نااہلی کیس: زلفی بخاری کی درخواست خارج کرنے کی استدعا

اسلام آباد: وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی زلفی بخاری نے اپنی نااہلی کیلئے دائر درخواست خارج کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے استدعا کردی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے نااہلی کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا۔

زلفی بخاری نے اپنی نااہلی کے لیے دائر درخواست کے خلاف جواب میں مذکورہ درخواست خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے، وہ برطانیہ میں پیدا ہوئے اور شہریت بعد میں حاصل نہیں کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ زلفی بخاری نے برطانوی شہری ہوتے ہوئے بھی پاکستانی شہریت حاصل کی، انہوں نے 13سے 18 سال کی عمر تک اسلام آباد کے نجی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اعلی تعلیم برطانوی یونیورسٹی برونیل سے حاصل کی۔

زلفی بخاری نے اپنے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہوتا ہے جبکہ وہ رکن پارلیمنٹ نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو معاون خصوصی تعینات کرنے کا مکمل اختیار ہے اور زلفی بخاری سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں وزیراعظم کی معاونت کرتے ہیں۔

زلفی بخاری کے جواب میں مزید بتایا گیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق عدالت نے دیا، ووٹ کا حق دے کر قومی ترقی میں انہیں شامل نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، آئی ایم ایف سمیت کئی اداروں سے معاونت حاصل کرتا ہے، عالمی اداروں کے غیر ملکی سربراہان سے معاونت لی جا سکتی ہے تو دوہری شہریت والے پاکستانی سے کیوں نہیں۔

دوران سماعت درخواست گزار عادل چٹھہ کے وکیل کے جونیئر نے عدالت کو بتایا کہ وکیل ظفر کلانوری دل کے علاج کے لیے امریکا میں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اقربا پروری پر تقرریاں ہوں گی تو عدالت مداخلت کرے گی، عدالت کے پاس نظر ثانی کا اختیار ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ کسی کو افسوس ہوا ہے تو ہم اپنے فیصلے بدل نہیں سکتے، عدالت کا یہ کام ہے کہ انتظامیہ کو ٹھیک کرے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے وکیل میاں ظفر اقبال کلانوری کی عدم دستیابی پر زلفی بخاری کیس کی سماعت 24 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 18 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *