اسے کہنا دسمبر لوٹ آیا ہے

کبھی کبھی مجسم تخلیق کار بننے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا موضوع ذہن میں آیا۔ قلم اٹھایا اور خیالات کو ترتیب میں لانے لگی اور شیخ چلی کی طرح دل میں خوش ہونے لگی کہ جی بس اب اس دنیا کی کوئی طاقت مجھے بڑا مزاح نگار بننے سے نہیں روک سکتی۔ میری یہ تحریر دنیائے ادب میں تہلکہ مچا دے گی۔ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنے کمرے کے باہر لگی لال بتی جلا دی جس کا مطلب تھا کہ اب محترمہ کا قلم رواں ہوچکا ہے اور اردگرد کوئی چڑیا کا بچہ بھی پر مارنے کی جرات نہ کرے۔ ورنہ اس کی ایسی کی تیسی۔ ابھی ماحول بنا ہی تھا کہ پتا چلتا ہے کہ "تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم" کے مصداق مزاح نگاری کی دنیا کا بہت بڑا نام جو کہ مجھ جیسوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اس موضوع پر پہلے سے ہی پھڑکتی ہوئی تحریر لکھ چکے ہیں۔ اب تو یقین ہو چلا کہ اس نئی ابھرتی ہوئی مزاح نگار کی مزاح نگاری چند ہی سانسیں لینے کے بعد دم توڑ دے گی۔
تعلق چوں کہ ڈھیٹوں کے خاندان سے ہے۔ باز آ جاوں یہ ہو نہیں سکتا۔ اوپر سے دسمبر ٹھہرا پیدائش کا مہینہ تو اس پر سب سے زیادہ حق بھی میں اپنا ہی سمجھتی ہوں۔ ایک عمر گزر گئی اس دسمبر سے عشق کرتے۔ یکم تاریخ سے ہی ایک ان جانی سی خوشی ہم نوا ہوتی ہے جو پورے پچیس دن ساتھ نبھاتی ہے۔ پھول۔۔۔ خوشبو۔۔۔ گجرے۔۔۔ حتی کہ مہنگے ترین تحائف بھی۔۔۔ سب اچھے لگنے لگتے ہیں۔ اس مہینے چوں کہ کپڑوں اور دیگر آرائش و زیبائش کے سٹاک میں بے بہا اضافہ ہوتا ہے اس لیے یہ مہینہ کم از کم میرے لیے نہایت بابرکت ثابت ہوا ہے۔ تھوڑا بہت ستاروں کی چال اور اس علم سے واقفیت بھی ہے تو میں جانتی ہوں کہ دسمبر سچے، باوفا اور مخلص لوگوں کا مہینہ ہے۔ اب ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آئینہ میں خود کا جائزہ لیتے ہوئے اس علم پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ کوئی اس کی شان میں گستاخی کرے یہ برداشت سے باہر ہے۔ کیا کیا جائے کہ یہ مہینہ جتنا پیارا ہے اتنی ہی ذلت اس کے حصے میں آئی ہے۔
ماہ دسمبر پر تحقیق کی تو پتا چلا کہ دسمبر عیسوی کیلینڈر کا بارہواں جب کہ رومی تقویم کا دسواں مہینہ تھا۔ نیز دنیا کے عظیم لوگ اسی مہینہ میں پیدا ہوئے جیسا کہ آپ عائشہ عظیم کو لیجیے۔ اب اپنے منھ میاں نکٹھو بننا کہاں زیب دے گا۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی دسمبر کی۔ اسے سال کا آخری مہینہ ہونے کی پاداش میں نامراد عاشقوں نے جدائی اور ہجر کا استعارہ بنا کے رکھ دیا ہے اور ایسی ایسی شاعری کرتے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس مہینہ کے چڑھتے ہی ان شہیدانِ محبت کی حالت غیر ہوجاتی ہے۔عجیب سے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ منھ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے۔ ہاتھ پاوں مڑ جاتے ہیں۔ گریبان چاک چاک ہو جاتے ہیں۔ سرد آہیں بھرنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا کہ عاشقوں کی ساری فوج دل دریدہ جنگلوں ریگستانوں کو نکل جائے گی۔ ان غریبوں کی حالت زار دیکھ کر کبھی کبھی تو سچ میں یہ دسمبر کسی دو مونہی سانپ کی طرح لگنے لگتا ہے جو ہر سال آجاتا ہے ان عاشقوں کو ڈسنے۔ یہ فصلی بٹیرے یعنی کہ موسمی عاشق صرف دسمبر کے پورے تیس۔۔۔۔ نہیں نہیں اکتیس دن تک فیس بک پہ ڈھاڑیں مار مار کے محبوب کے فراق میں طبع آزمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم دردی ہوتی ہے کراچی کے ان عاشقوں سے جنھیں دسمبری شاعری کرنے کے لیے سرد موسم میسر نہیں آتا۔ مگر آفرین ہے ان پر کہ وہ بھی اس رسم میں شامل ہوتے ہوئے ناکام عاشقوں میں اپنا نام لکھوانا پسند کرتے ہیں۔ ایک بے چارا دسمبر جو اپنے لوٹ آنے پر پچھتانے لگتا ہے۔ آخر کار اس کی بھی بارگاہ ایزدی میں سنی جاتی ہے اور اکتیسویں رات وہ رات ہوتی ہے جب ان ہجر کے ماروں کی مشکل تمام ہو جاتی ہے۔ کہیں شراب تو کہیں شباب سے کام چلایا جاتا ہے۔ باقی بچے کچے مریضانِ دسمبر کی تمام تر شاعری اور دکھ درد ہلے گلے اور شور شرابے کی نظر ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف ایک ہی نعرہ مستانہ سنائی دیتا ہے کہ

پارٹی ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔

محبت اور سابقہ محبوب پہ تین حرف بھیجتے ہوئے New Year Resolution کے ساتھ ساتھ نئے محبوبوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک رات میری زندگی میں بھی آئی تھی۔ وہ31 دسمبر کی شام تھی.. اگلے روز سے تدریسی فرائض کی ادائیگی کے لیے گوجرانوالہ کا رخ کرنا تھا.. بیٹھے بیٹھے پروگرام بنا کہ چلو کھانا کھانے باہر چلتے ہیں..گھر بھر کی بچہ پارٹی کو تیار کیا اور نکل پڑے جونہی گاڑی کینال روڈ پہ ڈالی تو کیا دیکھا کہ گاڑیوں کا ایک اژدہام ہے جس کا رخ بحریہ ٹاون کی طرف تھا. حیرانی تو تھی کہ یہ سب ایک ہی سمت میں کیوں جا رہے ہیں. لیکن پھر سوچا کہ آج کی رات کی مناسبت سے کوئی پروگرام ہو گا.. اپنے مخصوص ریستوران سے پشاور کی مخصوص کابلی روٹی کے ساتھ چپلی کباب کے مزے اڑائے. بعد ازاں کچھ ناگزیر خریداری کے بعد جب واپسی ہوئی تو گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو چکا تھا. اب تو میں بھی اپنے عیال سمیت اس قافلے میں شامل ہو چکی تھی جس کی منزل بحریہ ٹاون کا وہ مخصوص علاقہ تھا، جس سے مکمل طور پر نا آشنائی تھی. تجسس بھی بڑھ گیا کہ آخر وہاں ایسا کیا ہے. لیں جی ہم پہنچ گئے اب پارکنگ کا مسلہ درپیش تھا. اگر میں یہ کہوں کہ گاڑیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی تو مبالغہ نہ ہو گا. بہرحال بہت تلاش کے بعد آخر گاڑی کے لیے پارکنگ مل ہی گئی۔ مگر ابھی بھی گتھی سلجھ نہ سکی کہ آخر یہ سب لوگ اس جوش کے ساتھ مخصوص سمت میں کیوں جا رہے ہیں. دل میں آیا کہ کسی سے پوچھ ہی لیں کہ آخر وہاں ہے کیا. لیکن شرمندگی کے خوف سے کسی سے کچھ پوچھنے کی جرات نہ ہوئی کہ لوگ کیا کہیں گے. نظر دوڑائی تو اس پیادہ قافلے میں ہر عمر کے لوگ تھے. کچھ دوست سیلفیاں لے رہے تھے کہ چلتے ہوئے دوستوں کے ساتھ ہر منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیں. ایک جوڑا چند قدم کے فاصلے پر تھا.. شوہر چلتے چلتے وقفے وقفے سے اپنی بیوی کی کمر کو اپنے بازو کے حصار میں لے کر محبت کا اظہار کر رہا تھا. چھوٹے بچے، شیر خوار، نوجوان لڑکے لڑکیاں، ادھیڑ عمر بوڑھے غرض ہر عمر کے لوگ اس گروہ میں شامل تھے. ہم بھی چلتے چلتے اس میدان میں پہنچ ہی گئے کہ جہاں ایفل ٹاور کے سائے میں سال گذشتہ کو رخصت کرنے اور سال نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے یہ جم غفیر موجود تھا. live concert نے الگ ہی ماحول بنا رکھا تھا.. ہر کسی کی کوشش تھی کہ بس پرفارمرز کی ایک جھلک نظر آجائے.. نوجوانوں کا جذبہ دیدنی تھا. یہاں یہ واضح کرتی چلوں کہ یہ وہی نوجوان تھے جنھوں نے پورا مہینہ تکلیف میں کاٹا تھا۔ ابھی سارا معاملہ سمجھ آیا ہی تھا کہ گھڑیال نے 12 بجا دیے.. آسمان پر آتش بازی کا بہترین نظارہ تھا. ہر طرف رنگ و نور کا عالم تھا. اگر اس وقت فرشتوں کو رب کریم نے کوئی assignment دے کر بھیجی ہو گی تو وہ بھی ڈر کر زمین کی طرف اترنے کی بجائے واپس آسمان کو لوٹ گئے ہوں گے اور حکم عدولی کے مرتکب ہوتے ہوئے اپنے خالق کے غیظ و غضب کا شکار ہوئےہوں گے. رہ گیا معاملہ زمین والوں کا تو نئے سال کو خوش آمدید کہنے والوں کے لیے واپسی بھی ایک مرحلہ تھا.. صبح کے 4 بج چکے تھے اور ہم ٹریفک میں بری طرح سے پھنسے ہوئے تھے اور خود پر افسوس تو واجب تھا کہ کاش اس تجسس کا شکار ہی نہ ہوتے. اب یہ بھی نہیں پتا کہ نئے سال میں داخلہ ہوا بھی یا نہیں مگر گھر سے رات بھر باہر رہنے اور اگلے دن کالج نہ پہنچ سکنے پر جو عزت افزائی ہوئی وہ سال بھر یاد رہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *