لاہور میں تین مذاہب میں بٹے بالمیکی قبرستان پر تنازعے کی وجہ ایک بزرگ کا مذہب

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جی ٹی روڈ پر یو ای ٹی یونیورسٹی کے بالکل سامنے اؤرنج ٹرین لائن کے سنگم پر واقع بدھواوا بالمیکی قبرستان کا شمار شہر کے متنازع ترین قبرستانوں میں ہوتا ہے۔

یہ لاہورمیں ہندو مت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا واحد قبرستان ہے۔ مقامی ہندوؤں کے مطابق یہ قبرستان 1830 سے اسی جگہ موجود ہے اور یہاں ہندو اقلیت اپنے مردے دفن کرتی رہی۔

'بالمیکی قبرستان' میں داخل ہوتے ہی میں نے قبرستان کو تین حصوں میں تقسیم پایا۔ دروازے کے ساتھ ایک کونے میں گورکن پرویز کا کمرہ ہے۔ ایک طرف 'جنازگاہ' کے نام پر ایک برآمدہ بنا ہے۔ شائد ہندو یہاں اپنی رسومات ادا کرتے ہیں باقی کا قبرستان مکمل طو پر شکستہ اور کچا ہے۔ جابجا، لمبی لمبی گھاس اور خود رو پودوں کو ڈھانپ رکھا ہے۔

آگے بڑھی تو قبرستان کے اندر سے ایک تنگ گلی اس کے دوسرے حصے تک لے آئی۔ یہ قبرستان کا دوسرا حصہ ہے جومسیحیوں کی تحویل میں ہے۔ یہاں داخل ہوتے ہی میں نے محسوس کیا کہ میں شاٗئد کسی گھر میں پہنچ گئی ہوں۔ جہاں صوفے بھی پڑے ہیں، کمرے بھی بنے ہیں غسل خانے ہیں، جہاں واشنگ مشین بھی ہے، اور کپڑے بھی دھل رہے ہیں۔

میں نے پہلی بار کسی قبرستان کو پختہ حالت میں دیکھا۔ جس کا ایک حصہ ٹی وی لاونج میں بدل چکا تھا ، فرش پر قالین بچھا تھا مگر انکے نیچے چھپی قبروں کی ساخت نمایاں تھی۔ شوکت مسیح قبرستان کے اس حصے میں بطور خاکروب رہائش پذیر ہیں۔ قبرستان کا تیسرہ حصے نے بھی ایک مکان کی صورت اختیار کر لی ہے۔ شوکت مسیح نے بتایا کہ یہ عبد الاسلام کا ہے۔

حویلی شاہ

مگر آج بالمیکی قبرستان متنازع کیوں؟

اس کے متنازع ہونے کی وجہ اس میں موجود ایک بزرگ کی قبر ہے، جس کے حوالے سے مسلمان اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہ دعوٰی کر چکے ہیں کہ قبر میں مدفن بزرگ کا تعلق ان کے مذہب سے ہے۔ البتہ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بزرگ ان کے مذہب سے ہیں۔

امرناتھ رندھاوا لاہور میں ہندوؤں کی سماجی تنظیم ہندو سدھار سبھا کے صدر ہیں اور وہ اپنے والد ہیرا لال رندھاوا کے ساتھ قریباً 25 سال سے بالمیکی قبرستان پر کیے گئے قبضے کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں، مگر اب ان کی بھی ہمت جواب دے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب قبر اور قبرستان کی لڑائی لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔

امرناتھ رندھاوا کے مطابق '1983 میں قبضہ مافیہ نے ہمارے قبرستان پر قبضہ کر لیا۔ ہمیں اقلیت سمجھ کر ہماری قبروں کو مسمار کر ڈالا۔ قبرستان کے کچھ حصے پر ورکشاپ بنا دی گئی۔ جو جگہ بچی تھی اس پر اپنی رہائش گاہ تعمیر کر ڈالی۔ ہم نے کورٹ کچہریوں کے چکر لگائے مگر انصاف نہ مل سکاپھر ضلعی انتظامیہ بھی حرکت میں آئی اور پھر قبضہ مافیہ کے خلاف کریک ڈاون شروع کر دیا گیا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے 2012 میں اقلیتوں کے حقوق کے آرٹیکل 20 تا 25 کے تحت قبرستان قبضہ گروپ سے لے کر اسے فوری واگزار کروانے کا حکم دیا اور 24 مئی 2014 کو اس وقت کے وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو کو اس کا افتتاح کرنا تھا۔

عبدالسلام 

یہ لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یہ اصل میں ہندو اس جگہ کو بیچنا چاہتے ہیں :عبدالسلام

 

مسلمان دعوے دار

عبدالسلام کے مطابق 'یہاں چاروں طرف مسلمان رہتے ہیں۔ یہ رسومات ادا ہی نہیں کر سکتے ۔اول تو یہ دفن ہی نہیں کرتے، یہ تو جلاتے ہیں مردوں کو، اب بتائیں پھر حویلی شاہ کیسے ہندو ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یہ اصل میں ہندو اس جگہ کو بیچنا چاہتے ہیں اور یہ ہم ہونے نہیں دیں گے۔'

لیکن امرناتھ رندھاوا کے مطابق 'قبضہ مافیہ نے ہماری ہندوؤں کے ایک بزرگ 'حویلی شاہ' کی قبر پر کتبہ لگا دیا جس پر مقدس کلمہ لکھا تھا اور پھر ہمیں تنگ کرنے لگے کہ یہ ہمارا بابا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہم لوگ قبرستان کا افتتاح نہیں کرنا چاہتے بلکہ بابے کی قبر پر لگا کتبہ ہٹانا چاہتے ہیں۔'

'اس قبر پر لگے کتبے کو آڑ بنا کر قبضہ گروپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ایک جلوس اکٹھا کر لیا اور کہا کہ یہ ہندو کتبہ ہٹا کر توہین مذہب کر رہے ہیں، یہ ہندو یہاں مندر بنانا چاہتے ہیں جہاں یہ گھنٹیاں بجائیں گے۔۔۔ یہاں اب پوجا پاٹ کی جائے گی، بھجن گائے جائیں گے۔۔۔'

انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے فریقین کے بیچ معاملہ ٹھنڈا ۔ لیکن کچھ دن گزرے تھے کہ مسیحی برادری کے لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے قبر کے ساتھ اپنی صلیب لگا دی اور کہا کہ یہ تو حویلی شاہ ہمارے بزرگ ہیں اور ان کا تعلق ہمارے مذہب سے ہے۔

قبرستان

حویلی شاہ کا مذہب کیا تھا؟

امرناتھ کے مطابق حویلی شاہ کا تعلق ہندوں کے شاہ گھرانے سے تھا اور 'ہمارے اپنے ہندو دھرم میں شاہ کی گدی ہے اور حویلی شاہ کا تعلق ہمارے مذہب سے ہی ہے۔'

شوکت مسیح بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے سے پہلے کچھ بالمیکی ہندوؤں نے مشنری سکولوں میں داخلے کے لیے اپنا دھرم بدل لیا اور عیسائی ہو گئے۔

شوکت کے مطابق حویلی شاہ کو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ان کی وفات ہوئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حویلی شاہ محنت مزدوری کرتے تھے۔

'وہ شادی بیاہ کے لیے آتش بازی کا سامان بناتے تھے، نمک منڈی میں پہلوانی کرتے تھے، درویش تھے۔ ان کے ہاتھ میں بڑی شفا تھی۔ بچوں کو بیماری ہوتی تو ان کے پاس دعا کروانے سے تندرست ہو جاتے۔ پھر انکا نام چل گیا۔ ہمارے بڑے بوڑھے بھی ان کو مانتے تھے۔'

شوکت مسیح کے مطابق 'یہاں سلیٹ پہلے لگتی ہے قبر بعد میں کھو دی جاتی ہے۔'

امرناتھ

امرناتھ رندھاوا کے مطابق 1983 میں قبضہ مافیہ نے ان کے قبرستان پر قبضہ کر لیا

بالمیکی کون ہیں اور اپنے مردے دفن کیوں کرتے ہیں؟

امرناتھ بتاتے ہیں کہ بالمیکی فرقہ ہندوؤں کا ایک قدیم فرقہ ہے۔ یہ مارشی والمیک سوامی کے نام سے منسوب ہے، جو وہ رشی (صوفی بزرگ) تھے جنھوں نے ہندوؤں کی اساطیری نظم 'رامائن' لکھی تھی۔

'ہندو دھرم میں رامائن کو دیگر دھرم کی مذہبی کتابوں کی مانند نہایت اہمیت حاصل تھی۔ والمیک سوامی ذات پات کو نہیں مانتے تھے اور وہ مساوات پر یقین رکھتے تھے۔'

ان کے مطابق بالمیکی لوگوں کو برہمن کے شمشان گھاٹ پر مردے جلانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے وقت یہاں آنے والے ہندوؤں میں زیادہ بالمیکی تھے۔

امرناتھ کے مطابق ہندو دھرم میں بالمیکی فرقے کے لوگ اپنے ایک سے 12 سال عمر کے بچوں کو دفن کرتے ہیں، یا 50 سے زائد العمر لوگوں کو، یا پھر ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ ان کی راکھ کو دفن کر کے سمادھی بنائی جائے۔ دوسری جانب بہت سے غریب لوگ جو جلانے کی لکڑی کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے وہ بھی اپنے مردے دفن کرتے ہیں۔

قبرستان

سپریم کورٹ نے قبرستان کے حوالے سے فیصلہ ہندو برادری کے حق میں دیا تھا

انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

اسسٹنٹ کمشنر شالیمار ٹاؤن علی اکبر بھنڈر کے مطابق دراصل یہ قبرستان ہندوؤں کا ہے، جسے سپریم کورٹ کے حکم سے واگزار کروا کر ہندوؤں کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ سارا معاملہ قبضے کا ہے۔

مقامی قبضہ مافیہ ہندو اقلیت کو جان بوجھ کر تنگ کرتی رہی ہے۔ آئے روز کے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہم نے قبرستان کے تالے کی دو چابیاں بنوا دیں ایک ہندو راہنما امرناتھ کو اور دوسری علاقے کے ڈی ایس پی کے حوالے کر دیں۔

'کیونکہ اصل لڑائی مسلمانوں اور ہندوؤں کی تھی۔اس لیے دونوں کے لیے دن مخصوص کر دیے جب وہ وہاں جا کر دعا کر سکیں یا چراغ جلا سکیں۔ اس سب کا مقصد انتشار کو پھیلنے سے روکنا تھا اور اگر اس سب کے باوجود قبضہ مافیہ کو چین نہیں آتا تو ہم پھر اپنے طریقے سے ان کو سیدھا کر لیتے ہیں۔'

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *