہ کہا کہ 'مجھے فراہمی کے لیے 100 دن دیے جائیں' یا یہ کہا کہ 'میری حکومت کے بنائے گئے پالیسی اختیارات پر تنقیدی تبصروں کے طوفانی دروازوں کے کھلنے کا 100 دن تک انتظار کریں'؟ یہ واضح نہیں ہے، اور جس طرح صورتحال بن رہی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ زیادہ تر یہ لگتا ہے کہ یہ لوگ وقت کے ساتھ اپنے ایجنڈے پر عمل کر لیں گے۔

یہاں اس سے متعلقہ ایک پکا اصول ہے: اپنے طریقے سے حکومت چلانے کی کوشش نہ کریں۔  ایسا نہ کریں کہ پہلے گیم پلان کا اعلان کیا پھر اس کا حل ڈھونڈا۔ یہ پبلک پالیسی اور کارپوریٹ زندگی کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ پبلک پالیسی میں فیصلوں کا کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر ایک اثر ہوتا ہے، اور ان کی ایک مجموعی آواز ہوتی ہے۔ کارپوریٹ زندگی میں مثال کے طور پر آپ دودھ کے پیکٹ کی قیمت کو ایک  حد تک بڑھا سکتے ہیں، اور آپ کے صارفین کی طرف سے کوئی شور شرابا نہیں ہو گا۔ عوامی زندگی میں  اگر دودھ یا آٹے کے تھیلے کی  قیمت میں ایک مخصوص حد سے زیادہ اضافہ ہو تو شور مچ جائے گا، اور عوام  یہ  انصاف سے قطع نظر  صرف حکومت ہی ہی الزام دیں گے۔

پہلے 100 دن بلا شبہ پالیسی کے نتائج کو پرکھنے کے لیے کافی نہیں ہیں  لیکن پالیسی کی سمت کے تعین کے لیے یا فیصلہ سازی  کی اہلیت کی جانچ کے لیے مناسب وقت ہے۔  اس نکتے پر پہلے ہی بہت زور دیا گیا ہے اور اسے دہرانا بھی ضروری ہے کیونکہ  حکومت کو غیر معینہ مدت کا ہنی مون کے لیے وقت نہیں دیا جا سکتا۔ پہلے 100 دن   فیصلہ سازی کے ڈھانچے کو  صحیح جگہ پررکھنے اور کام کے باقاعدہ آغاز کے لیے کافی ہوتے ہیں ۔

تو آئیں دیکھتے ہیں کہ حکومت اس پہلو سے کتنی بہتر رہی۔ نئے وزیر اعظم کا پہلا ٹی وی پر نشر ہونے والا قوم کو  خطاب آپ کہ یاد ہو گا  جس نے عوام کو بہت متاثر کیا تھا۔ انہوں نے واضح کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی دماغی کمزوری ہے جس کا باعث  غذائیت کی کمی ہے۔ اور 2 بچوں کے دماغی خاکوں کے 2 فوٹوگراف دکھائے۔ ایک تصویر صحت منددماغ والے بچے کی تھی اور دوسری کمزور دماغ والے بچے کی۔ پھر انہوں نے یہ وضاحت کیے بغیر کہ  فوٹو گراف میں کیا دکھایا گیا ہے، فوٹو گراف کو نیچے رکھ دیا۔

کوئی بات نہیں۔ یہ حقیقت کہ کرسی وزارت پر بیٹھے وزیر اعظم  کی طرف سے یہ نکتہ پیش کرنا کہ ملک کے بچوں کی صحت ان کی اولین ترجیح ہے تازہ ہوا کا  جھونکا محسوس ہوا۔ جو لوگ بچوں کی دماغی کمزوری کے بارے میں تھوڑا بھی جانتے ہیں آپ کو بتائیں گے کہ ایسے بچوں کے دماغ میں بہت ہی عجیب و غریب مسائل ہوتے ہیں  جس کا تعلق محض  کلورفک ان ٹیک سے نہیں ہوتا۔

مسئلے کا حل کرنا صوبائی حکومتوں  کی ذمہ داری میں آتا ہے ۔ کیا اب ہمیں  مرکزی حکومت سے صوبائی حکومتوں سے مل کر پلوں کی تعمیر کی بڑی کوشش کی توقع رکھنی چاہیے؟ کیا ضرورت اس مر کی ہے کہ کمزوری کے مسئلے کے بارے میں ملک میں موجود ماہرین سے رابطے کرنے چاہیے؟  مہارت کے ذخیروں کو جگائیں؟ ایسے پروگرام بنائیں جو ماحولیات جن میں بچے پروان چڑھتے ہیں کو بدلنے کے لیے صوبائی اور مقامی حکام کا ساتھ دیں؟پیدائش سے پہلے کی صحت، عورتوں کی تعلیم، حفظان صحت اور صاف پانی، بچوں کی غذا میں نیوٹریشن بیلنس کا شعور بڑھانے کے ساتھ ساتھمعاشرے کے سب سے غریب حصوں میں بہتر غذا دستیاب کرنے کے جدید طریقوں کو تلاش کریں؟ کیوں کہ اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ایک وسیع، گہری اور لمبی مصروفیت سے کم کچھ بھی فائدہ مند ثابت  نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔  ہم نے سنا کہ سٹنٹنگ پر نگرانی کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی گئی، لیکن ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کے اس کے ارکان کون کون ہیں؟ انہوں نے کتنی میٹنگز منعقد کی ہیں؟ مسئلے کے حل کے لیے ایکشن پلان کی تیاری کے معاملے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ ؟ ٹاسک فورس یا وزیر اعظم ہاؤس  کی طرف سے چائلڈ سٹنٹنگ کے کتنے ماہرین سے مدد کے لیے رابطے قائم کیے گئے ہیں؟  ان سوالات کے جوابات کی توقع کرنے کے لیے 100 دن کا عرصہ بہت جلدی نہیں قرار دیا جاسکتا۔  یہی صورتحال باقی تمام وعدوں کی بھی ہے جو عوام سے کیے گئے تھے  جن میں کہا گیا کہ  غیر ملک میں موجود  اربوں ڈالر واپس لائے جائیں گے  جن س ملک کے بہت سے خسارے کے مسائل حل ہو جائیں گے ، ایک نیا اور شفاف ٹیکسیشن سسٹم متعارف کروایا جائے گا،  اور عدالتی معاملات اور لوکل باڈیز میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ یہ نکات میری طرف سے نہیں بلکہ  یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر ہم سب  وزیر اعظم  سے سنتے رہے ہیں۔  ان پہلوں پر کتنا کام ہو رہا ہے؟اس کے بجائے ہمارے پاس چند ہفتے بعد کی ایک اور تقریر تھی جس میں اچانک ایک اور اولین ترجیح ابھر آئی: پانی کی کمی۔  اس کا حل کیسے نکالا جائے گا۔  حل یہ نکالا گیا کہ وزیر اعظم  بھی چیف جسٹس کی طرف سے چلائی گئی ڈیم فنڈ سکیم میں ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔  انہوں نے تمام اوور سیز پاکستانیوں سے کھلے دل سے امداد دینے کی درخواست کی اور کہا کہ  یہ واحد اہم معاملہ تھا جو ملک کو درپیش تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر فنڈز کے مناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اس کی خود نگرانی کریں گے۔ لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد سپریم کورٹ  جس نے یہ سکیم شروع کی تھی نے رقم کے استعمال کے میکنزم کے بارے میں فیصلہ کیا۔ اس میکانزم  میں وزیر اعظم کے لیے کوئی کردار منتخب نہیں کیا گیا  اور صرف ججز کو سارے فرائض سونپے گئے۔  اور پھر وزیر اعظم کی طرف سے ڈیم فنڈ کے بارے میں سب باتیں ختم ہو گئیں۔ میںیہی  کہہ سکتا ہوں کہ ''آپ نے مجھے چائلڈ سٹنٹنگ پر لیا اور ڈیم فنڈ پر گنوا دیا'۔  یہ سمجھنے کے لیے تعداد کا ذکر کرنے، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کرنے یا کسی اور ڈرامہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کے  فیصلے کرنے  کے بعد پہلے سو دن اور آخری سو دن کا کوئی فرق واضح نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *