کروڑ پتی میک اپ آرٹسٹ ہدیٰ قطان کون ہیں؟

زندگی میں کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ آپ نے اپنی ملازمت کو اس کام کے لیے ترک کرنے کے بارے میں سوچا جو آپ کو پسند ہے؟

ہدیٰ قطان نے ایسا ہی ایک فیصلہ دس سال قبل کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

ہدیٰ اب اپنا میک اپ کا کاروبار ’ہدیٰ بیوٹی‘ چلا رہی ہیں اور امریکی مالیاتی جریدے فوربز کے مطابق ان کے اس کاروبار کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد ہے۔

عراقی نژاد امریکی ہدیٰ نے دبئی میں دو سال فنانس کے شعبے میں ملازمت کے بعد سب کچھ چھوڑ کر میک اپ آرٹسٹ بننے اور اپنا ذاتی بیوٹی بلاگ شروع کرنے کے لیے لاس اینجلس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم جب انھوں نے مصنوعی پلکیں بنانا شروع کیں کیونکہ انھیں اپنے گاہکوں کے لیے موزوں پلکیں نہیں مل پا رہی تھیں، تب انھیں اندازہ ہوا کہ اس بازار میں بہت بڑا خلا موجود ہے۔

’آغاز میں میرے گھر والوں کو مایوسی ہوئی‘

ہدیٰ جن کے والدین عراقی پناہ گزین تھے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں بیوٹی کی صنعت سے تعلق رکھتی بھی ہوں، مجھے ہمیشہ اس سے محبت رہی ہے، لیکن میرے والدین کبھی بھی فیشن یا بیوٹی کے قریب نہیں رہے۔‘

’وہ ہمیشہ کوئی سنجیدہ ملازمت جیسے کہ وکالت یا ڈاکٹر چاہتے تھے، یہ وہ چیزیں ہیں جو میرے گھر والے میرے لیے چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ یہ سب میرے گھر والوں کے لیے ایک بڑی چیز تھی۔‘

’مجھے ایسا لگا کہ انھیں شروع میں مایوسی ہوئی، تو میں نے ٹھان لی کہ مجھے کچھ ایسا کرنا ہے جسے سنجیدگی سے لیا جائے۔‘

جب 35 سالہ ہدیٰ نے 2013 میں مصنوعی پلکوں کا کاروبار شروع کیا تو اسی وقت سے ان کے اچھے گاہک بن گئے تھے، وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر ان کا بلاگ پڑھتے اور انھیں فالو کرتے تھے۔

ھدا بیوٹی

لیکن ان کا یہ کاوربار کبھی اتنا نہ بڑھتا اگر یہ ان کی بہن مونا کے لیے نہ ہوتا، جو اس وقت ’ہدیٰ بیوٹی‘ کی گلوبل پریزیڈنٹ ہیں۔

مونا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں تو ہدیٰ کے ساتھ پلکوں کا کاروبار شروع کرنے پر اٹل تھی، کیونکہ اس وقت میں پی آر اور بزنس کنسلٹنگ کا کام کر رہی تھی، لہذا میں مسلسل مواقع کی تلاش میں تھی۔‘

’مجھ سے لوگ بار بار پوچھتے تھے کہ ہم ہدیٰ کی پلکیں کہاں سے خرید سکتے ہیں؟ کیونکہ میرے بہت سے دوست ہدیٰ کے کاہگ تھے اور میں کہتی کہ آپ نہیں خرید سکتے کیونکہ ہدیٰ انھیں بناتی ہیں، وہ پلکیں کاٹ کر انھیں جوڑ دیتی ہیں۔‘

’ایک دن میں جذباتی ہوگئی اور سوچا کہ میں کیوں ہمیشہ لوگوں کو کہتی ہوں کہ آپ یہ پلکیں نہیں خرید سکتے؟‘

’ہمیشہ سے ہی کمپنی کو پلکوں سے آگے لے جانے اور ہدیٰ کے لیے اپنی عراقی ثقافت کے استعمال سے میک اپ کو مشرق وسطی کا رنگ دے کر میک اپ کی دنیا پر اپنی مہر لگانے کا منصوبہ تھا۔‘

ہدیٰ قطان کہتی ہیں: ’ہم نے پہلے لِپ کونٹور بنایا، جو کہ ایک لِپ لائنر ہے، مائع لِپ سٹک اور پھر آئی شیڈو پلیٹ اور ان سب پر کو ردعمل آیا وہ زبردست تھا۔‘

’چونکہ میں امریکہ میں پلی بڑھی، میرے اندر مشرق وسطی کا سٹائل بھی تھا لیکن ساتھ میں مغربی اثر بھی۔ میں ہمیشہ جانتی تھی کہ میں دنیا میں پہچانی جانا چاہتی تھی۔‘

گریزیا مڈل ایسٹ کی ایڈیٹر ان چیف الیسن ٹے کہتی ہیں کہ ہدیٰ بیوٹی ایسے وقت آئی جب عرب ٹرینڈز دنیا میں پھیل رہے تھے۔‘

الیسن ٹے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہدیٰ کے تازہ لانچ کی جانب اشارہ کیا جس میں انھوں نے چار پرفیوم متعارف کروائے ہیں جنھیں الگ الگ یا پھر ایک ساتھ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

’ان کی تازہ خوشبوؤں سے ہدیٰ دنیا کو زبردست خوشبوؤں کی تہیں فراہم کر رہی ہیں، ایک ایسی چیز جو مشرق وسطی میں دوسری بڑی چیز ہے۔‘

ھدا بیوٹی

’میں پیسے کے لیے نہیں کر رہی‘

ہدیٰ بیوٹی بہت جلد پھیل چکا ہے، اور اس وقت اس پر موجود مصنوعات کی تعداد 140 ہے جن کی فروخت سے سالانہ دو سو ملین ڈالر آتے ہیں۔

لیکن ہدیٰ قطان کہتی ہیں کہ منافع ان کا مشن نہیں ہے اور اس کی بجائے وہ اپنے پیغام کو پھیلانے پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’میں پیسے کے پیچھے نہیں ہوں۔ میں یہاں ایک مقصد کے لیے ہوں، میں یہاں اس لیے نہیں کہ میں بہت سارا پیسہ بنانا چاہتی ہوں، میں ایسی نہیں کہ کہوں اوہ میرے خدا اس سے تو بہت پیسہ آئے گا چلو یہ کام کرتے ہیں۔‘

’حال ہی میں مجھے چند مصنوعات کی سفیر بننے کے لیے 10 ملین ڈالر کی پیشکش ہوئی اور میں نے اس کے بارے میں سوچا تک نہیں، میں نے انکار کر دیا۔‘

’مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے برانڈز نے بہت سی مصنوعات بنائیں، لوگ ان کی بات کرتے ہیں، بیوٹی کے بارے میں ایک جدا گانہ خیال کے ساتھ انھیں فروخت کر رہے ہیں، بیوٹی کو ڈبے میں بند کر کے دنیا کے ہر بندے کو دے رہے ہیں۔‘

’بیوٹی اب بہت سیاسی ہو گئی ہے‘

الیسن ٹے کہتی ہیں کہ ’ہدیٰ مشرق وسطی میں ان تمام لڑکیوں کے لیے پوسٹر ’گرل باس‘ ہیں جن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور خواب ہیں۔ وہ اس بات کو اجاگر کر رہی ہیں کہ رنگوں کے ساتھ ایک لڑکی کا آپ کا رول ماڈل ہونا کتنا ضروری ہے۔‘

ہدیٰ بتاتی ہیں کہ جب وہ بڑی ہو رہی تھیں تو کوئی بیوٹی برانڈ انھیں بھاتا نہیں تھا۔

’بچپن سے مجھے ان سے نفرت تھی کیونکہ میں اس معیار پر پوری نہیں اترتی تھی اور مجھے ہمیشہ سے انفرادیت پسند تھی۔‘

’گذشتہ 18 ماہ کے دوران بیوٹی بہت زیادہ سیاسی ہو گئی ہے، برانڈز کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اتنی سیاسی کیوں ہو گئی ہے اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو اس کی وجہ مجبوری ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *