ٹرمپ نے افغانستان میں 'لائبریری' تعمیر کرنے پر مودی کا مذاق اڑا دیا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے افغانستان میں 'کتب خانے' کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے 'بے کار' قرار دے دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کابینہ کے اجلاس کے دوران پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ 'نریندر مودی مسلسل مجھے بتارہے تھے کہ انہوں نے افغانستان میں 'کتب خانہ' قائم کیا ہے۔'

امریکی صدر نے کہا کہ ’کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ محض ہمارے 5 گھنٹے خرچ کرنے کے برابر ہے۔'

انہوں نے کہا کہ ’ہم سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ہم کہیں کہ کتب خانے کے لیے بہت شکریہ! مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اسے استعمال کون کر رہا ہے۔‘

تاہم یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اشارہ کس منصوبے کی طرف تھا لیکن بھارت نے افغانستان کو 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

بھارتی حکومت کے ذرائع نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت ایک ترقیاتی شراکت دار کے طور پر افغانستان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کا مقصد افغانستان کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’نئی دہلی نے افغانستان میں بنیادی ڈھانچوں اور اقتصادی ترقی میں معاونت فراہم کی ہے‘۔

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے ٹوئٹ کیا کہ ’بھارت، افغانستان کے عوام کی زندگی بنا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو علم ہونا چاہیے کہ جب وہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی امداد پر تنقید کر رہے ہیں بھارت نہ صرف لائبریریاں بلکہ سڑکیں، ڈیم، اسکول اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی عمارت بھی تعمیر کر رہا ہے۔

بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رکن اور قانون ساز احمد پٹیل نے بھی ٹوئٹ کیا کہ ’امریکی صدر کے تبصرے کا انداز اچھا نہیں تھا، جو کہ سراسر ناقابل قبول ہے‘۔

خیال رہے کہ 2015 میں بھارت کی مالی امداد سے افغان پارلیمنٹ کی تعمیر نو کے بعد اس کا افتتاح کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’وہ افغانستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ بااختیار بھی بنائیں گے‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *