شادی کے پہلے دو سال

انسانی زندگی کا دارومدار صرف سانسوں پر نہیں رشتوں پر بھی ہے اور رشتے رویوں کی بنیاد پر مضبوط یا کمزور ہوتے ہیں،  رشتوں کے استوار رہنے کی مثال ننگے پاؤں چلنے کی ہے اگر محبتوں کے پھول بکھرے ہوں گے تو آگے بڑھنے اور فاصلے مٹانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو گی اگر کانٹوں بھرے راستے ہوں گے تو چھلنی پاؤں کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چلا جائے گا اور یہ اس دنیا کے پل کو پاؤں کے بل نہیں پلکوں کے بل چل کر عبور کرنا پڑتا ہے اس پرواز میں پَر نہیں حوصلے کام آتے ہیں، دماغ سے نہیں دل سے سوچنا پڑتا ہے زبان سے نہیں آنکھوں سے بولنا پڑتا ہے، یہ دنیا محبت کی امید پہ قائم ہے اور اس امید کے تقاضے ہر بدلتے لمحے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ہر حال میں خود کو مثبت انداز میں بدلنا ہی انسانی سماج میں کامیابی کی ضمانت اور اطمینان کا سبب بن سکتا ہے
شادی ایک بندھن ہے جو زندگی کا بندھن ہے اور روحوں کی جڑت ہے رشتوں کا ملاپ ہے جذبوں کا اشتراک ہے اور پیار کی نسبت ہے، شادی معاشرے کا لازمی جزو بھی ہے اور سب سے بڑا مسئلہ بھی، شادی صرف دو انسانوں کو قریب رہنے کا سرٹیفیکٹ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے مراسم کی ابتدا ہے اور اس میں سب رسم و رواج معاشرتی رویے آدابِ قرابت مزاجوں اور جذبوں کی باہمی شراکت داری ضروری ہوتی ہے اور اس کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب دونوں طرف انسانی تہذیب اور رویوں کا خیال رکھا جاتا ہو ، ذہنی آسودگی تب ہی میسر ہو سکتی ہے جب ذہن پر امن اور راست باز ہوں اور اپنی انا ضد غصے اور ہٹ دھرمی سے نکل کر قربانی دینے کا سبق سیکھیں اپنے علاوہ لوگوں کا خیال رکھنا سیکھیں اپنے آپ کو نرم مزاج اور عاجزی اختیار کرنے پہ آمادہ رکھیں اپنے ہم سفر کا اپنی ذات سے بڑھ کر خیال رکھیں اور بدلے میں وہ بھی ان سب لوازمات اور تقاضوں پہ پورا اترتا ہو تب زندگی ایک اصل زندگی ہو سکتی ہے
 شادی کے بعد پہلے دو سال شوہر اور بیوی کے لیئے بہت مشکل ترین سال ہوتے ہیں. جن میں ان کو بہت مشکلوں سے نمٹنا پڑتا ہے.
یہاں تک کہ اکثر اوقات ان کا دل کرتا ہے کہ خود خوشی کرکے مر جائیں،  اس سب کی وجہ کیا ہے ؟ کیوں ایک ہنستی بستی زندگی چھوڑ کر اپنے آپ کو اپنے پیاروں سے دور کرنا چاہے گا، اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے اپنے آپ کو اس کی سطح پر لا کر سوچیں. اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کب کوئی انسان اپنا سب کچھ چھوڑ کر موت کو گلے لگانے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے ایک تب جب وہ بالکل مایوس ہو چکا ہو اور اسے کسی بھی صورت کوئی امید کوئی بہتری کی آس نہ رہی ہو اور وہ سب کچھ بھول جانے کی دھن میں زندگی چھوڑ دینے کی ٹھان لیتا ہے. دوسرا جب وہ اپنے ضد اور انا میں اپنی شکست کو قبول نہ کرنا چاہتا ہو وہ مر تو سکتا ہے لیکن ہار نہیں سکتا   اس صورت میں وہ زندگی سے ہار کر بھی اپنی شکست قبول نہیں کرنا چاہتا ،تو یہی دونوں صورتیں اسی شادی کے بعد پیش آتی ہیں، خصوصاََ لڑکیوں کو، وہ یا تو شادی کے بعد بالکل مایوس ہو جاتی ہیں کہ اب مری زندگی ختم ہو چکی اور میں اب بہتری کی طرف نہیں بڑھ سکتی. وہ اس خاندان کو قید سمجھنے لگے گی اور پھر یا تو طلاق کی طرف جائے گی یا خودکشی کی طرف یہ ہر گھر کی کہانی ہے کوئی خوش قسمت ہی ہوتے ہیں جو ایسی مشکلوں سے بچ جاتے ہیں.
عورت ساس کے روپ میں ہو یا بہو کے روپ میں وہ اس وقت صرف ایک نادان بچے کے روپ میں ہوتی ہے جسے اس وقت صرف اپنی منوانی ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوتی ہے لیکن اس سب کا حل کیا ہے؟ .
ہمیں سب سے پہلے تو یہ بات زہن نشین کرنی ہو گی کہ ہماری زندگی صرف ہم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس سے جڑے بہت سے لوگوں کی زندگی پہ اس کا بے حد اثر پڑ رہا ہوتا ہے اور ہماری خوشی غم یا غصے کا باقاعدہ اثر ہم سے جڑے لوگوں پہ بھی پڑ رہا ہوتا ہے
تو گھر میں حاکم یا محکوم بن کر رہنے کی بجائے ہمدرد بن کے رہو، جب آپ کسی کا خیال رکھیں گے اس کی رائے کو اہمیت دیں گے تو وہ چاہے جس قدر سخت یا من مانی کرنے والا ہو وہ آہستہ آہستہ آپ کی بات کو اہمیت دینا شروع کر دے گا اور آپ جب ایک بار اس کی کسی بات پہ اپنی رائے واپس لیں گے یا دوسرے معنوں میں آپ اگر ایک بار اس کے لیے قربانی دیں گے تو اگلی بار اپنی مرضی تھوپتے ہوئے بہت بار سوچے گا، ٹہنی کی سختی کا اندازہ لگا کر موڑنے کی کوشش کریں گے تو وہ با آسانی مڑ جائے گی لیکن اگر یکدم سختی دکھائیں گے تو وہ ٹوٹ جائے گی، انسان کے پاس اس قدر ذہنی طاقت موجود ہوتی ہے کہ وہ ایک خونخوار جانور کو بھی اپنی مرضی کے مطابق سدھار لیتا ہے تو ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی بات کیوں نہیں سمجھا سکتا؟ بالکل سمجھا سکتا ہے صرف جلد بازی انا غصہ اور ہٹ دھرمی آڑے آتی ہے
شادی کے بعد وہ لڑکی کامیاب ہوتی ہے جو سسرال میں ہمدرد بن کے رہتی ہے نہ وہ حاکم بننے کی کوشش کرتی ہے اور نہ ہی مظلوم بن کر رہتی ہے اور یہ سبق ہمیں اپنی بچیوں کو دینا چاہیے کہ کس طرح وہ اپنے گھر کو مضبوط خوشحال اور پُرامن بنا سکتی ہیں ہمدرد کا مطلب سسرال کے افراد کے غم کو سمجھ کر ان کی غمخواری کرنا ان کی خوشیوں کو دگنا کرنا اور ان کو جس چیز سے تکلیف ہو ان چیزوں سے پرہیز کرنا لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ سسرال بھی اتنا ہی خیال رکھے جس قدر بہو رکھ رہی ہے ورنہ وہ احساسِ محرومی کا شکار ہو جائے گی اور مزید حالات بگڑ جائیں گے
زندگی کو زندگی بنا کر جینے میں آسانی ہے، اگر آپ زندگی کو مہم یا جنگ بنا کر جئیں گے تو بہت جلد تھک جائیں گے، اپنی انا کی فتح کے لیے لوگوں کے دلوں کو شکست دینے والے جشن نہیں منا سکتے بلکہ غصے اور انتقام کی آگ میں جلتے رہتے ہیں، دلوں کو فتح کرنے کے لئے تلواروں کی ضرورت نہیں پڑتی یہ کام پھول ہی کر سکتے ہیں اور پھول کبھی تکلیف نہیں دیتے، خوشیاں بانٹنا سیکھیں آپ خود کبھی غمگین نہیں ہوں گے، سکھ دینا سیکھیں کوئی رنج آپ کے قریب نہیں پھٹکے گا، پیار دینا سیکھیں نفرتیں آپ سے دور بھاگیں گی، خیر کی دعا ٹوٹتی سانسوں اور بکھرتے گھروں کو جوڑ دیتی ہے تو کیوں نا ہم خیر کی دعا مانگیں اور خیر کی امید رکھیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *