سعد رفیق کی مثال

26 جولائی کے بعد لاہور میں ن لیگ کی سیاست خواجہ سعد رفیق کے گرد گھومتی رہی ہے  اور ان کے بھائی سلمان رفیق ان کےساتھ موجود رہے ہیں۔ دونوں بھائیوں کو نیب کی طرف سے مقدمات کا سامنا تھا  اور سعد رفیق کو انتخابی عمل میں بھی ن لیگ کی برتری ثابت کرنا تھی۔ الیکشن کے قریب آتے ہی خواجہ سعد کے لیے مشکل حالات سامنے آ رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے سامنے ان کی مزاحمت  خود شریف برادران کے لیے ایک مثال بن رہی تھی۔

ایسا لگتا تھا کہ مزاحمت کے عمل کے لیے خواجہ سعد رفیق کو پارٹی کی نمائندگی مل سکتی ہے  اور پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ شریف خاندان سے باہر کا آدمی  شریف خاندان کے دفاع کا ٹاسک اپنے ذمہ لے رہا ہے۔ اس کی اعلی مثال لاہور میں عمران خان کے خلاف سعد رفیق کی انتخابی جنگ تھی۔ اس مقابلہ کے بعد  جنگ میں مزید تخلی آتی گئی اور یہاں تک کہ خواجہ سعد رفیق کو اپنے بھائی سلمان رفیق سمیت گرفتار ہونا پڑا۔ اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انہیں عدالتوں پر مکمل یقین ہے  اور سچ یہ ہے کہ اب عدالتوں کے ہاتھ میں دونوں بھائیوں کے مستقبل کی کنجی ہے۔ جیل سے باہر بھی دونوں بھائیوں کو سیاسی میدان میں بھی جنگ لڑنی ہے۔

ایک شہید کا بیٹا جس نے 1970 کے انتخابات میں شکست کھائی تھی ، خواجہ نام سے جانا جانے والا یہ شخص 1980 سے پاکستانی سیاست میں اہم کردار کا حامل رہا ہے اور اپنے خاندان کا نام روشن کیے رکھا۔ سعد رفیق نے 1988 میں سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کیا  انہوں نے لاہور کے ایک حلقہ سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے  لیکن  وہ سیاستدانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ آٹھ سال کی محنت کے بعد انہوں نے ن لیگ  میں جگہ حاصل کر لی ۔ انہوں نے 1997 کے انتخابات میں  صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتی  جب لاہور کے تمام حلقے ن لیگ کے حصے میں آئے  اور پنجاب میں بھی حکومت بنانے کے قابل ہو گئے۔ اگلے انتخابات میں بھی سعد رفیق کو فتح مل گئی  اور 2013 تک جیت ان کی عادت بن چکی تھی۔

خواجہ برادران کے ابھرنے میں 2002 کے انتخابات کا بہت کردار ہے۔ اس وقت شریف برادران جلاوطنی کا سامنا کر رہے تھے۔ ن لیگ کو قابل اعتماد  لوگ درکار تھے جو انہیں لاہور میں فتح دلوا سکیں  اور لاہور میں شریف برادران کی جگہ  کسی دوسری پارٹی نہ لے سکے۔ چونکہ لاہور سے پہلے بھی  قومی اسمبلی سے خواجہ سعد رفیق ن لیگ کی نمائندگی کر چکے تھے اس لیے شریف برادران کے لیے ان سے بہتر کوئی نہیں تھا۔ سعد رفیق نے پیپلز پارٹی کو شکست سے دو چار کیا ۔

ایک دہائی بعد جب ن لیگ کو پی ٹی آئی کی طرف سے درپیش خطرے کا اندازہ ہوا تب سے خواجہ سعد رفیق کو بار بار پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اتحاد کے  بارے میں باتیں کرتے سنا گیا۔ آصف زرداری کے خلاف  سیاست کرنے والا اب عمران خان کی موجودگی کی وجہ سے اپنی سیاست کا انداز بدل کر پیپلز پارٹی کے بارے میں  موقف بدلنا پڑا۔ ان کے اس بدلتے موقف سے اندازہ ہو سکتا تھا کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان بن چکے تھے۔

اسی دوران 2008 کے انتخابات منعقد ہوئے ۔شریف خاندان نے لاہور کی ساری سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے لیے واپسی کر لی تھی ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ   سعد رفیق کو کسی اور  حلقے کا رخ کرنا پڑے گا۔ خواجہ برادران کو پرانے لاہور کے صوبائی حلقوں کا ٹکٹ دیا گیا  اور اسی طرح  سلمان رفیق پنجاب اسمبلی میں پہنچ پائے۔ شہباز شریف کی وزارت اعلی کے دوران انہیں زیادہ توجہ نہ مل پائی۔  لیکن بڑے بھائی سعد کو  کسی دوسری سیٹ کا سہارا لینا تھا۔ وہ بیرون لاہور  کے ایک حلقے سے  الیکشن لڑنے نکلے جہاں ان کا رئیل اسٹیٹ کا بزنس تھا۔ یہاں ان کو سب سے بڑا چیلنج درپیش تھا۔

علاقائی تبدیلیوں کے باوجود  2008 میں سعد رفیق آسانی سے جیت گئے۔ لیکن 2013 کے جنرل الیکشنز میں انہیں ملی سطح پر پہچان ملی۔ انہیں پی ٹی آئی مخالف حامد خان کے خلاف فاتح قرار دیا گیا تھا  لیکن نتائج کا اعلان بہت لیٹ کیا گیا اور دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئے۔  اسی دوران سعد رفیق کے اس 'مبینہ فراڈ'  پر ہی عمران خان نے احتجاج کی پالیسی شروع کی اور ن لیگ کی حکومت گرانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ تبھی بدنام زمانہ دھرنا شروع کیا گیا۔ یہ دھرنا پھیلتا گیا اور پھر اس سے شریف خاندان کی بنیادیں کمزور ہوتی گئیں۔

ذاتی حیثیت سے دیکھا جائے تو 2013 سے 2018 تک کا عرصہ سعد رفیق کے لیے بہت مشکل وقت رہا ہے ۔ انہیں رئیل اسٹیٹ بزنس کی وجہ سے احتساب کی تلوار سے بار بار دھمکایا جاتا رہا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے   مشرف حکومت کے دور میں  اپنی قسمت بنائی ۔ اسی طرح ان پر پارٹی سے غداری کے الزامات بھی  لگائے گئے۔ سیاسی لحاظ سے  جب عمران خان نے  ان کا مقابلہ انتخابات میں کرنے کا سوچا تو ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ عمران خان جیت تو گئے لیکن اس سے سعد رفیق کی کہانی مزید رنگین ہو گئی۔ یہ ثابت ہوا کہ سعد رفیق ہر قسم کی مشکلات سے نڈر رہتے ہوئے لڑ سکتے ہیں۔ ان کے خلاف کرپشن کیس سے پارٹی  پر بہت اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے الزامات اور چارجز کا جس طرح جواب دیا اور اس کا جو نتیجہ نکلے گا اس سے ن لیگ   ایک ایسے راستہ پر جا سکتی ہے جہاں سے لوٹنا مشکل ہو گا۔ وہ پارٹی کے لیے ایک مثال کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *