ہماری سیاسی زندگی میں بھی ’’ٹیومر‘‘ پل رہے ہیں

اسد مفتیasad

حیرت ہوتی ہے کہ ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں۔ کیا عجیب فضا ہے کہ ایک طرف انسانی عقل و علم چھلانگیں مارتا، ہر دس سال کے دوران پچھلے عشرے کو گویا ایک صدی پیچھے چھوڑتا اس تیزی سے آگے جارہا ہے کہ طالب علم کیلئے اس کا پیچھا کرنا دشوار ہوگیا ہے اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ اگلے مرحلے پر سائنسی ریسرچ تباہ کاریوں کا نیا حربہ نکال لے گی یا تعمیر و ترقی و سلامتی کا سروسامان۔ یہی لیجئے ’’اسٹاروار‘‘ کا پروگرام اتنا آگے جاچکا ہے کہ روئے زمین کو ستاروں کی گزرگاہ پر خلائی اسٹیشن کا کوئی بٹن دبا کر تباہ کیا جاسکتا ہے وہیں ایک خوش خبری طبی سائنس نے یہ دی ہے کہ وہ جین (GENE) دریافت ہوگیا ہے جسے کینسر یا سرطان کا توڑ کہا جاسکتا ہے۔ کسی زمانے میں ہیضے کی وبا ، طاعون کی وبا، ملیریا کی، گردن توڑ بخار کی اور یرقان کی وبا جان لیوا شمار ہوتی تھی۔ گزشتہ سو برس میں ان وبائوں کے توڑ ملتے گئے اور آج ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی ان بیماریوں سے خوف زدہ نہیں، سب کے معالج ہیں۔ اسپتال ہیں۔ فوری علاج کے اور انسدادی تدبیروں کے انجیکشن موجود ہیں جن تک غریب و امیر سب کی رسائی ہے۔تمدن ، تدبیر اور بین الاقوامی ریسرچ اداروں کی بدولت آج انسانی عمر کا اوسط بڑھتا جارہا ہے۔ لیکن ایک ’’بلا‘‘ ایسی ہے کہ انسان کو اس کا علم تو صدیوں سے ہے لیکن علاج اب تک دریافت نہیں ہوا اور نہ ٹھیک ٹھیک یہ دریافت ہوسکا کہ مرض کی جڑ کہاں ہے۔ یہ مرض ہے کینسر جسے عربی میں ’’سرطان‘‘ کہتے ہیں۔ حکیم بوعلی سینا کی کتاب ’’القانون‘‘ میں یہی نام درج ہے۔ برج سرطان کی شکل رصد خانوں میں دیکھی، جوکہ کیکڑے کی سی تھی تو اسے کیکڑا یا سرطان کہا جانے لگا۔ یہی لفظ اسی معنی میں لاطینی سے انگریزی میں ’’کینسر‘‘ اور بعض یورپی زبانوں میں ’’راک‘‘ یعنی کیکڑا کہلایا۔ خدا جانے خون میں ، ورثے میں، کسی ہوا میں، غذا میں، تنفس کی راہ سے منہ، ناک یا لمس کی راہ سے کون سی نامعلوم شے نفوذ پاجاتی ہے۔ پھر وہ کیکڑے کی طرح ہاتھ پائوں پھیلا کر تیزی سے لہو کو زہر آلود کردیتی ہے۔ پتہ چلا کہ تمباکو کھانے پینے والے اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ڈر کے مارے ہزاروں لوگوں نے سگریٹ ، تمباکو نوشی ترک کردی، پھر خدا کے نیک بندوں میں بھی یہی مرض پایا گیا جو نہایت احتیاط سے اور پاک صاف رہتے ہیں۔ پھر بچوں کی اموات کینسر سے ہوئیں ہر ایک ترقی یافتہ ملک میں کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کھلے ہوئے ہیں، کروڑوں ڈالر کی رقم اس پر خرچ کی جارہی ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ کینسر کے ابتدائی ہر حملے پر تو اس کا توڑ ہو بھی جاتا ہے اس مرحلے سے آگے اگر مرض پہنچ گیا تو پھر ڈاکٹر مریض کو تجربوں کا نشانہ بنالیتے ہیں کہ مریض کےبچنے کی آس نہیں رہتی۔ ہر بار کہیں نہ کہیں سے خبر آتی ہے کہ ریسرچ کرنے والوں نے مرض کی جڑ پکڑ لی ہے پھر پتہ چلتا ہے کہ جس پر ہاتھ پڑا وہ کینسر کی جڑ نہیں تھی۔ اب جاکر نیویارک سے خوش آئند خبر ملی ہے کہ یہ راز دریافت ہوگیا ہے کہ کچھ لوگوں میں کینسر کا شکار ہونے کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ کیوں ہوتی ہے اور کیسے یہ مرض موروثی ہو جاتا ہے۔ کیسے پھیلتا اور گرفت سے نکل جاتا ہے اور یہ سب ایک طبی سائنس دان ڈاکٹر وائین برگ نے بتایا ہے کہ وہ جین گرفت میں آگیا ہے جس کے ذریعے کینسر کی روک تھام اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ ’’جین‘‘ کیا ہے ؟ چار چیزوں کا پہلی شکل کا مادہ یعنی خون ، بلغم، سودا ، ذرے سے بھی کم، حتیٰ کہ اڑتی چنگاری سے بھی کمتر ۔ لیکن اثرات کو آگے لے جانے والا اور وجود کی تشکیل میں تاثیر دکھانے والا مادہ۔ جتنے لفظ ’’جین‘‘ سے بنے ہیں ان سب میں تولید اور تناسل مشترک ہے۔ ہمارے عام لفظ جنتی ، جن ، ، جنا ، جنتا ، جننا وغیرہ اسی جین سے ماخوذ ہیں اور اسی مادے کے حوالے سے GENETIC اور جینالوجی بنے ہیں۔ ظاہر ہے صدیوں سے ہم نے جین کو مادہ اولیٰ میں شامل یا اس کی بنیادی انیسٹ مان لیا تھا۔ اور یہ بھی جان لیا تھا کہ خون میں کہاں کہاں اس کی تاثیر چھپی ہوئی ہے لیکن ہمیں نہ تب معلوم تھا نہ اب تک قطعی طور پر معلوم ہوا ہے کہ بدن کے اندر نسوں اور رگ پٹھوں میں لہو کی نالیوں میں یہ کیکڑا پنپتا کیسے ہے؟ اسے پنپنے سے پہلے ختم کرنے اور بھسم کر ڈالنے تک تو سائنس پہنچ گئی تھی لیکن اس کے ’’انڈے دینے‘‘ کا گھونسلا کہاں ہے اس کی تحقیق آج تک ہورہی ہے۔ تمباکو نوشی سے جو سوزش ہوتی ہے وہ کینسر کی رفتار تیز ضرور کرتی ہے لیکن رفتار سے پہلے اس کی آماجگاہ؟ خیر اب امید ہوئی ہے، تفتیش اگر پوری طرح نہ ہو تب بھی ’’مجرم‘‘ کے ہاتھ پائوں باندھنے کی راہ تو نکلی۔ کچھ اس کے سدباب کا تو ہوا۔ کینسر کا موضوع آج کل بیالوجی میں تفصیل سے پڑھایاجانے لگا ہے۔ پاکستان بھی ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں کینسر کا ابتدائی مرحلے میں پتہ نہیں چلتا۔ چھوٹے پیمانوں پر شاید چندلیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر کسی انسٹی ٹیوٹ یا ریسرچ پروگرام کی نوید نہیں آئی۔ ہاں البتہ کینسر کے علاج کا چند اسپتالوں میں انتظام ضرور کیا گیا ہے جن میں معروف کرکٹر عمران خان نے اپنی مرحومہ والدہ کے نام پر قائم ہونے والے اسپتال میں علاج کرنے کی اعلیٰ پیمانے پر کوشش کی ہے ۔ میری رائے میں عمران خان سیاست کو خیرباد کہہ کر اگر رفاحی کاموں پر توجہ دیں تو یہ عوام کے حق میں کہیں بہتر ہوگا ورنہ تو جیسا کہ عمران خان سمیت ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی زندگی میں کتنے سارے ’’ٹیومر‘‘ پل رہے ہیں۔ یہ کتنی سیاسی و نیم سیاسی پارٹیوں اور جھنڈوں کے نیچے قومی و ملکی زندگی کے بدن کو اندر سے کھا رہے ہیں اور ان ٹیومروں کو بھی کون کون سے جین نے بڑھاوا دیا ہے ۔ لازم ہے کہ ہمارا شعور ان کی پکڑ کرنا بھی سیکھے۔ ٹیومر ایک بدن کو کھاتا ہے ۔ جین زیادہ سے زیادہ ایک دو نسلوں کے پہلو میں تاثیر دکھاتا ہے مگر یہ بلند بانگ اشتعال انگیز ’’جن‘‘ یہ سیاسی بھوت پریت ہمارے وطن عزیز کی جان کا روگ بنے ہوئے ہیں۔ دشمنی کی دھول آنکھ میں لئے ریلیوں میں چنگھاڑتے پھرتے ہیں۔ نیویارک کے سائنسدانوں کے پاس ان جنوں بھوتوں کا علاج بھلا کہاں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *