جیفری لینگ لینڈز: ’اور سونے سے پہلے مجھے بہت دور تک جانا ہے‘

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز کی وفات کے بعد پاکستان کے سینکڑوں شہریوں نے انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے استاد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے 50 کی دہائی میں صدر ایوب خان کی درخواست پر ایچیسن میں استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ وہ 1955سے لیکر اپنی وفات تک تعلیم کے شعبے سے ہی وابستہ رہے تھے۔ اس دوران وہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ درجنوں ایسی شخصیات کے استاد رہے ہیں جو ملک کے اندر ہر شعبے میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز 25 سال تک ایچسین میں خدمات انجام دیتے رہے جبکہ اس کے بعد انھوں نے کیڈٹ کالج رزمک شمالی وزیرستان میں 1979 سے لیکر 1989 تک انتہائی نامناسب حالات میں بھی خدمات سر انجام دیں تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے پاکستان کے انتہائی دورافتادہ اور پسماندہ علاقے چترال میں سیرج پبلک سکول کو عملی طور پر چلایاجس کو بعد میں لینگ لینڈز پبلک سکول اینڈ کالج کا نام دیا گیا تھا۔ اس تعلیمی ادارے میں وہ عملاً 96 برس کی عمر تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

جیفری لینگ لینڈز

یہ تصویر ساٹھ کی دہائی کی ایچسین کالج کے طالب علموں کے ساتھ گروپ تصویر جس میں وزیر اعظم عمران خان بھی موجود ہیں۔ تصویر میں تین لائن چھوڑ کر دیکھیں تو ایک لڑکا سینہ نکال کر کھڑا ہے اور اس کا بیچ باقی لڑکوں سے مختلف ہے کیونکہ اس پر کرکٹ کا رنگ ہے یہ عمران خان ہے

عمران، جیفری لینگ

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز کو اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے چترال کے کئی غریب خاندانوں کے افراد کو پڑھا لکھا کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر کی خدمات انجام دینے والی فرحت طماس نے اپنے استاد کی وفات پر انھیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب میں نے چترال سکول میں داخلہ لیا تھا تو میرے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ مجھے کتابیں اور یونیفارم لیکر دیں مگر ان کی خواہش تھی کہ میں پڑھوں اور جب میں سکول گئی تو پاؤں میں الگ الگ چپل پہن کر گئی اور یونیفارم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے نہ صرف مجھے کتابیں اور یونیفارم لیکر دیا بلکہ میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے جینے کا ہنر سکھایا۔‘

جیفری لینگ لینڈز

جیفری لینگ لینڈز ایچسین کالج میں ناشتہ کرتے ہوئ

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز کے ساٹھ کی دہائی میں طالب علم رہنے والے اور ان کی زندگی کے آخری ایام تک انتہائی قریب رہنے والے ملک کے معروف چارٹر اکاوئٹنٹ اور ممتاز کاروباری شخصیت ہارون رشید نے بی بی سی اردو کو بتایا جب حکومت پاکستان سے معاہدہ ختم ہوا اور وہ اپنے دیگر برطانوی فوجی افسران کے ساتھ پاکستان کو چھوڑ رہے تھے تو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر مملکت ایوب خان پاکستان چھوڑنے والے برطانوی افسران کے ساتھ الوداعی ملاقات کر رہے تھے۔

اس موقع پر صدر ایوب ہلکی پھلکی گپ شپ میں سب سے مستقبل کے ارادے پوچھے جب میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز کا نمبر آیا تو انھوں نے صدر ایوب کو بتایا کہ فوج میں شمولیت سے پہلے وہ استاد تھے اور برطانیہ جا کر وہ دوبارہ استاد ہی بننا چاہیں گے۔

ہارون رشید کے مطابق اس پر صدر ایوب نے ایک لمحہ سوچے بغیر میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز سے کہا کہ پاکستان میں استادوں کی بہت کمی ہے اور اگر وہ چاہیں تو پاکستان میں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

ہارون رشید کا کہنا تھا کہ میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے بتایا ’جس طرح صدر ایوب نے ایک لمحہ سوچے بغیر ان کو پاکستان میں خدمات انجام دینے کی دعوت دی تھی اسی طرح میں نے بھی ایک لمحہ سوچے بغیر یہ دعوت قبول کرلی جس پرصدر ایوب نے میرے ساتھ پر زور مصافہ کیا اور موقع پرہی ہدایات جاری کیں کہ مجھے ایچیسن میں تعینات کر دیا جائے۔

ہارون رشید کا کہنا تھا کہ ایچیسن کے بعد بھی ان کا اپنے استاد سے رابطہ نہیں ٹوٹا تھا۔ جب وہ ایچسین سے ریٹائر ہوئے تو اس وقت شمالی وزیرستان میں نیا نیا کیڈٹ کالج رزمک قائم ہوا تھا۔ وہاں کے حالات کی وجہ سے کوئی بھی ادھر خدمات انجام دینے کو تیار نہیں تھا مگر انھوں نے وہاں پر خدمات انجام دیں۔ کیڈٹ کالج رزمک میں خدمات ہی کے دوران ان کو وہاں پر موجود مقامی قبائیل نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اغوا کرلیا تھا۔

ہارون رشید کے مطابق میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے اپنے اغوا کی داستان انھیں کو سناتے ہوئے بتایا تھا کہ' انھیں پشاور سے وزیرستان جاتے ہوئے راستے میں اغوا کرلیا گیا تھا۔ اس موقع پراغوا کاروں کا خیال تھا کہ وہ ڈر جائیں گے مگر میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان سے دوستی کرلی۔ اور جب انھیں رہا کیا جارہا تھا تو سب اغوا کاروں نے ان سے معافی مانگی۔‘

ہارون رشید نے بتایا کہ میجر (ر) جیفری دس سال تک کیڈٹ کالج رزمک میں خدمات انجام دینے کے بعد چترال جانا چاہتے تھے۔ جس پر انھوں نے سابق طالب علموں سے مشاورت کی تو ہم نے منع کیا کہ وہ دور افتادہ علاقہ ہے مگر انھوں نے کہا کہ یہ ہی تو مزہ ہے کہ اس علاقے کے غریب لوگوں کو تعلیم فراہم کی جائے۔

ہارون رشید کا کہنا تھا کہ چترال میں خدمات انجام دینے کے دوران انھوں نے سکول چلانے کے لیے ٹرسٹ قائم کیا تھا اور اس ٹرسٹ سے وہ صرف 25 ہزار روپیہ تنخواہ لیتے تھے۔

جیفری لینگ لینڈز

'اکثر مسافر گاڑیوں پر سفر کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ انتہائی بری حالت میں لاہور ایچیسن کالج پہنچے جس پر کالج کے پرنسپل شمیم خان نے ان سے پوچھا کہ اتنی خراب حالت کیوں ہے اور کیوں ہوائی جہاز کو چھوڑ کر مسافر گاڑی پر اتنا لمبا سفر کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ جس پر شمیم خان نے ان سے کہا کہ چند دن قبل آپ کو حکومت نے ایک لاکھ روپیہ دیا ہے وہ کہاں ہے تو انھوں نےجواب دیا کہ وہ چترال کے سکول کے ٹرسٹ میں دے دیے۔'

ایچسین کے ایک اور سابق طالب علم اور سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل علی سبطین فضلی ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چترال میں سکول چلانے کے لیے انھوں نے ٹرسٹ قائم کررکھا تھا اور جو تنخواہ ملتی تھی وہ بھی اس ٹرسٹ میں جمع کروا دیتے۔ اپنے سابق طالب علموں سے بھی کہا کرتے تھے کہ ٹرسٹ کو چندہ دیا کریں۔‘

علی سبطین فضلی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سوانح حیات لکھنا چاہتے تھے اور اس پر کچھ کام بھی کیا تھا مگر وہ اس کو مکمل نہیں کرپائے تھے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے استاد کو انگریز شاعر رابرٹ فراسٹ کی شاعری بہت پسند تھی اور اس کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ ان کو اس کی شاعری کا ایک حصہ بہت پسند تھا اور اکثر وہ سنایا کرتے تھے۔ جس کا اردو میں مفہوم ہے کہ 'جنگل خوبصورت گہرا ور بڑا ہے۔ مگر مجھے اپنے وعدوں کا پاس کرنا ہے۔ اور سونے سے پہلے مجھے بہت دور تک جانا ہے، اور سونے سے پہلے مجھے بہت دور تک جانا ہے۔'

’ہم سب ان سے محبت کرنے والے ان کے طالب علم کوشش کررہے ہیں کہ ان کی تدفیق ایچیسن میں ہو، ان کو ریاستی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے اور ہم ان کے کتبے پر ان کا پسندیدہ شعر لکھ سکیں جس وعدے کو وہ ساری زندگی پورا کرتے رہے۔‘

1989 سے لیکر 1991 تک چترال پولیس میں بطور ایس پی خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ کمانڈنٹ ایف سی عبدالمجید خان مروت کا کہنا تھا کہ 'میجر (ر) جیفری لینگ لینڈ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ایسی ہی ایک ملاقات میں میں نے ان سے کہا کہ پاکستانی شہریت کیوں نہیں حاصل کرلیتے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ پاکستان میرا اپنا وطن ہے میں اس کے چاہنے والوں میں سے ہوں مگر مجھے اپنی جائے پیدائش برطانیہ سے عشق ہے اور میں برٹش کہلوانے پر فخر کرتا ہوں۔'

جیفری لینگ لینڈز

ان کے طالبعلموں کا کہنا ہے کہ وہ ایک شفیق استاد تھے

جیفری لینگ لینڈز

جیفری لینگ لینڈز چترال سے الوداع ہونے کے موقع پر لی گئی تصویر

لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کی موجودہ پرنسپل کیری سوچو فیلڈ ان دونوں تعطیلات کے سلسلے میں برطانیہ میں مقیم ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ’میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز انتہائی غیر معمولی انسان تھے ۔ وہ 96سال کی عمر تک خدمات انجام دیتے رہے تھے ۔ جب انھوں نے سکول سنبھالا تو اس وقت سکول میں 80 طالب علم تھے اور جب چھوڑا تو اس میں 800 طالب علم تھے۔ کئی غریب طالب علموں کو تعلیم دی اور ہم ان کا یہ مشن جاری و ساری رکھیں گے۔‘

جیفری لینگ لینڈز

لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کی موجودہ پرنسپل کیری سوچو فیلڈ کے ہمراہ

میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہونے سے پہلے برطانیہ اور برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان کی فوج میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ وہ برطانیہ کے علاقے یارکشائر میں اکتوبر 1917 کو پیدا ہوئے۔ ایک سال کی عمر میں ان کے والد جبکہ تیرہ سال کی عمر میں ان کی والدہ بھی وفات پا گئیں۔ وہ تین بہن بھائی تھے جن میں یہ دو بھائی جڑواں تھے۔ 1935 میں اے لیول کرنے کے بعد انھوں نے انھوں نے برطانیہ ہی میں حساب کے استاد کی حیثیت سے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغازکیا۔

دوسری جنگ عظیم میں انھوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1944 میں انھیں لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی، برصغیر کی تقسیم کے موقع پر وہ بھارت کے شہر بنگلور میں تعنیات تھے۔ اس موقع پر حکومت پاکستان نے برطانوی فوجی افسران سے اپنی خدمات جاری رکھنے کی گزارش کی جومیجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے قبول کرلی تھی۔

انھیں ان کی شاندار خدمات پر برطانیہ میں ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (ایم بی ای)، اور پاکستان میں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے علاوہ دیگر اعزازت سے نوازا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *