صنفی برابری میں پاکستان کی پوزیشن

ورلڈاکنامک فورم ایک معتبر خودمختار ادارہ ہے ۔معیشت کے شعبے میں عالمی سطح پرنجی اور سرکاری شعبوں کے باہمی تعاون کا فروغ اس ادارے کابنیادی مقصد بیان کیاجاتاہے۔مختلف معاشی موضوعات پراپنے تحقیقی مقالہ جات کے علاوہ مشاہیرکواپنی تقریبات ،مباحثوں،میں شریک رکھنے کے سبب یہ ادارہ اکثرخبروں کاموضوع رہتا ہے۔اس مرتبہ موضوع بحث اس ادارے کی جاری کردہ صنفی امتیازکے متعلق ایک سالانہ رپورٹ ہے جسے ’’گلوبل جینڈرگیپ‘‘کا نام دیاگیاہے۔میں اپنی تحریروں میں انگریزی الفاظ کا استعمال کرنے سے حتی الامکان پرہیز کرتا ہوں مگرکہیں کہیں یہ آج کل ناگزیرہو جاتا ہے۔مردوں اور عورتوں کو دنیا میں دستیاب مواقع اس طرح جانچے گئے ہیں کہ ان کی بنیاد پراس عالم رنگ و بوکے تمام ممالک کی ایک فہرست بنا دی گئی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس صنفی برابری کی فہرست میں شامل 149ممالک میں پاکستان کو 148ویں نمبرپر رکھاگیا ہے۔مختلف موضوعات پرعالمی اداروں کی اس طرح کی رپورٹیںآتی رہتی ہیں،اکثر نظراندازبھی کر دی جاتی ہیں،مگریہ رپورٹ میرا موضوع سخن یوں بنی کی صدر عارف علوی نے اپنے سرکاری ٹویٹراکاؤنٹ کے اس موضوع اظہارخیال فرمایا ہے،اپنی تشویش کااظہارکیاہے اور انتظامیہ ،مقننہ کے ساتھ ساتھ عدلیہ سے بھی اس صورتحال کا نوٹس لینے کے لئے کہا ہے۔
صنفی برابری کی عالمی درجہ بندی جسے ورلڈ اکنامک فورم نے یوں ترتیب دیا ہے،کہ اس فہرست میں میرے ملک کا حال یمن سے قدرے بہترہے،مگرباقی دنیاکے مقابلے میں بدترقراردیاگیا ہے،اس کی بنیادچار شعبہ ہائے زندگی ہیں،سیاست،معیشت،صحت اور تعلیم۔خواتین کی نمائندگی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔سیاست کے شعبے میں حاصل اختیارات کوغالباًبہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش مین اس رپورٹ کے مطابق حالات امریکہ اور روس سے بہت بہتر ہیں۔چونکہ بنگلہ دیش کانمبر48واں ہے ،جبکہ امریکہ اکیاون ویں نمبرپر ہے اور روس 75ویں نمبرپر جگابناسکا ہے۔اقتصادی مواقع کی جنس یاصنف کی بنیادپرتفریق کی بات کریں توپھر سری لنکاچین سے بہتردکھایاگیا ہے اور ہندوستان کہیں108ویں نمبرپرہے۔صحت اور تعلیم کے شعبہ جات بھی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے جانچے گئے ہیں۔جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے،جوکہ اس سالانہ صنفی برابری کی عالمی درجہ بندی رپورٹمیں شائع ہواہے۔
میں اس رپوٹکے معتبرہونے یا غیر معتبرہونے پر استدلال نہیں دوں گا،جس میں افریقہ کا فاقہ زدہ ملک چھٹے نمبرپر ہے اور جاپان 110ویں نمبرپرہے،باالفاظ دیگرجاپان کوروانڈاکامقام حاصل کرنا ہے تواسے کئی دہائیاں اورسخت محنت کرنادرکار ہوگی۔جاپان کی پوزیشن پچھلے سال سے چاردرجے بہترہوئی ہے۔چونکہ وہ 114ویں نمبرپرتھابقول 2017رپورٹ۔عرض کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ایک ایسی رپورٹ جس میں روانڈا،نمیبیا،نکاراگوااور بنگلہ دیش دنیا کے معاسی وعسکری لحاظ سے مضبوط ترین ممالک امریکہ ،چین ،جاپان اور روس سے بہت آگے ہوں گے،بلکہ آئیڈیل نظرآرہے ہوں،G8ممالک کے لئے مشعل راہ ہوں،اس طرح کی کسی فہرست کے متعلق ہم سے زیادہ دوسری اقوام کوفکر کرنی چاہئیے۔ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہماری پریشانی کا سبب دیگرموضوعات ہونے چاہئیں،ان میں سرفہرست معیشت ہے جوکہ مسلسل گراوٹ کاشکارہے۔پاکستان کی شرح نموبڑی تیزی سے نیچے گررہی ہے،رویے کی تاریخی بے قدری ہو رہی ہے۔بے روزگاری اور مہنگائی روشنی کی رفتارسے بڑھ رہی ہے۔ان باتوں کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے اوروہ بھی فوری طور پر۔ورلڈاکنامک فورم کے سوئٹزرلینڈمیں بیٹھے بیوروکریٹ ٹائپ ملازمین جو اپنی تنخواہیں کھری کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ چھاپتے رہتے ہیں،وہ پاکستان اور اس کے حقیقی مسائل کو پاکستانیوں سے بہتر نہیں جانتے ہیں ،اور نہ ہی جان سکتے ہیں۔ان کے قائم کردہ معیارات پرپورااترناہمارامسئلہ نہیں ہوناچاہیئے۔
اسلام کی ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ ہے اور ساٹھ ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں،مگریہ اعزاز ہمارے وطن پاکستان کا ہے کہ اس نے اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون محترمہ بے نظیر بھٹوکووزیراعظم منتخب کیاتھا۔اسلامی دنیا میں عرب ،ایرانکی بات ہی نہیں،ترکی ،ملائشیا،انڈنیشیاجیسے
ممالک سیاسی ،سماجی اور معاشی اعتبارسے قدرے جدیدممالک بھی آتے ہیں،مگرصنفی برابری کی سیاست اور سماج میں مثالل قائم کرناپاکستانی قوم کا اعزاز ہے۔جبکہ امریکہ جیسی سپرپاورریاست میں آج تک کوئی خاتون ملک کی سربراہ منتخب نہیں ہوسکی ہے۔گزشتہ امریکی انتخابات میں بڑی مشکل سے ہیلری کلنٹن صدارتی امیدواربن پائیں،مگرآج ڈونلڈٹرمپ صرف اس بنیادپرامریکی صدر منتخب ہوابیٹھاہے چونکہ اس ملک کی عوام ایک عورت کوصدر نہیں بناناچاہتے تھے۔خواتین کے متعلق پاکستانیوں کاعمومی رویہ تکریم کاہے۔سماج میں جنسی تفریق اور صنفی امتیاز بلاشبہ ایک اہم مسئلہ ہے۔مگرغربت اوربے روزگاری زیادہ اہم معاملہ ہے۔چونکہ یہ عورت اورمرددونوں کامسئلہ ہے۔آخرمیں صدرمملکت سے دست بستہ گزارش ہے کہ صدرپاکستان کے سرکاری ٹوئیٹر ہینڈل سے اس طرح کے پیغامات آپ کے منصب کی توہین ہیں۔آپ نے جوعدالت عالیہ سے ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کا نوٹس لینے کا کہاہے وہ کسی طور پرجائز نہیں ہے۔ایسی خبروں کا نوٹس لیناعدالت عظمیٰ کا کام نہیں ہے۔عدالت کے ذمے اس سے زیادہ ضروری کام ہے کہ ،اوروہ کام خلقِ خداکوانصاف کی فراہمی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *