تیس سالہ رفاقت

طارق جب آپ کھانے سے فارغ ھو جائیں تو مارکیٹ جا کر میرے لیے ایک ھیئر کنڈیشنر خرید لائیں ۔ یہ ایک غیر مانوس سی آواز تھی۔ جو ھماری سماعت سے تکرائ تھی۔ ھم نے منہ اٹھا کر باقائدہ جگالی کرتے ھوئے ادھر ادھر دیکھا۔ یہ حکم کہاں سے صادر ھوا ھے۔ نہ تو یہ ھماری اماں کی آواز تھی۔ اور نہ اماں بیچاری کو ھئیر کنڈیشنر کا معلوم تھا۔ وہ لائف بوائے استعمال کرتیں اور کبھی کبھی کپڑے دھونے والا دیسی صابن ۔ بہنیں ڈاکٹر تھیں ۔ لیکن مکمل دیسی۔ ھم تینوں بھائ سر جوڑے بیٹھے تھے۔ اور مغز کھا رھے تھے۔ پائے تھے اور تلوں والے کلچے تھے۔ پوریاں تھیں ۔ اور ان پوریوں میں تیل بھی تھا۔ یہ ھمارے ولیمے کی صبح تھی۔ ناشتہ بھی کر رھے تھے۔ اور ساتھ ساتھ ولیمے کا حساب کتاب بھی لگا رھے تھے۔ فرنی کی ٹھوٹھنیاں، مرغی کی ٹانگیں، بکرے کی چانپیں، بکرے کے گوشت پر خاص توجہ تھی۔ یہ ایک سماجی حقیقت ھے۔ لوگ بکرے کے گوشت کو دیکھ کر زیادہ ھی ھتھ چھٹ اور منہ پھٹ ھو جاتے ھیں ۔ ٹیڑھی میڑھی مشکل بوٹیوں کی بجائے صاف ستھری سیدھی سادی بوٹیوں پر خاص کرمفائ رھتی ھے۔ دھی کے کونڈوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔ لاھوریے دھی کھاتے نہیں پیتے ھیں ۔ چاھے میزبان کا کونڈا ھو جائے۔ اور ان تمام اجناتی اشیاء کا مالی بجٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی جاری تھا ۔ آپ جانیں مڈل کلاس کے اپنے ھی مسائل ھوتے ھیں ۔ ھم نے اپنے چھوٹے بھائ سے کہا۔ یار یہ آدھی پوری دینا۔ اس نے تیل سے بھری ادھی پوری ھمیں دی۔ ھم نے پوری کو پہلے اچھی طرح نچوڑا ۔ پھر سکھایا اور پھر کھایا ۔ اتنی دیر میں پھر وھی غیر مانوس آواز آئ۔ طارق مارکیٹ جا کر ایک ھیئر کنڈیشنر خرید لائیں ۔ جس طرح بکروں کا ریوڑ گھاس کھاتے کھاتے گردن اٹھا کر ادھر ادھر دیکھتا ھے۔ ھم تینوں بھائ بھی کچھ یہی کر رہے تھے۔ پھر بڑے بھائ نے ھمیں باقائدہ ٹھاپ لگائ۔ تمہاری بیوی کی آواز ھے۔ آواز پہچانتا نہیں ۔ ھم نے مسکرا کر کہا۔ ابھی آواز کہاں سنی۔ وہ الگ بات کہ اگلے تیس سال یہ آواز ھم نے دن رات سنی۔ صبح شام سنی۔ آتے جاتے سنی۔ سوتے جاگتے سنی۔ اور پڑھتے پڑھاتے سنی۔ اور ھمارا گھر اس آواز سے گونجتا رھا۔
بات یہ ھے۔ ھم مزاجا بچپن سے ھی کچھ رومان پسند تھے۔ پھر بےشمار رومانیت سے بھرے ناول پڑھ لیے۔ شاعری پڑھ لی۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کر لیا۔ ھماری امی ھمارے ابو کا نام نہ لیتی۔ میکیا کہہ کر بلاتیں ۔ ابو ھماری امی کو میکیا کہتے۔ لیکن جو بات ھماری رومان پرور طبیعت کو بہت زیادہ متاثر کرتی۔ وہ ھمارے گھر کام کرنے والی خاتون کا وہ طرز تخاطب تھا۔ جس سے وہ اپنے شوھر کا ذکر کرتی۔ میرے مالک کی یہ بات اور میرے مالک کی وہ بات۔ میرے مالک سے ھمیں ملکیت اور قبضے کی فیلنگ آتی۔ اور سچی بات ھے۔ ھم محبت میں ملکیت کے ھی حامی تھے۔ اور کچھ عجیب سی خواہش تھی۔ ھماری بیگم بھی ھمیں میرا مالک کہہ کر بلائیں ورنہ میکیا تو ضرور کہیں ۔ اور جو پہلا فقرہ بیوی کے منہ سے سنا۔ وہ بقلم خود ھمارا نام تھا۔ طارق ، مارکیٹ سے ھیئر کنڈیشنر لا دیں ۔ رومانیت تو ختم ھوئ اپنے نام سے پیار ھو گیا۔
لیکن کچھ کمینے دوست کہاں باز رھنے والے تھے۔ ایک بار ھاتھ میں رومال پکڑے گھر سے باھر نکلا۔ تو ایک ایسے ھی کمینے دوست سے ٹاکرا ھو گیا۔ پوچھنے لگا۔ کہاں جا رھے ھو۔ ھم نے کہا۔ تندور سے روٹیاں لینے جا رھے ھیں ۔ سنتے ھی کمینگی سے ھنسنے لگا۔ پھر کہنے لگا۔ تم تو کہا کرتے تھے۔ تمہیں ایسی بیوی پسند ھے۔ جو کچن میں چپاتیاں پکا رھی ھو۔ اور جس کے بازووں میں پڑی کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے کچن گونج رھا ھو۔ ھم نے اپنے اس گھٹیا دوست کو کھا جانے والی نگاھوں سے دیکھا۔ اور کہا تب میں بچہ تھا۔ تمہاری بھابھی ایٹمی توانائی کمیش میں سائنسدان ھے۔ اب وہ چوڑیاں پہن کر چھن چھن کرنے سے تو رھی۔ بدتمیزی سے بولا ۔ تم چوڑیاں پہن لو۔ اور چھن چھن کرتے رھو۔ تمہاری رومانیت تو زندہ رھے گی۔ اب ھم کیا جواب دیتے۔ اس کمبخت کی پہلے شادی ھو گئ تھی۔ اور ھم نے اس کا اچھا خاصہ مذاق لگا رکھا تھا۔ اب ظاھر ھے بدلہ لینے کی ان کی باری تھی۔
ستر اور اسی کی دھائیاں سست رو تھیں ۔ اور عاشقانہ تھیں۔ یعنی بیٹھے رھیں تصور جاناں کیے ھوئے۔ نبے کی دھائی ٹرانسفر لائ اور پھر اکیسویں صدی میں فاسٹ ٹائم، فاسٹ کمپیوٹر، فاسٹ سائبر ورلڈ ، فاسٹ فوڈ، فاسٹ مہنگائی اور فاسٹ تعلقات عامہ نے دنیا کو جکڑ لیا۔ ھم نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر بڑے ھوئے۔ عمران سیریز اور جاسوسی دنیا میں لڑکپن گزارا۔ علی پور کا ایلی، آگ کا دریا ، اداس نسلیں، راجہ گدھ اور شہاب نامہ میں جوانی بسر ھوئ۔ کرنل خان ، شفیق الرحمان، پطرس بخاری ، مشتاق احمد یوسفی، عطاء الحق قاسمی، ابن انشاء، اور ضمیر جعفری سے طنز و مزاح سیکھا۔ اور پیار کا پہلا شہر سفر نامہ قرار پایا۔ شیکسپیئر، ورڈز ورتھ، کیٹس ، شیلے، اور تھامس ھارڈی اور جین آسٹن اور ڈکنز کو بھی پڑھ لیا۔ لیکن جب ان کتابوں کے رومان پرور ماحول سے باھر نکلے تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ ھم خرگوش کی مانند درخت کی ٹھنڈی چھاوں میں سوتے رہ گئے۔ اور مستقل مزاج کچھوے آگے نکل گئے۔ پھر کیا تھا۔ رومانیت کو حقیقت میں ڈھالا۔ معلوم ھوا۔ چوڑیوں کی چھن چھن اپنی جگہ اور میرا مالک اپنی جگہ۔ بیوی پڑھی لکھی اور نوکری پیشہ ھی ٹھیک ھے۔ زندگی کی گاڑی ایسے ھی اب چلے گی۔ یہ ھمارا خیال ھے۔ باھمی محبت ، باھمی احترام ، باھمی آرام ، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ مسائل اور مشترکہ وسائل ۔ اولاد سانجھی اور زندگی سانجھی ۔ تیس سال بسر ھو گئے۔ چند سال پہلے بیوی کا ھاتھ پکڑا ، بچوں کی انگلی تھامی اور گوروں کے دیس چلا آیا۔ وہ بھلی مانس خاموشی سے چلی آئ ۔ اور دیار غیر میں جدوجہد اور کامیابی کا استعارہ بن گئ۔ وہ طارق کی آواز لگاتی ھے ۔ ھم جی بیوی کہتے ھیں ۔ ھم بیوی کو پکارتے ھیں ۔ وہ آئ سرکار کہتی ھے ۔ اور ھاں وہ کانچ کی چوڑیاں بھی پہن لیتی ھے ۔ چھن چھن بھی کرتی ھے۔ اور ھم گانا بھی گا لیتے ھیں ۔ بلکہ گانے کی جان نکال لیتے ھیں ۔ بچے ھنستے ھیں ۔ محبت کرتے ھیں ۔ ادب کرتے ھیں ۔ اور ھم مسکرا لیتے ھیں ۔ یہ زندگی محبت کے لیے کم ھے۔ لوگ پتہ نہیں نفرت کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ھیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *