اساں دل نوں مرشد جان لیا

پنجابی اور اردو زبان کے مقبول شاعر،کالم نویس،مزاح نگار اوربراڈ کاسٹر ابرارندیم کا تازہ شعری مجموعہ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔’’اساں دل نوں مرشد جان لیا‘‘ان کے شعری سفر کا تیسراپڑاؤ ہے۔اس شعری مجموعے میں بھی ان کا منفرداسلوب نمایاں ہے،وہ بھیڑ کے ساتھ چلنے والاتخلیق کار نہیں ہے اور نہ ہی شعروسخن کی دنیا میں پائی جانے والی موضوعاتی بھیڑچال کاقائل نظرآتا ہے۔دودہائیاں پہلے ابرار نے زمانہ طالب علمی میں ہماری پہلی ملاقات کے دوران یہ شعر سنایا تھاجو آج بھی یاد ہے کہ
چنگے طورطریقے چھڈکے زہری ہندے جاندے نے
ہولی ہولی پنڈاں والے شہری ہندے جاندے نے
کمال یہ ہے کہ ابرارنے زندگی کا بیشتر حصہ شہرمیں گزارنے کے باوجود خودپر شہرکارنگ نہیں چڑھنے دیا۔مضافاتی گرم جوشی اورخلوص آج بھی اس کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں ہیں۔اچھا شاعر ہونابلا شبہ ایک خوبی ہے مگراچھاانسان ہونامیرے نزدیک اس سے بڑی اور بنیادی خوبی ہے۔وقت اور تجربے نے یہ چیز سکھائی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر اچھا فنکار ،اچھا انسان بھی ہو۔فنکاروں کا فن اورشخصیت ایک ہی سمت میں ہمیشہ نہیں ہوتے ہیں۔مگر ہوناتوایساہی چاہیئے کہ ہم جس چیز کا پرچار کرتے ہیں وہ محاسن ہماری ذات کا بھی حصہ ہوں۔ہم شاعر لوگ اپنی شاعری میں جس وفاکی طلب اور اعلیٰ اخلاقی رویوں کا تقاضا کرتے ہیں وہ خوبیاں ہماری شخصیت میں بھی نظرآنی چاہئیں۔ابرارندیم کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس کا فن اور شخصیت ایک جیسے ہیں۔وہ جن اخلاقی خوبیوں کا سماج سے متمنی ہے خود ان کی عملی تفسیر بھی ہے۔اپنی شاعری کی طرح اجلااجلا ،نکھرانکھرا،تصنع اور بناوٹ سے پاک۔
آج کل تصوف اور درویشی کے الفاظ کثرت استعمال کے سبب اپنے معنی و مطالب کھوتے جارہے ہیں۔شعروسخن میں مگر آج بھی صوفیانہ رنگ اپنے اصلی گوڑھے رنگ میں نظرآتاہے۔بلھے شاہ ؒ کے الفاظ میں
جو رنگ رنگیا، گوڑھارنگیا
ابرارندیم کلاسیکی شاعری کی اسی خوبصورت روایت کا امین ہے جس میں عشق حقیقی کو مجازکے پیراہن میں پیش کیاجاتاہے۔سنا ہے کہ سنگ مرمرمیں کوئی پودانہیں اگ سکتاماسوائے زیتون کے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زیتون کی جڑیں اتنی باریک اور فائن ہوتی ہیں کہ سنگ مرمرکو احساس ہی نہیں ہوتااور وہ اس کے اندر داخل ہوجاتی ہیں۔سنگ مرمر کے مسامی پتھرکے اندرجس طرح زیتون کی جڑیں داخل ہوتی ہیں،برصغیر میں صوفیاء کرام کی شاعری نے بھی وہی کام ہمارے دلوں کے ساتھ کیاہے۔ابرارندیم کی شاعری بھی ایسی ہی شاعری ہے ،دلوں میں گھرکرجانے والی۔ہم سنگ دل دنیاداروں کو انسانیت کا احساس دلانے والی۔
بیج اور کنکرمیں بنیادی فرق جوش نموکا ہے۔جو دھرتی کا سینہ چیر کر نکلے ،وہ بیج ہے۔سچے تخلیق کارکی مثال بیج جیسی ہے۔جونموپاکرسماج کو سایہ اورپھل دیتاہے۔جوفنکارمعاشرے کو سایہ اور پھل فراہم نہ کرسکے وہ جوش نموسے عاری کنکرکی مانندہے۔استاددامن نے شاعرکی بڑی خوبصورت تعریف کی ہے۔
میرے خیال اندراو شاعر ہندا
جیہڑاکھنڈ نوں کھنڈتے زہرنوں زہرآکھے
جیہڑاندی نوں ندی تے نہرنوں نہرآکھے

’’اساں دل نوں مرشد جان لیا‘‘کی شاعری استاد دامن کے قائم کردہ اس معیارپرحرف بہ حرف پوری اترتی ہے۔آزادی اظہار پردن بدن بڑھتی ہوئی دیدہ ونادیدہ پابندیوں کے سبب شاعری کا سکوپ مزید بڑھتا جارہا ہے۔کچھ عرصہ پہلے میرے پیربھائی گلِ نوخیز اخترنے مجھ سے پوچھاکہ میں شاعری کیوں کرتا ہوں؟تو میرا جواب تھا کہ شایدسچ بولنے کا ہمارے ملک میں اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ابرارندیم کہتے ہیں کہ
تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نئیں
درداں نال بنائی رکھنا سوکھا نئیں
اج وی اوہدے ناں تے اڑیاں کرداے 
کملا من پرچائی ر کھنا سوکھا نئیں
اورشعرملاحظہ فرمائیے گا کہ
دوتن قسماں تے کجھ سفنے
اینے دے وچ آندا کیہ اے
میری یہ خواہش اور دعا ہے کہ دلوں کوموم کرنے والی ابرار ندیم کی شاعری کی یہ رم جھم جاری رہے۔
کتاب کا خوبصورت سرورق ضیاء انجم نے بنایا ہے اور اسے الخیال پبلشرزنے لاہور سے شائع کیا ہے۔اعلیٰ طباعت سے مزین 160صٖفحات کی اس کتاب کی قیمت تین صد روپے ہے ۔جو کہ اس مہنگائی کے دورمیں مناسب ہے۔عہدحاضرکے نامور شعراء کرام کی آراء کو بھی شاملِ اشاعت کیا گیا ہے جن میں عطاء الحق قاسمی کی رائے بیرونی ٹائٹل پر موجود ہے جبکہ اندرونی صفحات پر منیر نیازی،یونس احقر،
عباس تابش،ڈاکٹر ناصر رانا،جمشید مسرور،محمداحسن راجہ،سعداللہ شاہ ڈاکٹر جواز جعفری کے علاوہ فوزیہ بھٹی کی آراء بھی شامل ہے۔کتاب میں نظموں اور غزلوں کے علاوہ قطعات اور فردیات بڑے خوبصورت اندازمیں پیش کئے گئے ہیں۔اساں دل نوں مرشدجان لیاپنجابی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *