ہم سب

صرف سیاستدان ہی ہمارے زوال کے ذمہ دار نہیں‘ ہم سب ہیں۔ ہم سب‘ اس ملک سے بے وفائی کے مرتکب ہیں۔ فرائض ادا نہیں کرتے اور اپنے حقوق کے لیے ہمہ وقت چیختے چلاتے ہیں‘ ہم سب!
حکمرانوں پہ ہم بہت تنقید کرتے ہیں‘ ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے کہ نہیں؟
ملک کی ساٹھ ستر فیصد معیشت غیر دستاویزی ہے۔ ادا کرنے والے بھی پورا ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 4000 ارب روپے کی بجائے لگ بھگ 10,000 ارب سالانہ ٹیکس وصول ہونا چاہیے۔اسّی نوّے بلین ڈالر سالانہ کا مطلب یہ ہے کہ سب بھوکے پیٹ بھر جائیں‘ ہر مریض کو دوا ملے اور ہر بچہ تعلیم پا سکے ۔ ایک عشرے میں پاکستان‘ دنیا کی ممتاز ترین اقوام میں شامل ہو جائے۔
عیدِ قربان پہ 350 سے 400 ارب روپے کے جانور ذبح کیے جاتے ہیں‘ تقریباً نوّے لاکھ۔ بیس سے پچیس ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے جو شہری قربانی پہ صرف کر تا ہے‘ سالانہ ایک دو لاکھ روپے ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔
کتنے لوگ ہیں‘ ہر سال جو حج‘ عمرے اور زیارات پہ جاتے ہیں؟ حج کرنے والوں میں ایسے ہوسکتے ہیں‘ جو عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں۔ زیارات اور بار بار عمرے کرنے والوں کی اکثریت مال داروں کی ہے‘ جو اپنا ٹیکس بچاتے ہیں۔ کیا وہ ملک سے بے وفائی کے مرتکب نہیں؟
تین چار کروڑ پہ مشتمل‘ پاکستان کا درمیانہ طبقہ‘ شاید دنیا کا عیّاش ترین طبقہ ہے۔ بڑے مکانوں میں رہتے ہیں‘ مہنگی کاریں خریدتے ہیں۔ طرح طرح کے کھانے گھروں میں پکتے ہیں۔ شہروں میں اکثر خاندان اس کے باوجود ہوٹلوں کا رخ بھی کرتے ہیں۔ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد‘ ملتان‘ پشاور اور کوئٹہ کے ریستوران بھرے رہتے ہیں۔ ان سب سے زیادہ‘ گوجرانوالہ‘ گجرات‘ سیالکوٹ اور فیصل آباد کے مکین۔ چھوٹی صنعتوں نے ‘ چھلکتی آسودگی انہیں بخشی ہے۔
مسلم برصغیر کے مزاج میں دکھاوا ہے۔ قیمتی زیور خواتین پہنتی ہیں‘ امیر ممالک سے کہیں زیادہ۔ ان میں ایسی بھی ہیں‘ پابندی سے جو بیوٹی پارلرز کا رخ کرتی ہیں۔ ایک عشرہ ہوتا ہے‘ جنرل حمید گل کی ریاضت کیش صاحبزادی سے لاہور کی ایک خاتون نے کہا: کیا بیوٹی پارلر جانے کے لیے تین چار گھنٹے آپ نکال نہیں سکتیں؟ وہ دنگ رہ گئیں کہ ان کے ہاں تو اس کا تصّورہی نہ تھا۔ خواتین ہیں کہ ہر ماہ دس پندرہ نئے سوٹ سلواتی ہیں۔ پچھلے ہفتے کی بات ہے‘ دفتر میں کام کرنے والی ایک خاتون رنجیدہ تھیں کہ شادی کی ایک تقریب میں وہ شریک نہ ہو سکیں گی۔ ڈھنگ کا بلکہ شوخ لباس انہوں نے پہن رکھا تھا۔ اسی لباس میں وہ کیوں تشریف نہیں لے جاتیں؟ سوال کرنے والے کی بے خبری پر انہوں نے تاسف کیا ''میں یہ کیسے کر سکتی ہوں‘ ذرا سا کام بھی اس پہ زری کا نہیں‘‘ قیمتی ملبوسات میں مرد بھی کچھ پیچھے نہیں۔
مہنگے سکولوں میں تعلیم پانے والے بچوں کے والدین لاکھوں روپے سالانہ فیس ادا کرتے ہیں۔ ان میں ایسے ہیں‘ گرمی کی چھٹیاں جو پہاڑ پہ بسر کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں تلخ موسموں میں جو سمندر پار کی سر زمینوں کا رخ کرتے ہیں۔ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟
پندرہ برس ہوتے ہیں‘ لاہور کے ایک پراپرٹی ڈیلر نے بتایا کہ بیوی بچوں کے ساتھ ‘ دبئی کو پابہ رکاب ہے۔ ''کس لیے ؟‘‘ اس سے پوچھا گیا۔ ''شاپنگ کے لیے‘‘ اس نے بتایا۔ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ ''کس چیز کی خریداری کے لیے؟‘‘ وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ اندازہ ہوا کہ پڑوسیوں اور جاننے والوں پہ رعب ڈالنے کیلئے‘ کچھ بھی خرید لیا جائے گا۔ بیگم صاحبہ کے زیور‘ ڈرائنگ روم کیلئے آرائشی اشیائ۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ‘اللہ ان کی مشکلات آسان کرے‘ سات برس ہوتے ہیں‘ ناچیز سے پوچھا: کیا آپ دبئی جاتے ہیں۔ نفی میں جواب دیا تو حیرت سے وہ میری طرف دیکھتے رہے۔ یہ معاشرے کے متمول طبقات کا مشغلہ ہے۔
ارب پتی خاندانوں کے نکاح اب مکّہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں ہوتے ہیں۔ کس لیے؟ سرکارؐ کے عہد میں اوران سے وابستہ زمانوں میں بھی‘قریب کی بستیوں والے اس مقصد کے لیے کبھی حرم میں داخل نہ ہوئے۔ اگر یہ خیر و برکت کا عمل ہوتا تو وہ ضرور کرتے۔ کتنا روپیہ اس طرح برباد کر دیا جاتا ہے۔ افتادگانِ خاک کے آنسو پونچھنے پر نہ سہی‘ ڈھنگ کے کسی اور کام پہ صرف ہوتا۔
اخلاقی طور پہ بگڑی ہوئی اور علمی اعتبار سے ہم ایک کمزور قوم ہیں اور پست سے پست تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
1947ء سے پہلے دولت ہندوئوں اور سکّھوں کے پاس تھی۔ تعلیمی لحاظ سے بھی وہ ہم سے بہتر تھے۔ دکانداری کو رحمۃ للعالمینؐ کے امتّی حقیر سمجھتے‘ جن ؐکا فرمان یہ ہے : دس میں سے نو حصّے رزق تجارت میں ہوتا ہے۔
1947ء کے بعد نو دولتیوں کی ایک عظیم کھیپ ہم نے پیدا کی۔ جس چیز کو اس نے رواج دیا‘ وہ تہذیب و ثقافت نہیں‘ گنوارپن‘ اسراف اور چھچھور پن ہے۔ پنج ستارہ ہوٹلوں میں کھانا مہنگا‘ مگر گفتگو اکثر سستی ہوتی ہے۔ ایسی کسی تقریب میں جانا پڑے تو واپسی پہ دل خالی ہوتا ہے‘ خالی ڈھنڈھار۔
برٹرینڈرسل نے کہا تھا: بوریت گناہ کی طرف لے جاتی ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ شام بھاری ہوتی ہے۔ شعیب بن عزیز کا شعر یہ ہے ؎
دیار ِشب کی مسافت نے کیا دیاہم کو
ہوائے شام ہمیں اب گھروں میں رہنے دو
اس کا علاج‘ گھریلو تقریبات ہیں۔ ہم نفسوں کو احساسات میں شریک کرنے کا عمل۔ سرکارؐ کا فرمان یہ ہے: بازار انسانی آبادیوں کا بدترین حصّہ۔ ایک چھوٹی سی دعا بازار میں پڑھی جاتی ہے‘ جس کا اجر دس لاکھ نیکیاں ہیں۔ کیا یہ حیران کن نہیں؟ بازار میں شاید ہی کسی کو خدا یاد رہے۔ مرعوب روحیں ہار جاتی ہیں۔
معاف کیجئے‘ موضوع سے ہٹتا ہوں۔ پنجابی کے نادرِ روزگار شاعر میاں محمد بخش یاد آ گئے۔
جتن جتن ہر کوئی کھیڈے ہارن کھیڈ فقیرا
جتن دا مُل کوڈی پیندا‘ ہارن دا مُل ہیرا
جیتنے کو سبھی کھیلتے ہیں۔ اے فقیر تو ہارنے کو کھیل۔ ظفر مندی کی قیمت ایک کوڑی ہے اور شکست کی ہیرا۔ جی ہاں! درویش نے پا لیا تھا۔ بیس برس ہوتے ہیں‘ اسلام آباد سے ساڑھے تین گھنٹے کا سفر طے کر کے‘ ان کے مزار پہ پہنچا۔ وہ پرانی شکستہ چارپائی اب بھی وہیں رکھی ہے‘ جس پہ وہ استراحت فرمایا کرتے۔ خواجہ فریدالدین شکر گنجؒ اور سلطان باہوؒ کے نقشِ قدم پہ چلنے والے کا شعر زندہ ہے‘ جب تک پنجابی زبان باقی ہے‘ زندہ رہے گا۔
خس خس جتنا قدر نہ میرا صاحب نوں وڈآئیاں
میں گلیاں دا روڑا کوڑا‘ محل چڑھایا سائیاں
میری قسمت خشخاس کے دانے ایسی بھی نہ تھی۔ میں گلیوں کا کوڑا تھا مگر ''صاحب‘‘ نے مجھے محل کی چھت پہ پہنچا دیا۔ عارف سے سوال کیا گیا کہ ''صاحب‘‘ کون ہے؟ فرمایا: ان کے شیخ‘ سرکارؐ اور پروردگارِ عالم۔ کبھی ایک لفظ میں کئی جہات ہوتی ہیں۔
دیر سے سیکھا مگر اب یہ سیکھا کہ شادمانی دولت میں ہے‘ شہرت اور نہ اقتدار میں۔ پچھلے حکمرانوں کو دیکھو کہ رسوا ہیں۔ نئے حکمرانوں کو دیکھو کہ انجام کے خوف سے بوکھلائے ہوئے۔ زرداروں کو آسودہ دیکھا‘ حاکموں اور نہ جنرلوں کو۔ شادماں دیکھا اللہ کو یاد رکھنے‘ مخلوق سے نرمی برتنے اور ایثار کرنے والوں کو۔
ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا؟ جذباتیت‘ دکھاوا اور ملک و قوم سے بے نیازی۔ گھر سے کوڑا سمیٹ کر سڑک پہ ہم پھینک دیتے ہیں۔ ہمارا ملّا اور اشتراکی جو اب لبرل کہلاتا ہے‘ ریاست سے وفاداری کا قائل نہ تھا۔ خاص طور پہ ملّا جو خوب جانتا ہے کہ اللہ کے آخری رسولؐ نے ریاست سے وفا کو ایمان کا حصّہ قرار دیا تھا۔ فرمایا یہ تھا: چھوٹے سر والا ایک حبشی تمہارا امیر بنا دیا جائے تو بھی اس کی اطاعت کرو۔ یہ ریاست سے وفاداری ہے‘ حکمران سے نہیں۔ حکمرانوں کے بارے میں تو یہ ارشاد ہے کہ ان کی جائز ستائش بھی روا نہیں۔
صرف سیاستدان ہی ہمارے زوال کے ذمہ دار نہیں‘ ہم سب ہیں۔ ہم سب‘ اس ملک سے بے وفائی کے مرتکب ہیں۔ فرائض ادا نہیں کرتے اور اپنے حقوق کے لیے ہمہ وقت چیختے چلاتے ہیں‘ ہم سب!

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *