جاپان، جہاں بوڑھے لوگ جیل جانا پسند کرتے ہیں

ہر عمر میں بڑھتی ہوئی سوسائٹی کو کچھ چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔ لیکن جاپان جہاں دنیا کے سب سے زیادہ بوڑھے لوگ پائے جاتے ہیں (جاپان میں 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی تعداد 27.3 فیصد ہے جو امریکہ کے مقابلہ میں دو گنا ہے) کو ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہے جس کا جاپانی  حکومت کو کبھی خیال بھی نہ ہوا ہو گا۔ یہاں بوڑھے لوگ جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ بوڑھوں اور خاص طور پر بوڑھی عورتوں کے خلاف شکایات اور گرفتاری کے واقعات کسی دوسری عمر کے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ جاپان کے جیلوں کی ہر پانچ میں سے ایک  قیدی سینئر شخصیت ہے۔ ان کے جرائم بھی معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ 10 سینئر خواتین میں سے 9 اوسط کی سزا  دوکانوں سے چیزیں چوری کرنے پر دی گئی ہے۔

ایسی کیا وجہ ہے اس اتنی زیادہ تعداد میں بوڑھی خواتین چوری جیسے کام کرنے لگی ہیں؟ پہلے پہل تو جاپان میں  خاندان اور کمیونٹی کے لوگ بوڑھوں کا خیال رکھتے تھے لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ 1980 سے 205 کے دوران  اکیلے رہنے والے بوڑھوں کی تعداد میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے اور تعداد 6 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ 2017 کے ٹوکیو حکومت کی طرف سے کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ اچوری کر کے جیل آنے والے بوڑھوں میں سے نصف سے زیادہ اکیلے رہنے والے لوگ ہیں۔ 40 فیصد ایسے ہیں جن کا کوئی فیملی ممبر نہیں ہے  یا فیملی ممبران سے کوئی رشتہ رابطہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔

بے گھر خواتین بھی  اپنا دکھڑا سناتی نظر آتی ہیں۔ ایواکونی وومن پرزن کی  ہیڈ وارڈن یومی موراناکا کہتی ہیں: ان کے پاس گھر ہو، فیملی ہو پھر بھی  وہ گھر میں پر سکون زندگی نہیں گزار سکتیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں سمجھا نہیں جا رہا  اور انہیں گھر میں کام کرنے والے نوکروں کی طرح برتاو کیا جاتا ہے۔ بوڑھی خواتین کو معاشی مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے ۔ 50 فیصد سے زیادہ 65 سال سے زائد عمر خواتین کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ اس عمر کے معاشی مسائل کا شکار مردوں کی شرح  29 فیصد ہے۔ ایک خاتون نے بتایا: میرے خاوند کا انتقال ایک سال قبل ہوا۔ ہمارے بچے نہیں تھے اس لیے میں اکیلی رہ گئی۔ میں سبزیاں خریدنے سپر مارکیٹ گئی  تو وہاں گوشت کا ایک پیکٹ دیکھا۔ میں یہ خریدنا چاہتی تھی لیکن مالی حالت پر یہ اثر انداز ہوتا اس لیے میں نے ویسے ہی اٹھا لیا۔

سینئر افراد کے لیے حکومت یا پرائیویٹ سیکٹر نے کوئی بحالی کا بندوبست نہیں کیا ہے  اور انہیں جیل میں رکھنے سے اخراجات بہت بڑ ھ رہے ہیں۔ بوڑھوں کی دیکھ بحال کے لیے مختص اخراجات  کی وجہ سے میڈیکل کاسٹ 6 بلین یین سے زیادہ ہو گئی ہے  جو کہ 10 سال قبل کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ بوڑھوں کو باتھ روم اور ٹائلٹ کے استعمال میں مدد کے لیے سپیشل نوکروں کی خدمات حاصل کی گئ ہیں۔ رات کے وقت یہ ذمہ داریاں سکیورٹی گارڈز ادا کرتے ہیں۔ کچھ مراکز میں کریکشنل آفیسر کا عہدہ ایک نرسنگ ہوم اٹنڈینٹ کے عہدے جیسا بن کر رہ گیا ہے۔ ساتومی کیزوکا جو کہ ٹوچیگی وومن پرزن کی ویٹرن آفیسر ہیں نے بتایا کہ اب ان کے فرائض میں  شکایات کا ازالہ بھی شامل ہے۔ جیل میں موجود بوڑھی خواتین کے بارے میں انہوں نے کہا: یہ خواتین شرم کی وجہ سے اپنا انڈر وئیر چھپا لیتی ہیں ۔ میں انہیں کہتی ہوں کہ وہ مجھے لا کر دیں تا کہ میں اسے دھلوا سکوں۔ ان مسائل کی وجہ سے پچھلے تین سال میں ایک تہائی سے زیادہ افسران جاب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ 2016 میں جاپان کے پارلیمنٹ نے ایک قانون منطور کیا  جس کے مطابق ویلفئر سسٹم کے تحت سینئر قیدیوں کو اہم سہولیات فراہم کی جانی تھیں۔ تب سے پراسکیوٹر کے آفس اور جیل گورنمنٹ ایجنسیون کےساتھ مل کر  سینئر سزا یافتہ افراد کو تعاون فراہم کر رہے ہیں۔  لیکن وہ مسائل جن کی وجہ سے یہ خواتین جیل میں رہنا پسند کرتی ہیں  وہ مسائل حل سے کوسوں دور ہیں۔

مس ایف 89 سال

انہوں نے چاول، سٹرابری اور ٹھنڈی دوائیں چرائیں اور ایک سال اور 6 ماہ قید کی سزا پائی۔ ان کی ایک بچی اور ایک نواسی ہے۔ کہتی ہیں: میں ویلفئیر  پروگرام کے تحت اکیلی زندگی گزار رہی تھی۔ میں پہلے اپنی بیٹی کی فیملی کے ساتھ رہتی تھی اور ساری بچت شدہ رقم اپنے بد تمیز داماد  کی خدمت میں ضائع کر دی۔

 

 

مس اے 67

انہوں نے کپڑے چرائے  اور 2 سال 3 ماہ قید کی سزا پائی۔ ان کا ایک خاوند دو بیٹے اور تین پوتے ہیں۔

کہتی ہیں: میں نے 20 سے زیادہ بار شاپ لفٹنگ کی۔ اس وجہ سے نہیں کہ مجھے رقم کی ضرورت تھی۔ پہلی بار جب چوری کی تو میں پکڑی نہیں گئی۔ تب سے میں نے سیکھا کہ بغیر پیسے خرچ کیے بھی میں اپنی ضروریات پوری کر سکتی ہوں اور یہ طریقہ مجھے بہت  اچھا لگا۔ میرے خاوند میری مدد کرتے رہے ہیں۔ وہ اب بھی باقاعدگی سے مجھے خط لکھتے ہیں۔ میرے دو بیٹے بہت غصہ ہیں اور میرے پوتوں کو نہیں معلوم کہ میں یہاں ہوں۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ میں ہسپتال میں ہوں۔

مس ٹی 80

انہوں نے کچھ بیج اور ایک فرائی پان چرایا ہے اور ڈھائی سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان کے خاوند، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔

ان کا کہنا ہے: میں جب چھوٹی تھی تو چوری نہیں کرتی تھی  اور محنت کرنے کا عزم رکھتی تھی ۔ ایک فیکٹری میں 20 سال مزدوری کی  اور پھر ہسپتال میں بھی کام کیا۔ رقم ہمیشہ محدود ہوتی تھی  لیکن پھر بھی میں نے بچے کو کالج داخل کروایا۔

" چھ سال پہلے میرے شوہر کو دورہ پڑا اور تب سے وہ بستر  تک محدود ہو گئے ۔ اس   دورے کی وجہ سے انہیں اور بھی کئی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس سب کی وجہ سے  ان کی  جسمانی اور  جذباتی دیکھ بھال کرنا  بہت ذیادہ درکار تھا اور میں  بھی اب  بوڑھی تھی اور  اپنی اس مشکل کا میں کسی سے تذکرہ بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ مجھے شرم محسوس ہوتی تھی۔"

میں پہلی بار جب گرفتار ہوئی تو 70 سال کی تھی۔ جب میں نے چوری کی تب میرے پاس رقم تھی۔میں نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا۔ میں گھر نہیں جانا چاہتی تھی۔ بہتر طریقہ جیل سے مستفید ہونا ہی تھا۔ جیل میں میری زندگی بہت آسان ہے۔ میں یہاں آزادی سے سانس لے سکتی ہوں۔ میرا بیٹا کہتا ہے کہ میں بیمار ہوں اسلئے مجھے ہسپتال جانا چاہیے  لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ میری بے چینی نے مجھے چوری پر ابھارا۔

مِس این: 80 سال

انہوں نے پیپر بیک، کروکٹ اور ہینڈ فین چوری کیا تھا۔ ان کی سزا کا تیسر ا دور چل رہا ہے۔ ان کے خاوند، 2 بیٹے اور 6 پوتے ہیں۔ میں اکیلا محسوس کرتی تھی میرے خاوند مجھے بہت پیسے دیتے تھے  اور لوگ مجھے خوش قسمت سمجھتے تھے  لیکن مجھے رقم کی نہیں  بلکہ خوشحال زندگی درکار تھی۔ میں نے پہلی بار 13 سال قبل چوری کی۔ میں نے کتابوں کی دکان سے ایک ناول چوری کرلیا اور پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ تفتیشی افسر بہت مہربان اور اچھا تھا۔ اس بار پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ کوئی میری بات دھیان سے سن رہا ہے۔ اس نے میری بات سمجھ لی اور کہا کہ آئندہ مجھے چوری سے بچنا چاہیے۔ مجھے جیل خانے میں کام کرنا بہت اچھا لگتا ہے ۔ جب میرے کام کی تعریف ہوئی تو مجھے بہت اچھا لگا۔ کاش میں پہلے بھی کام کرتی اور زندگی بہتر بنا لیتی۔ میں جیل میں زیادہ پرسکون زندگی گزار رہی تھی۔ یہاں ہر وقت لوگ آس پاس موجود ہوتے ہیں اور مجھے تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔ جب میں دوسری بار جب رہائی پائی تو دعدہ کیا کہ دوبارہ جیل نہیں جاؤ ں گی لیکن جب  میں باہر تھی  تو مجھے  بہت بے چینی محسوس ہونے لگی۔

مِس کے۔ 74 سال

انہوں نے کوکا کولا اور مالٹے کا جوس چرایا۔ ابھی تک ان کی سزا کی مدت معلوم نہیں ہے ۔ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔

کہتی ہیں: میں فلاحی رقم پر گزارہ کر رہی تھی۔ یہ میرے لیے بہت مشکل تھا۔ جب میں جیل سے نکلوں گی تو مجھے ایک ہزار ین  روزانہ کے حساب سے ملیں گے۔ باہر نکل کر میرے لیے کچھ کرنے کو نہیں ہو گا۔

 

مس او۔ 78 سال

ان کو کافی، چائے، آم، چاول اور انرجی ڈرنکس چوری کرنے پر سزا ہوئی تھی۔انہیں 1 سال 5 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی ایک بیٹی اور ایک نواسا ہے۔

وہ کہتےہیں: یہ جیل میرے لیے اوئسز سے کم نہیں ہے۔ یہاں میں آرام دے اور پر سکون محسوس کرتی ہوں ۔ یہاں مجھے آزادی میسر نہیں ہے لیکن کوئی پریشانی بھی نہیں ہے۔ یہاں باتیں کرنے کے لیے بہت سے لوگ میرے ساتھ موجود ہیں ۔ ہمیں دن میں تین بار غذا سے بھر پور خوراک دی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں : میری بیٹی ہر ماہ مجھے ملنے آتی ہے۔ وہ مجھے کہتی ہے کہ وہ مجھ  پر ترس نہیں کھاتی اور میں ایک معمہ اور مسئلہ کا باعث ہوں۔ اور مجھے لگتا ہے وہ سچ کہہ رہی ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *