کشمیر میں آر ایس ایس کی آمد

وہ دھرتی جسے ہم صدیوں سے چاہتے ہیں  اس وقت اپنے وجود کے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ خطرناک  صورتحال سے دو چار ہے۔ ایک غلط قدم کشمیر کو آر ایس ایس کی جھولی میں ڈال سکتا ہے۔

اس کے پرانے پرچارک (رکن) نریندرا مودی 2014 میں وزیر اعظم بنے۔ اسی سال کشمیر  میں بھی پولنگ ہونا تھی۔  (RSS) کے سیاسی ڈیپارٹمنٹ بی جے پی کو ایک منصوبہ سوجھا:  پلان یہ تھا کہ جموں میں ہندو اکثریت والے علاقوں سے کلین سویپ کر کے کشمیر سے کچھ بکاو سیاستدانوں کو ملا کر  کشمیر میں حکومت بنائی جائے۔ اس پلان کا نام 44 پلس رکھا گیا۔ سرینگر اسمبلی کی 87 نشستیں ہیں۔ لوگوں نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ الیکشن کے بائیکاٹ کی روش ترک کر کے انہوں نے کشمیری جماعتوں کو ووٹ دینے کی ٹھانی  اور نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو پورے جوش کے ساتھ ووٹ ڈالے۔

پی ڈی پی کے قائد مفتی محمد سعید اور ان کے تین خاص آدمیوں نے توقع سے زیادہ بے اصولی کا مظاہرہ کیا۔ لوگوں کی خواہشات کے برخلاف اور این سی اور کانگریس کی آفرز کو نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ اس  سے  بات چیت کرنے والے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو تھے، جو اس سے قبل (RSS) کے سرکاری ترجمان تھے۔ پی ڈی پی کے حسیب درابو نے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کیے ۔

یہ اتحاد ٹوٹ گیا جب بی جے پی نے جموں میں ووٹ کو کم ہوتے دیکھ  کر تعاون سے منہ موڑ لیا۔ گورنر این این ووہڑا نے 20 جون 2018 کو گورنر راج  نافذ کر دیا  کیونکہ اسمبلی میں کسی کے پاس اکثریت نہیں تھی کہ حکومت بنا سکے۔ گورنر راج کی مدت  6 ماہ تک ہوتی  ہے۔ اس کے بعد صدارتی  راج شروع ہو سکتا ہے۔

جلد ہی رام مادھو نے بی جے پی کی حکومت کے لیے سجاد لون کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ حریت کے مرحوم عبدالغنی لون کے بیٹے ہیں  جنہوں نے حریت کی پالیسی کے بر عکس الیکشن لڑنے کا کھیل شروع کیا تھا۔ افسوس کے ساتھ، ان کو قتل کر دیا گیا۔ اس عمل میں اعانت کرتے ہوئے سجاد نے زیادہ پرجوش انداز سے ان کی جگہ لی۔ پی ڈی پی کے ایک بانی مظفر حسین بیگ جنہیں مفتی اور ان کی بیٹی محبوبہ نے کنارہ کش کیا ہوا تھا، نے سجاد لون کے بی جے پی کے تعاون اور پی ڈی پی سے خریدے ہوئے دوسرے 18 لوگوں کے تعاون کے ساتھ ایک 'تھرڈ فرنٹ' حکومت کے منصوبے میں ایک موقع دیکھا۔

اس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ  25 بی جے پی کے اور 18 دوسرے۔ اسمبلی میں ان کی اپنی طاقت ا ن دو اہم افراد کی وہ سے ہے۔ اسمبلی کی 87 نشستوں میں سے پی ڈی پی کے پاس 29، این سی کے پاس 15 اور کانگریس کے  پاس 12 نشستیں ہیں۔ 15 نومبر کو گورنر ستیا پال ملک نے اعلان کیا: ''اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی''۔ 21 نومبر کو انہوں نے خفیہ وجوہات  کا بتا کر اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ ''20 دن پہلے ہارس ٹریڈنگ شروع ہو چکی تھی۔'' تو 15 نومبر کو یہ اعلان کیوں کیا گیا؟ ؟ ''اس  کی وہ نظریات کا اختلاف تھا''۔ اس سے بی جے پی کو نئی دہلی میں اتحاد بنانے سے نہیں روکا جا سکا۔

اصل وجہ یہ ہے کہ 15 نومبر تک بی جے پی کے پالتو سجاد لون چیف منسٹر کی کرسی کے واحد امیدوار تھے۔  ان کو خوف اس وقت محسوس ہوا جب محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بی جے پی یا(RSS) کو دور رکھنے کے لیے ہاتھ ملا لیے۔

21 نومبر 2018 کو محبوبہ مفتی نے  ملک کو خط لکھا و اس وقت جموں میں تھے ۔ اسمیں انہوں نے اپنے دعوے پر قائم رہنے اور نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت کا بھی دعوی کیا۔ ملک خوفزدہ ہو گئے۔ اس شام ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ نیو دہلی واپس آئے۔ ملک نے رات گئے  محرک ہو کر  یہ اعلان کیا کہ انہوں نے محبوبہ کا خط وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ 21 نومبر بمطابق 12 ربیع الاول کو ان کی فیکس مشین کو آپریٹ کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سجاد کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے جتنی پی ڈی پی، این سی اور کانگریس تینوں کی ملا کر ہے۔

گورنر اور سجاد لون جیسے لوگوں کی طرف سے دھوکہ دہی  کشمیری عوام کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے  اور عوامی لیڈران کو اوپر اٹھنے کا موقع ملا ہے۔ اب یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ سیاستدان اکٹھے ہو کر کشمیریوں کے حقوق  کے تحفظ کے لیے لڑ یں گے  جو حقوق لون جیسے مفاد پرست سیاستدان بی جے پی  مالکان کو کچھ عہدوں کے عوض گفٹ کر دیتے۔ محبوبہ نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاملے میں عمر عبداللہ  اور ان کے والد  فاروق عبداللہ سے تعاون کی درخواست کی  اور دونوں لیڈران نے مثبت جواب دیا۔

لیکن 22 نومبر کو این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ''سپریم کورٹ میں جموں اینڈ کشمیر کے سپیشل سٹیٹس کی حفاظت کے لیے پی ڈی پی اور کانگریس کے ساتھ عارضی گرینڈ الائنس'' کی بات کی۔ اس کا کیایہ مطلب لیا جائے کہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ اتحاد ختم ہو جائے گا؟

دونوں پارٹیاں اقتدار کے لیے قانونی طریقے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ لیکن عوام کی ناگفتہ بہ صورتحال  ان کے مقابلہ کی نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہے  اور کچھ معاملات میں انہیں مقابلہ کی بجائے تعاون  کی ضرورت  سے آگاہ کرتی ہے۔ سب سے پہلے انہیں ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کرنا چاہیے جس میں وہ کشمیر کی آزادی اور اس کے مستقبل کے بارے میں عوام کو اپنے ایجنڈا سے آگاہ کریں ۔ یہی چیز کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے سب سے اہمیت کی حامل ہے۔

دونوں پارٹیاں کشمیر کی خود مختاری اور پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ مذاکرات کرنے پر متفق ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے جن معاملات کا لوگوں سے تعلق ہے وہ امن و امان، حریت رہنماؤں  سے پابندیاں ہٹانا،   سول آزادیاں اورپولیس کی زیادتیاں وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ان معاملات میں انہیں کشمیری دانشوروں، ریٹائرڈ سول ملازمین اور ایسے لوگوں کے ساتھ  مل کر جد ووجہد کرنا ہو گی۔ یہ ان کے لیے آخری موقع ہو گا، اس سے پہلے کہ دوسری طاقتیں کشمیر پر قبضہ کر لیں۔ اگر انہوں نے اس ذمہ داری سے غفلت برتی یا اس میں ناکام ہوئے تو تاریخ محبوبہ اور عمر کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *