نواز شریف کے خلاف فیصلے میں لفظ ’’فرض کیا‘‘10مرتبہ اور قیاس یا مفروضہ 13مرتبہ استعمال ہوا

العزیزیہ اسٹیل ملز کیس‘نواز شریف کے خلاف فیصلے میں بنیادی لفظ ’’مفروضہ‘‘ہے۔131صفحات پر مشتمل فیصلے میں لفظ ’’فرض کیا‘‘10مرتبہ اور قیاس یا مفروضہ 13مرتبہ استعمال ہوا۔تفصیلات کے مطابق،احتساب عدالت نے ایک مرتبہ پھر مفروضے پر انحصار کرتے ہوئے معزول وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس میں 7سال قید کی سزا سنائی ہے۔131صفحات پر مشتمل فیصلے میں لفظ ’’فرض کیا‘‘10مرتبہ اور قیاس یا مفروضہ 13مرتبہ استعمال ہوا ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے لفظ قیاس یا مفروضہ کا دفاع کرتے ہوئے قانون شہادت آرڈر،(کیسو)1984، اعلیٰ عدلیہ کے سابقہ فیصلوںیہاں تک کے مثالوں کا حوالہ دیاہے کہ جہاں عدالت مفروضے پر بات کرسکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احتساب عدالت نے انہیں دوسرے ریفرنس میں جو کہ فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق ہے میں رہا کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے العزیزیہ کیس میںنواز شریف کے خلاف کامیابی سے کرپشن کے جرم کی تمام جزئیات کو قائم کیا۔عدالت نے کیسو کے آرٹیکل 129کا حوالہ دیا ، جس میں متعدد حقائق کی موجودگی کو عدالت فرض کرسکتی ہے۔انہوں نے کیسو کی سیکشن 107میں ذکر کی گئی مثالوں کا استعمال بھی کیا۔اسی طرح جج ارشد ملک نے سپریم کورٹ کے فیصلے جو کہ بطور پی ایل ڈی 2018، سپریم کورٹ114کے طور پر

رپورٹ ہوا کا بھی حوالہ دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلے میں احتساب عدالت کے ایک اور جج محمد بشیر نے بھی مفروضوں پر انحصار کیا تھا ، جس میں نواز شریف کو 10سال قید ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *