آنکھوں کا معائنہ

آنکھیں کھولو۔ ھم نے آنکھیں کھول دیں ۔ حالانکہ اگر وہ دل کا دروازہ کھولنے کا کہتی تو ھم دل کا دروازہ بھی کھول دیتے۔ لیکن یہاں آنکھوں کا معائنہ جاری تھا۔ دل کا معاملہ ھنوز بند تھا۔ اور آنکھیں کھولو۔ ھم نے اور آنکھیں کھول دیں ۔ اس نے اپنے نازک ھاتھ میں ایک نازک ٹارچ پکڑی ۔ اور انتہائی نزاکت سے ھماری آنکھوں میں جھانکنے لگی۔ یہ تانک جھانک ھمیں پسند ھے۔ کہ مزاج لڑکپن سے عاشقانہ ھے۔ اوپر دیکھو۔ ھم نے اوپر دیکھا۔ دودھ کے سفید کٹورے میں سرخ ڈوروں سے بندھی دو سبز آنکھیں تیر رھی تھیں ۔ سبز کیا تھیں ۔ ھری کچور تھیں ۔ شائد رات کی جگاوٹ سے نیند سے مخمور تھیں ۔ ھم پوچھنے ھی والے تھے۔ آنکھوں کے سبز سمندر میں کتنوں کے سفینے ڈوبے ھیں ۔ کہ حکم صاد ھوا۔ دائیں دیکھ ۔ ھم نے دائیں دیکھا۔ بائیں دیکھ ۔ ھم نے بائیں دیکھا۔ اب نیچے دیکھ ۔ ھم نے نیچے دیکھا۔ تو ایک پرانی فلم کا ڈائیلاگ یاد آ گیا۔ آپ کے پاوں بہت حسیں ھیں ۔ انہیں زمین پر مت رکھیے گا۔ میلے ھو جائیں گے۔ اتنی دیر میں نیا حکم جاری ھوا۔ سامنے دیکھ ۔ ھم نے سامنے دیکھا۔ لیکن اگر وہ ھماری آنکھوں میں نرگسیت تلاش کر رھی تھی۔ تو اسے ناکامی ھوئ۔ نرگسیت ھماری شخصیت میں نہیں تو آنکھوں میں کہاں آتی۔ جب ھماری آنکھوں کی یہ فوجی پریڈ ختم ھوئ۔ تو اس نے ایک مزید اعلان کیا۔ سامنے دیوار پر لکھا پڑھو ۔ ھم نے نیم وا آنکھوں سے سامنے دیکھا اور بے ساختہ پوچھا۔ کونسی دیوار ؟ وہ بے ساختہ مسکرانے لگی۔ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔ اس نے ڈپٹ کر کہا ۔ سامنے دیوار پر لکھا پڑھو۔ ھم نے بےچارگی سے جواب دیا۔ اگر ھم دیوار پر لکھا پڑھنے کے قابل ھوتے۔ تو یہاں کیوں اتے۔ بینائ کے ھاتھوں یوں مجبور نہ ھوتے۔ اس نے مشکوک آنکھوں سے ھمیں دیکھا۔ ھم نے معشوق آنکھوں سے کہا۔ اگر کہو تو پس دیوار پڑھ دیتے ھیں ۔ کہ اس ایک کام میں ھم مشتاق بھی ھیں ۔ ھشیار بھی ھیں ۔ لیکن وہ ادھر بیزار نظر آئیں ۔ جلدی سے ھماری آنکھوں پر ایک دوربین سی چڑھا دی۔ پہلے تو یوں لگا۔ یہ کھوپے ھیں ۔ اور ھم گھوڑے ھیں ۔ اور پاس یہ کلی سواری ھے اور بھاٹی لواری ھے۔ لیکن پھر ارشاد ھوا۔ اب پڑھو۔ ان دوربین نگاھوں سے اب ھم نے فر فر پڑھ لیا۔ بلکہ جو سب سے نیچے پیچی سی لائین تھی۔ وہ بھی پڑھ لی۔ پہلی بار اندازہ ھوا۔ دوربین نگاھوں کی کیا افادیت ھے۔ دل میں آیا ۔ کیوں نہ اس سے یہ دوربین مستعار مانگ لی جائے۔ اور پنڈی کے دوستوں کو بھیج دی جائے۔ لیکن وہ آنکھوں کی ڈاکٹر اب کمپیوٹر پر ھماری آنکھوں کا کوئ حساب کتاب لگا رھی تھی۔ حالانکہ ھمارا حساب بھی شفاف تھا اور کتاب بھی کھلی تھی۔ بولی ، تکلیف کیا ھے۔ ھم نے کہا۔ آنکھوں سے پانی ٹپکتا ھے۔ ڈرتا ھوں ۔ زیادہ دماغی استعمال سے کہیں مغز میں چھید نہ ھو گئے ھوں ۔ اوپر سے بارشوں کا موسم ھے۔ اور کچا میرا مکان ھے۔ جیسے آنسو بہتے ھیں ۔ لیکن آنسو نہیں ۔ پانی ھے۔ آنکھیں پانی سے بھری رھتی ھیں ۔ پوچھنے لگی۔ آنکھوں میں کون بستا ھے۔ وھی جو دل میں بستا ھے۔ وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے ، عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے۔
پہلے گھورا، پھر ھلکا سا کھنکورا ۔ اور اگلا حکم ۔ باھر جا کر انتظار گاہ میں بیٹھیں اور انتظار کریں ۔ جبکہ ھمارا خیال تھا۔ ھم انتظار گاہ میں فیس بک کا معائنہ کریں گے۔ انتظار گاہ کیا تھی۔ چھوٹی موٹی دنیا تھی۔ اور آنکھوں کے مریضوں سے آباد تھی۔ کچھ ستر بہتر کے تھے۔ جو مکمل اندھے تھے۔ کچھ ادھیڑ عمر کے تھے۔ جو آدھے اندھے تھے۔ کچھ جوان تھے۔ جو کچے پکے اندھے تھے۔ کچھ بچے تھے۔ جو ادھ پچدے اندھے تھے۔ جن کی آنکھیں ابھی ڈویلپ نہیں ھوئ تھیں ۔ کچھ ایسے تھے۔ جن کی آنکھوں پر چار پانچ سالوں سے پردہ پڑا ھوا تھا۔ کچھ ایسے مثبت کیس تھے۔ جو پہلے مکمل اندھے تھے۔ لیکن ان کو اب آدھا اندھا نظر آ رھا تھا۔ اور انہوں نے ھاتھ میں امن کی سفید چھڑی پکڑ رکھی تھی۔ کچھ چمگاڈر نما اندھے تھے۔ جو دن میں جاگ گئے ھوں ۔ اور اب روشنی میں چمکے مار رھے ھوں۔ اور کچھ ایسے نظروں والے اندھے تھے۔ جنہیں نظر تو آ رھا تھا۔ لیکن انہیں یقین نہیں تھا۔ چناچہ ساکت نظروں سے سفید دیوار کو گھورے جا رھے تھے۔ کچھ البتہ بلکل ٹھیک تھے۔ لیکن اندھوں کی اس انتظار گاہ میں اندھوں کی طرح ھی دیکھ رھے تھے۔ اتنی دیر میں ھماری سماعت سے ایک سریلی آواز ٹکرائ ۔ مسٹر احمد میرے کمرے میں تشریف لائیں ۔ ھم خوشی خوشی اٹھے۔ اور تیزی سے چلتے نرس کے کمرے میں داخل ھو گئے۔ یہ اندھی انتظار گاہ کا اثر تھا۔ یا ھم یملے ھو چکے ھیں ۔ لیکن ھم نرس کو صاف صاف دیکھ رھے تھے۔ جو اپنی کرسی پر بیٹھی اپنے ناخنوں پر گلابی نیل پالش لگا رھی تھی۔ جس نے سفید ھونٹوں پر سرخ لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔ پیروں میں نیلے سلیپر تھے۔ اور گلے میں سنہرا لاکٹ چمک رکھا تھا۔ یقین جانیں یہ دیکھ کر دل کو انتہائی اطمینان حاصل ھوا۔ کہ ھماری آنکھیں نہ صرف ٹھیک ھیں بلکہ بدستور باریک بین بھی ھیں ۔ اتنی دیر میں ھماری ڈاکٹر مٹکتی ھوئ وھاں آ چکی تھی۔ ھمیں کھینچ کر اپنے کمرے میں لے گئ۔ اور ھم خوشی خوشی کھنچتے گئے۔ کمرے میں لیجا کر کرسی پر بٹھایا ۔ اور فرمایا۔ اپ کی آنکھوں میں خشکی اتر آئ ھے۔ ھم نے کچھ مایوسی سے کہا۔ ھمیں موتیا اترنے کی امید تھی۔ کچھ دنوں سے موتیے کی خوشبو آ رھی تھی۔ کہنے لگی۔ یہ گیلی مٹی کی خوشیو ھو گی۔ آنکھوں کی خشکی اور پانی کی وجہ سے بن رھی ھے۔ ھم نے پوچھا ۔ خشکی اور تری ایک ساتھ ؟ کہنے لگی۔ خشکی خارش کرتی ھے۔ اور خارش پانی پیدا کرتی ھے۔ ھم نے مسکرا کر کہا۔ جتنا پانی پیدا ھو رھا۔ ایک ڈیم بھر سکتا ھے۔ رہ گئ آنکھوں کی خشکی تو یہ ایک ماڈرن شخصی خصوصیت ھے۔ آدمی کے اسٹیٹس میں اضافہ کرتی ھے۔ اور خارش کرنا ویسے ھی ھمارا قومی کھیل ھے۔ بولی۔ آنکھوں کے قطرے لکھ رھی ھوں۔ دن میں تین بار ۔ اور فیس بک سے مکمل چھٹی۔ ھم نے تڑپ کر کہا۔ فیس بک کا دستور نرالہ ھے۔ اسے چھٹی نہ ملی جسے سبق یاد ھوا۔ خفگی سے بولی۔ آنکھیں بڑی نعمت ھیں ۔ ھم نے آخری بار اس کی سبز نعمتوں کو غور سے دیکھا۔ گھر آئے اور فیس بک پر یہ کالم لکھا۔ فیس بک بھی ایک نعمت ھے۔ اگرچہ سبز نہیں ھے۔ سرخ ھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *