انسداد تجاوزات مہم: متحدہ نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سیاسی رخ اختیار کرگیا اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی۔

خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے میئر کراچی اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم سے زیادہ کوئی مضبوط سیاسی جماعت نہیں اور ہماری وہ پوزیشن ہے کہ اگر ہم وفاقی حکومت سے الگ ہوجائیں تو حکومت ختم ہوجائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے جو ہمارے مطالبے ہیں اگر وہ پورے نہیں ہوئے تو ہم کنارہ کشی اختیار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو وزیر اعظم کو مطالبات بتائے تھے ان پر ایک وقت تک ان پر انتظار کیا جارہا ہے، پھر اس کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں 15 روز میں تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ہم نے تجاوزات گرانے سے قبل دکانداروں کو نوٹس دیے اور اعلانات کروائے۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن اس وقت متنازع ہوتا جب مارکیٹس ایسوسی ایشن ہمارے خلاف احتجاج کرتیں اور دکاندار مزاحمت کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی گھروں کو مسمار کرنے کا اختیار کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ میں گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف ہوں، اگر لوگ گھروں میں رہ رہے ہیں تو اسے گرا نہیں سکتے، اس کا کوئی اور طریقہ کار نکالا جائے۔

انسداد تجاوزات مہم صوبائی معاملہ ہے، افتخار درانی

دوسری جانب ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے بتایا کہ میئر کراچی کو پتہ ہونا چاہیے کہ انسداد تجاوزات مہم صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے سے تجاوزات کا خاتمہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک کراچی کا معاملہ ہے تو یہ آپریشن سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ہورہا ہے اور یہاں کچھ وفاقی املاک ہیں جبکہ کچھ صوبائی حکومت کی ملکیت ہیں۔

افتخار درانی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات ہیں کہ کسی غریب کا گھر نہیں گرنا چاہیے اور اس معاملے پر کابینہ میں گفتگو بھی ہوئی ہے جبکہ وزیر قانون اور ایم کیو ایم رہنما فروغ نسیم کو کہا گیا ہے کہ وہ غریب کو تحفظ دینے کے لیے کوئی قانون بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ میئر کراچی نے یہ بات کیوں کی۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن

خیال رہے کہ 27 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی سے 15 روز میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس حکم کے بعد شہر قائد میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا گیا تھا اور پہلے مرحلے میں صدر کو صاف کیا گیا تھا اور مشہور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف غیر قانونی طور پر قائم سیکڑوں دکانیں مسمار کردی گئی تھیں۔

صدر کے بعد آپریشن کا رخ دیگر علاقوں میں کیا گیا اور لائٹ ہاؤس، آرام باغ اور اطراف کے علاقوں سے تجاوزات ختم کردی گئیں جبکہ تاحال شہر میں آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ 17 نومبر کو سپریم کورٹ نے کراچی میں ریلوے کی زمین سے قبضہ چھڑوا کر فوری طور پر کراچی سرکلر ریلوے اور ٹرام لائن کی بحالی کا بھی حکم دیا تھا۔

علاوہ ازیں 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے کراچی میں پرانی جھیلیں اور پارکوں کو بحال کرانے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے خلاف بلاتعطل کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔

جس کے بعد چند روز قبل وفاقی و سندھ حکومتوں کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے غریب طبقے کے متاثر ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *