’مسلسل نگرانی اور تشدد کے الزامات' پر نیب نے حراستی مرکز کے دروازے کھول دیے

اسلام آباد: بدعنوانی کی تفتیش میں مبینہ تشدد اور ’عقوبت خانہ‘ چلانے کے الزامات پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے حراستی مراکز کے دروازے کھول دیے۔

اس سلسلے میں صحافیوں کے ایک گروہ نے کچھ وقت نیب کے حراستی مرکز میں گزارا تاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے قریبی لوگوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تصدیق کرسکیں، جس میں منگل کو پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار کیے گئے خواجہ برادران نے بھی اضافہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نیب کے حراستی مرکز کی صورتحال سے متعلق کچھ دعوے کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے حراستی مرکز میں وہ، جو بیت الخلا استعمال کررہے ہیں، اس میں انتہائی ضروری چیزیں مثلاً چٹخنی بھی موجود نہیں، جس پر ردعمل دیتے ہوئے عدالت نے نیب کو ہدایت کی تھی کہ ملزمان کو ’بنیادی سہولیات‘ فراہم کی جائیں۔

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں قائم نیب کے دفتر میں ایک علیحدہ عمارت موجود ہے، جہاں 14 حراستی مرکز موجود ہیں جن میں سے 7 گراؤنڈ فلور جبکہ بقیہ پہلی منزل پر قائم ہیں، حراستی مرکز کے ہر سیل میں 3 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔

عمارت میں ایک کھلی جگہ نماز کی ادائیگی کے لیے مختص ہے جس سے ملحقہ راہداری میں چہل قدمی کی جاسکتی ہے، راہداری ایک گلی سے منسلک ہے جس میں ایک جانب وہ کمرے موجود ہیں، جہاں ملزمان کو رکھا جاتا ہے جبکہ بائیں جانب موجود کمروں میں تفتیش کی جاتی ہے اور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

گلی کے اختتام پر ایک چھوٹا بیت الخلا موجود ہے، خیال رہے کہ ملزمان کے ہر کمرے میں ایک کیمرہ نصب ہے۔

صحافیوں کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ پولیس فنڈ میں 7 کروڑ کی خرد برد کے الزام میں زیر حراست ایس ایس پی رائے اعجاز، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو علیحدہ علیحدہ سیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ایک سیل میں اکھٹا 3 ملزمان کو رکھا گیا تھا، ہر کمرے میں ہوا کے گزر کے لیے کھڑکی بھی موجود ہے۔

ہر سیل میں ملزمان کے لیے زمین پر بستر لگائے گئے ہیں جبکہ ان کمروں سے باہر کچھ الیکٹرک ہیٹرز بھی دیکھنے کو ملے۔

اس ضمن میں جب ایک نیب اہلکار میڈیا کو بریف کرنے لگا تو خواجہ سعد رفیق نے فوراً کہا کہ یہ سہولیات ان کے احتجاج کے بعد فراہم کی گئیں ہیں، جس پر انہیں چپ رہنے کا کہا گیا تو غصے میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے بولنے کا حق نہیں چھینا جاسکتا‘۔

تاہم حیرت انگیز طور پر سلمان رفیق کی جانب سے کوئی شکایت نہیں کی گئی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ’نیب عہدیداروں کا رویہ اچھا ہے‘۔

اسی سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے رائے اعجاز نے، جو لاہور ٹریفک پولیس کے سابق سربراہ تھے، نیب کے حراستی مرکز کی صورتحال کو پولیس تھانوں سے بہتر قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی بھی شکایت نہیں‘۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نیب کے حراستی مراکز کو عقوبت خانے قرار دیا تھا جبکہ جامعہ پنجاب کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران نے الزام عائد کیا تھا کہ بیت الخلا میں کیمرے نصب ہیں اور دیگر ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، دوسری جانب خواجہ سعد رفیق نے فراہم کردہ کھانے کو ’غیر میعاری‘ کہہ کر کھانے سے انکار کردیا تھا۔

اس ضمن میں نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے ڈان کو بتایا کہ نیب لاہور کے خلاف کیے جانے والے ’پروپیگنڈے‘ میں اسے گوانتانا موبے جیسی جیل دکھانے کی کوشش کی گئی اس لیے نیب چاہتا تھا کہ میڈیا صورتحال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ ملزمان کو تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر کے مشورے پر ملزمان کو گھر کا کھانا بھی فراہم کیا جاسکتا ہے جبکہ انہیں چہل قدمی کی بھی اجازت ہے، تشدد کی کہانیاں صرف نیب کو بدنام کرنے کے لیے ہیں، ہم اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کسی ملزم کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *