نئے سال کا بے معنی عہد نامہ

دسمبر کا مہینہ بھی عجیب ہے، اس ماہ زندگی کا ایک برس کم ہو جاتا ہے اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ اس پورے سال میں ہم نے کیا تیر مارا۔ اوروں کا تو علم نہیں لیکن میں یہی سوچ سوچ کر کڑھتا رہتا ہوں کہ یہ سال بھی یونہی گزر گیا، کوئی کام نہ ہوا۔ اب ہم پھر سے جنوری میں خود کو تازہ دم کریں گے، اپنے آپ کو امید دلائیں گے، نئے جوش اور جذبے کے ساتھ زندگی کو دیکھیں گے، نئے پیمان باندھیں گے، نئے چراغ جلائیں گے مگر ساتھ ہی یہ بات فراموش کر دیں گے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انسان بے وقعت ہوتا چلا جاتا ہے، اُس کی ہر منصوبہ بندی وقت کی سفاکی کے سامنے بے معنی ہے، مستقبل کی ہر پیش بندی محض اپنے دل کو تسلی دینے کا ایک ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ مگر ہم انسانوں کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں، ہم اپنی مرضی سے آئے ہیں اور نہ اپنی مرضی سے جائیں گے۔ آرتھر شوپنہار نے کہا تھا کہ زندگی دراصل موت کے قریب جانے کا مسلسل عمل ہے۔ مگر اب جبکہ یہ زندگی ہم نے گزارنی ہے تو اسے پر آسائش انداز میں کیوں نہ گزارا جائے ؟ یہی سوچ کر ہم لوگ ہر سال نئے سرے سے کمر بستہ ہوتے ہیں، نئے ٹارگٹ مقرر کرتے ہیں، نئی گاڑی، مکان، بہتر نوکری، محفوظ مستقبل اور دلفریب زندگی کو پانے کے لیے جُت جاتے ہیں اور اُس وقت تک جُتے رہتے ہیں جب تک ایک اور برس نہیں گزر جاتا اور ہم نئے دسمبر میں بیٹھے دوبارہ یہی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں۔

میں آج کل چونکہ شوپنہار کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں اس لیے کچھ کچھ قنوطی ہو گیا ہوں۔ دسمبر کے مہینے میں مایوسی کی باتیں کرنا مناسب نہیں، یہ عہد و پیمان کا مہینہ ہے، اس مہینے بندہ اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کے لیے جتنا پُرجوش ہوتا ہے، اتنا سال کے باقی دن نہیں ہوتا، اس ماہ آپ خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگلا سارا سال کتابیں پڑھیں گے، سگریٹ چھوڑ دیں گے، فلاحی کام کریں گے، تین مہینوں میں ایک مرتبہ خون کی بوتل دیں گے، بچوں کے ساتھ وقت گزاریں گے، لوگوں میں اپنا خوشگوار تاثر قائم کریں گے، نئے دوست بنائیں گے، پابندیٔ وقت کو عادت بنا لیں گے، کسی کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھیں گے، وزن کم کریں گے، خوراک میں پھل اور سبزی کا استعمال بڑھائیں گے... یعنی اُن تمام باتو ں کا خود سے وعدہ کرتے ہیں جن کے پورا ہونے کا دس فیصد امکان بھی نہیں ہوتا۔ جنوری آتے آتے یہ امکان پانچ فیصد رہ جاتا ہے اور فروری تک ان وعدوں کا جنازہ نکل چکا ہوتا ہے۔ ہم اگلے سال کیا کریں گے، کے برعکس اگر ہم صرف یہ سوچیں کہ ہم نے گزرے ہوئے سال میں کیا کچھ کیا تو زیادہ افاقہ ہو گا۔ آئیڈیل تو یہ ہے کہ ہم گزشتہ پانچ برس کا اسٹاک کھنگالیں اور دیکھیں کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں۔ ایک سے دس تک کا اسکیل بنائیں اور اپنے آپ کو ایمانداری سے نمبر دیں۔ ایک پیمانہ اخلاقی ہو اور دوسرا مادی مثلاً اخلاقی پیمانے میں خود سے اس قسم کے سوال پوچھیں کہ کیا آپ پہلے سے کم جھوٹ بولتے ہیں، کیا آپ کے لین دین میں دیانت داری پہلے سے زیادہ ہے، کیا آپ کی پابندیٔ وقت کی عادت پہلے سے پختہ ہو گئی ہے، کیا آپ پہلے سے زیادہ صدقات اور عطیات دیتے ہیں، کیا آپ نے بغیر کسی وجہ، لالچ اور مفاد کے، محض انسانیت کے ناتے غریبوں کی مدد کی ہے اور کیا وقت کے ساتھ اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے... وغیرہ وغیرہ۔ اگر اس اخلاقی اسکیل میں آپ کے نمبر دس میں سے آٹھ یا سات بھی آگئے تو سمجھئے کہ آپ درست راستے پر ہیں مگر شرط یہ ہے کہ یہ نمبر آپ خود کو پوری ایمانداری کے ساتھ دیں اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس قسم کے سوالات کی فہرست بنا کر اپنے کچھ دوستوں کو دے دیں اور انہیں کہیں کہ آپ کے نمبر لگائیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اگر آپ کے لگائے ہوئے نمبروں اور دوستوں کے دیئے ہوئے نمبروں میں زیادہ فرق ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ اپنے ساتھ ہی ایماندار نہیں، دوسروں کے ساتھ کیا ہوں گے! مادی اسکیل پر اپنے نمبر لگانا نسبتاً آسان ہے کیونکہ مادی ترقی یا تنزلی کا تعین اعداد و شمار سے کیا جا سکتا ہے، آپ نہایت آسانی کے ساتھ اس بات کا پتا لگا سکتے ہیں کہ پانچ سال پہلے آپ کے پاس کتنی دولت تھی اور آج کتنی ہے، کاروبار پہلے وسیع تھا یا اب ہے، نوکری پہلے اچھی تھی یا اب بہتر ہے...! اسی طرح صحت کا پیمانہ بھی بنایا جا سکتا ہے، بچوں کی تربیت کا بھی بنایا جا سکتا ہے اور عبادت گزاری اور نیکیوں کا اسکیل بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جب آپ خود کو ہر اسکیل میں نمبر دے چکیں گے تو اندازہ ہو گا کہ گزشتہ پانچ برس میں آپ کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی آئی یا نہیں۔

مصیبت یہ ہے کہ زندگی ایسے حساب کتاب سے نہیں گزاری جاتی، خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان کام نہیں، یہ باتیں سیلف ہیلپ کی کتابوں میں تو اچھی لگتی ہیں مگر حقیقت میں ان پر عمل کرنا مشکل اور بورنگ کام ہے۔ اب کون بیٹھ کر سوالات بنائے، پھر ان کے ایماندارانہ جوابات تلاش کرے، اپنا کڑا احتساب کرے... کیا ضرورت ہے! جب آدھی زندگی منافقت کی مدد سے باآسانی گزر سکتی ہے تو باقی نصف بھی ایسے ہی گزر جائے گی۔ کاروبار میں بلا تکان جھوٹ بول کر جب منافع کمایا جا سکتا ہے تو سچ کا تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے... سرکار کی نوکری میں کام نہ کرنے والے کی بھی ترقی ہو جاتی ہے تو پھر کام کرنے کی کیا ضرورت ہے... اور جب اپنے مسلک کے مدرسے کو چندہ دینے سے جنت میں گھر کی بکنگ ہو جاتی ہے تو پھر حکومت کو ٹیکس دینے کی کیا ضرورت ہے...! پس ثابت ہوا کہ دسمبر کے مہینے میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ کسی بھی مہینے میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ نئے سال کا جو بھی پلان بنائیں گے وہ فروری تک کوڑے کی ٹوکری کی نذر ہو چکا ہو گا۔ ویسے بھی یہاں بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والے دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور انگوٹھا چھاپ ڈنگر کروڑوں جیب میں لیے گھومتے ہیں۔ آپ ڈنگروں سے انسپریشن لیں اور کتابیں پڑھنے والوں کے حال سے عبرت پکڑیں، ان شاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

کالم کی دُم:اس مرتبہ دسمبر کی سردی نے کڑاکے نکال دیئے ہیں، مجھے ویسے بھی کچھ زیادہ ہی ٹھنڈ لگتی ہے، اوپر سے رہی سہی کسر بخار نے پوری کر دی، یہ کالم اسی کیفیت میں لکھا گیا ہے، اگر اس میں کوئی بھی بات بے ربط یا لایعنی لگے تو میں معافی کا خواستگار ہرگز نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *