قانون کی حکمرانی یا افراد کی

ستمبر 2016 میں  مصطفی امپیکس کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جشن مناتے ہوئے میں نے یہ  عنوان استعمال کیا تھا  کیونکہ اس فیصلہ سے مجھے صاف نظر آیا تھا کہ اب افراد کی طاقت ختم ہو چکی ہے  اور ہمارا آئین اب قانون کے تحت کام کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ سے مراد  وزیر اعظم اور وزراء ہیں  اور فیڈرل گورنمنٹ کے فیصلے سے مراد صرف وہی فیصلے ہوتے ہیں جو کابینہ کے ساتھ مشاورت کے بعد کیے گئے ہوں۔  میں نے کہا تھا کہ  اس فیصلہ میں کوئی بیانیہ نہیں ہے، کوئی پاپولزم نہیں ہے، اور نہ کوئی پینترا ہے۔ یہ عدالت چوہدری افتخار کی عدالت کی طرح حکومت کے کان مروڑنے کی کوشش نہیں کرتی ۔ عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرتی۔

مصطفی امپیکس کا فیصلہ ہمارے چیف جسٹس ثاقب نثار نے لکھا تھا ۔ میں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ  "عدلیہ کے مینڈیٹ کے بارے میں ان کا رویہ معتدل ، جارحیت سے خالی اور کلیر ہے۔ 21ویں ترمیم سے متعلق کیس میں انہوں نے پوچھا تھا: ریاست کی آئینی طاقت کہاں موجود ہوتی ہے؟ یہ ایک غیر منتخب عدلیہ   جو قومی مفاد اور پوری نیک نیتی کے ساتھ کام کرے  یا پھر ایسی حکومت کے پاس جو عوام نے منتخب کی ہو چاہے وہ ہمیشہ عوام کی توقعات پر پورے نہ اترتے ہوں؟ میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: یہ طاقت منتخب حکومت کے پاس ہوتی ہے نہ کہ عدلیہ کے پاس۔

میں نے یہ رائے دی تھی کہ : ان کے فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ  اختیارات کے غلط استعمال کور وکنے کے لیے  ضروری ہے کہ اختیارات کو یکطرفہ استعمال کرنے کی بجائے تقسیم کیا جائے۔ میں نے اس معاملے میں 21ویں ترمیم کے معاملے میں ہونے والے کیس پر انحصار کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ: کسی بھی شخص کو اختیارات دینا چاہے وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتا ہو یا مقننہ سے، آئین کی رو سے قابل ستائش نہیں ہے  بلکہ آئین ایک ادارے کے اندر ایک متفقہ اور با مقصد ہم آہنگی کی حمایت کرتا ہے۔ میری رائے میں  یہ سمجھنا ایک غلطی ہو گی کہ  ملک میں پیش آنے والے ہر مسئلے کے لیے  عدالت کو  ہی مداخلت کرنی چاہیے۔ بہت سے  اہمیت کے حامل مسائل  ایسے بھی ہوتے ہیں  جو جمہوری روایات کو سامنے رکھتے ہوئے حل کیے جا سکتے ہیں۔

میں یہ مانتا تھا کہ قانون کے بارے میں ان کی رائے ، جیسا کہ ان کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا تھا،  میری  اسیسمنٹ کے عین مطابق تھی۔ ہم میں سے بہت سے لوگ قانون کے طالب علم کے طور پر  ان کے قدامت پسندانہ خیالات اور آئین کے آرٹیکل 184(3) کے بارے میں ان کی رائے کو سمجھنے  اور اختیارات کی خصوصیت اور عدلیہ کی  تحمل مزاجی کے معاملے میں چیف جسٹس کے فیصلوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کا جب دور ختم ہوا توایسا معلوم ہوتا تھا کہ ملک از خود نوٹس سے تنگ آ چکا ہے۔ تصدق جیلانی اور ناصر الملک جیسے چیف جسٹس حضرات نے سپریم کورٹ کی عدالتی کارواائی کو تھوڑا وقار واپس دلوایا۔ ہم نے دیکھا کہ سپریم کورٹ کو اب میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا شوق نہیں رہ گیا تھا   اور اس نے اپنے آپ کو نیشنل پالیسی  پر محدود رکھتے ہوئے عدلیہ کو صحیح ڈگر پر لانے  پر متفق کر لیا تھا۔  یہ ایک اچھی تبدیلی تھی لیکن زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

اپنے دور کے 45 دن باقی رہتے ہوئے چیف جسٹس کی پرفارمنس   پر بات کرنےکا وقت قریب آ رہا ہے۔  لیکن سپریم  کورٹ  کے سیاست میں کردار کو آرٹیکل 184(3) کے تناظر میں دیکھا جائے گا  جس میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 199 کی  تعلیمات کے مطابق تعصب برتے بنا سپریم کورٹ اگر  یہ دیکھے کہ کوئی معاملہ آئین کےحصہ دوم کے چیپٹر 1 کے مطابق  بنیادی حقوق کا معاملہ   توجہ کا  مستحق ہے تو پھر سپریم کورٹ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس پرکاروائی کر سکتی ہے۔  کیا سپریم کورٹ کی طرف سے 184(3) کے استعمال کے معاملہ میں  رائے کی وجہ سے چیف جسٹس عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مرتکب ہو ئے ہیں؟

مصطفی امپیکس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا: آرٹیکل 90 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ سے کیا مراد ہے۔ یہ وزیر اعظم اور فاقی کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے  اور صدر اس میں شامل نہیں ہوتا کیونکہ آئین کی شق میں صدر کا نام ذکر نہیں کیا گیا  (ہم نے یہ نوٹ  کیا کہ آرٹیکل 176 اور 192 کے بیچ  ایک مماثلت ہے  جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بیچ  اختیارات کے فرق کو واضح کرتی ہیں)۔ یہ حیران کر دینے والی بات تھی کہ انہوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح  سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس پر مشتمل نہیں ہوتا اسی طرح وزیر اعظم اکیلا فیڈرل گورنمنٹ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

183(3) کی فطری  نوعیت یہ ہے کہ  آئین  یہ اختیار صرف چیف جسٹس کو نہیں بلکہ پورے سپریم کورٹ کو دیتا ہے۔  آئین میں اس آرٹیکل کے استعمال کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے اپنے ضوابط بھی خاموش ہیں۔ اگر وزیر اعظم یا وفاقی وزرا   ایسے فیصلے نہیں کر سکتے جو صوبائی وزرا کے اختیار میں ہیں تو پھر چیف جسٹس کیسے وہ فیصلہ کر سکتا ہے جو  اسے 184 (3) میں دیا گیا ہے؟  یہ معاملہ آئینہ کی طرف صاف ہے اور ا س پر دماغ لڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر چیف جسٹس نے اعلان کیا تھا کہ  عدلیہ 184(3) کے معاملے پر غور کرے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

آرٹیکل 184 (3) کے اختیارات کے معاملے میں تین مسائل ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ قانون کی حکمرانی اور فرد کی حکمرانی کا فرق ختم کر دیتا ہے۔ اگر متنخب وزیر اعظم کھلے عام طاقت کو بے دریغ استعمال نہیں کر سکتا تو یہی پابندی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کے انتطامی اختیارات ہر لحاظ سے صرف عدالتی اختیارات سے جڑے ہیں۔ کیا  چیف جسٹس کی ذاتی ترجیحات اور جذبات  عدلیہ کے ایجنڈا   اور سپریم کورٹ کے اختیارات کے سکوپ  کا تعین کریں گے؟

ا سکے دو نتائج نکل سکتے ہیں۔ یہ عدلیہ کو ایک  درجہ بندی والا ادارہ بنا تا ہے جس میں چیف جسٹس  انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور ہائی کورٹس پر انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ یہ نظام ہمارے آئین کے مطابق نہیں ہے  کیونکہ آئین صوبائی ہائی کورٹس کو انتظامی اختیارات دیتا ہے  تا کہ عدلیہ کی آزادی ہر سطح پر یقینی بنائی جا سکے۔ سپریم کورٹ کے اختیارات پر  خصوصی کنٹرول  اور چیف جسٹس کی طرف سے دوسرے ججز کی معاونت کے بغیر یہ اختیار استعمال کرنے کا عمل  دوسرے ججز کو ماتحت بنا دیتا ہے اس سے  ججوں کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آزادی برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ چیف جسٹس کو دیا گیا 184 (3) کے تحت اختیار ادارتی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی اور عملداری کی حیثیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ سپریم کورٹ تمام عدالتوں کا سب سے بلند درجہ ہے اور اس کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے لیکن جہاں چیف جسٹس تین ججز کے بینچ کے ساتھ خود ہی کسی مقدمے کا فیصلہ سنا دے اور نظر ثانی کی اپیلیں بھی خارج کر دے تو اس کے نتائج تسلی بخش نہیں ہو سکتے۔

افرادی اختیار  غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرتا ہے  جب کہ قانون کی حکمرانی سے امید اور یقین دہانی ہوتی ہے۔ عدلیہ کے ستون سے ریاست اور اس کے شہریوں کو تحفظ ملتا ہے اور وہ انتظامیہ کی بے انصافیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن اگر عدلیہ کے اختیارات اور کام کرنے ے طریقے بے انصافی پر مبنی ہوں تو پھر اس سے شہریوں کی حفاظت کون کرے گا؟ اگلی دہائی میں ہمیں 7 چیف جسٹس ملیں گے۔ اگر آنے والے چیف جسٹس کی ترجیحات میں آبادی پر کنٹرول یا ڈیم نہ ہوئے  تو پھر کیا ہو گا؟

تیسری بات یہ کہ عدلیہ کا حد سے گزرنا انتظامیہ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے جیسا ہے۔ اس کا تعلق اس چیز سے نہیں ہوتا کہ کونسی پارٹی حکومت میں ہے ۔ یہ تھیوری کہ ایک ادارہ اگر صحیح کام نہیں کر رہا تو دوسرا اس کی جگہ لے لے کسی صورت قابل قبول یا فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ پاپولسٹ سیوئیر ماڈل بھی ناکام ہو چکا ہے۔ سوموٹو کا طریقہ کار بھی مسائل کے حل کا ضامن نہیں بن پا رہا۔ کیتھارٹک ماڈل بھی  اصلاحات کی بجائے اشتعال کا باعث بنتا نظر آتا ہے۔ ایک سسٹم کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر حصہ اپنے کام پر فوکس کرے اور دوسرے اجزا کے کام میں مدخل نہ ہو۔ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ خود پر اور ہم سب  پر سوموٹو اختیارات کے سکوپ کو جلد از جلد واضح کر پائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *