سونم کپور کی اگلی فلم کی رائٹر ہم جنس پرست خاتون ؟

رواں ہفتے انیل کپور اور سونم کپور کی اگلی فلم 'ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا' کا ٹریل سامنے آ گیا ہے اور اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ  'کپور اینڈ سنز' کے بعد یہ پہلی بالی وڈ فلم ہو گی جس میں کہانی ایک ہم جنس شخص کے گرد گھومتی ہے۔

یہ شاید حیرت کی بات نہ ہو کہ فلم ایک جنس بدلنے والی خاتون غزل دھلیوال نے لکھی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی کئی فلموں کی کہانی لکھی ہے جن میں 'لپسٹک انڈر مائی برقعہ'، 'وزیر' اور 'اگلی بار' شامل ہیں۔  اس کے باوجود وہ ہمیشہ غزل نہیں تھیں۔

25 سال کی عمر تک، وہ اندرونی جنگ کی کیفیت میں مبتلا رہیں۔ اپنی زندگی کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے بتایا: میں غلط جسم میں پیدا ہوئی تھی۔ میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ میں ایک لڑکا ہوں۔ یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو میری پسند کی تھیں وہ بھی لڑکیوں والی تھیں۔ میری سہیلیاں لڑکیاں تھیں  اور میں ان کے ساتھ ڈال ہاوس سے کھیلنا پسند کرتی تھی۔ جب میری ماں گھر پر نہیں ہوتی تھیں تو  میں ان کا دوپٹہ پہن لیتی تھی۔  یہ سب تب شروع ہو ا جب میں 5 سال کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب میری ماں گھر سے باہر تھیں تو میں نے ان کے کپڑے پہن لیے اور میری ایک خالہ نے مجھے دیکھ لیا۔  میرے رویے کو غیر متوقع دیکھ کر انہوں نے مجھے زور دار تھپڑ لگایا۔

لوگ مجھے چھکا اور دوسرے غلط الفاظ سے پکارتے تھے۔ میں جانتی تھی کہ مجھے اپنی نسوانی خاصیتوں کو چھپانا ہو گا  کیونکہ اگر میں ان کا اظہار کرتی تو لوگ میرا مذاق اڑاتے۔ زندگی کے ایک لمبے عرصے تک میں نے اپنی شناخت چھپائے رکھی۔ میں خود کو اپنے ہی جسم میں قید محسوس کرتی تھی۔ میرے جسم کی صنف میری روح کی صنف کے بلکل برعکس تھی۔

اگرچہ کچھ عرصہ تک ان کے والدین کو لگا کہ یہ مشکل وقت گزر جائے گا لیکن پھر وہ خود اپنی بیٹی کی سب سے بڑی طاقت اور حوصلہ بن کر سامنے آئے  جب غزل نے گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔  جب انہوں نے ٹرانزیشن مکمل کروائی تو والدین محلے کے ہر گھر میں گئے اور بتایا کہ ان کی بیٹی نے ٹرانزشن کروا لی ہے تا کہ جب غزل واپس آئیں تو لوگ ان سے مختلف رویہ نہ اپنا سکیں۔

غزل نے بتایا: میں جنس بدلنا چاہتی تھی لیکن تب  یہ بہت مشکل تھا۔  اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ دوسرا پڑا سپنا پورا کرتی ہوں  اور وہ سپنا ہندی فلم انڈسٹری کے لیے کہانیاں لکھنا تھا۔ انہوں نے اپنی رہائش بدلی اور ممبئی کے St Xavier’s میں فلم میکنگ کے شعبہ میں تعلیم حاصل کرنے لگیں۔ اسی دوران انہوں نے جنسی شناخت پر ایک ڈاکومنٹری بھی بنائی۔ وہ کئی لوگوں  سے ملیں جن میں سے کچھ نے ٹرانزیشن کا عمل مکمل کر لیا تھا ۔تب انہیں معلوم ہوا کہ ٹرانزیشن مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ آپریشن کے بعد اپنے جسم کو پہلی بار دیکھ کر ان کے دل میں جو تاثرات تھے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: میں نے خوشی سے چیخ نہیں ماری۔ میں پر سکون تھی۔ کافی عرصہ بعد مجھے سکون ملا تھا۔ تب میں نے خود کو سمجھایا کہ یہی وہ حالت ہے جس میں میں جانا چاہتی تھی۔ اب میری روح اور جسم ایک سمت میں ہیں۔ پہلی بار مجھے ہر چیز درست معلوم ہونے لگی۔

غزل کی لکھی کہانی کو  'ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا' میں مکمل فلم کی صورت میں دیکھنے کے لیے عوام بے تاب ہو ئے جا رہے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *