2019 میں کن شعبوں میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہوگی؟

 

" دلاور حسین "

آنے والے سالوں میں معیشت کی کارکردگی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش  نے سرمایہ کاروں کو سال  2019 میں  سرمایہ کاری کے لیے موجود مواقع کے بارے میں شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے۔

2018 میں سونے کی خرید و فروخت ایک بہترین آپشن سمجھی جاتی تھی ۔  سرمایہ کاری کی تمام اشیا میں سونا ایک مخصوص حیثیت  رکھتاہے ، یعنی اس کی قیمت کے استحکام  کی سطح  بھی دوسری اشیا کی طرح مارکیٹ میں کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لحاظ سے 2018 میں جہاں باقی تمام اشیا کی بہتری کی شرح  اکائی ہندسہ میں تھی وہاں سونے  کی قیمت میں 21.8 فیصد اضافے نے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ روپے کی قیمت میں  بڑی گراوٹ  کی وجہ سے  روپے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا  جس کی شرح 25.8  فیصد رہی  لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں اتنی تیزی سے کرنسی کی قیمت میں اضافہ ہو۔ پچھلی بار ایسا 2008 میں ہوا تھا جب روپے کی قیمت میں 27.6 فیصد کمی آئی تھی۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج پالیسی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مرزا  کی رائے میں 2019 میں  سکیورٹیز کے شعبہ میں سرمایہ کاری  کرنے والے کامیاب رہیں گے  لیکن انہوں نے یہ وارننگ بھی دی کہ یہ خوشخبری ان کے لیے ہے جو سٹاک ٹیکنیکل کا طریقہ اختیار کریں گے نہ کے سٹاک فنڈامینٹل کے طریقہ پر بھروسہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ  میں سرمایہ کاری بھی منافع بخش ہو سکتی ہے بشرطیکہ  سرمایہ کاری  شہر کے مرکز کی بجائے سرحدوں کے آس پاس موجود جائیدادوں پر کی جائے۔ لیکن یہ شرط فکس انکم سکیورٹی کے لیے لازمی نہیں ہے جس کا مقصد مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ جے ایس گلوبل میں شعبہ ریسرچ کے سربراہ سید حسین حیدر 2019 میں سرمایہ کاری کے نتائج کا اندازہ لگاتے ہوئے  بتایا کہ سٹاک مارکیٹ تقریبا 20  فیصد  منافع دے گی جس میں سے قومی بچت کے منصوبے (این ایس ایس) اور حکومت کی سیکیورٹیز  سے  11.3 فیصد  اور بینکوں میں رکھی گئی رقوم سے 9 فیصد منافع شامل ہو گا۔ ڈالر سے  6  فیصد اور سونا  سے 12 فیصد منافع  حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے سونے اور ڈالر کو چھوڑ کر باقی تمام اثاثون پر  سرمایہ کاری کے نتائج میں بہتری آئے گی  لیکن اکوئیٹی مارکیٹ کو  سب سے زیادہ فائد ہ ہو گا۔ حیدر کہتے ہیں:" اسٹاک مارکیٹکو درپیش مسائل کوئی نئے یا منفرد نہیں ہیں. اگر ہم  ماضی میں سٹاک مارکیٹ کو پیش آنے والے بحرانوں پر نظر دوڑائیں  تو ایک چیز فوری طور پر ظاہر ہوتی ہے: افلیکشن پوائنٹ پر مارکیٹ سائیکل میں داخل ہونے والے باقی لوگوں سے تھوڑا بہتر نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں رسک لینے کا  جذبہ رکھنے والے سرمایہ دار  دوسرے تمام طرز کے سرمایہ کاری کرنے والے افراد سے بہترمنافع کما سکیں گے۔ رسک سے بچ کر سرمایہ کاری کرے والوں کے لیے فکس انکم ، منی مارکیٹ اور گورنمنٹ سکیورٹی جیسے آپشنز بہترین رہیں گے۔  مفادات کے ٹکراو کے پیش نظر مسٹر حیدر میوچول فنڈز  میں انویسٹمنٹ کے بارے میں بات نہیں کرتے لیکن ان کی تجویز کے مطابق  بانڈ  سب سے بہترین طریقہ سرمایہ کاری ہو سکتا ہے کیونکہ باقی تمام طریقوں سے سود کی شرح اور دوسرے مسائل  کا سامنا رہتا ہے جو بانڈ  کی خرید و فروخت میں درپیش نہیں آتے۔رسک سے ڈرنے والے اور  چھوٹے سرمایہ کاروں  کے لیے این ایس ایس بہترین آپشن ہے۔  نیکسٹ کیپٹل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالقرنین خان  کے مطابق  2019 میں سٹاک میں سرمایہ  سب سے بہتر رہے گا جس میں 17.6 فیصد منافع کی توقع ہے. ان کو لگتا ہے کہ میوچول فنڈز سے بہتر منافع کمایا جا سکتا ہے  سٹاک فنڈ سے 27.1 فیصد انکم فنڈ سے 10.7 فیصد اور منی مارکیٹ فنڈ میں 9.7 فیصد منافعہ کمایا جا سکتا ہے۔ ذوالقرنین کے اندازہ کے مطابق بینکوں میں سیونگ اکاونٹ کی مد میں  8.5  فیصد ، دفاعی بچت سرٹیفکیٹس سے  12.2  فیصد، ایک سالہ ٹریژری  بل سے 10.9 فیصد اور تین سالہ پاکستان سرمایہ کاری بانڈز (پی آئی بی) سے  11.7  فیصد منافعہ حاصل کیا جا سکتاہے۔ اس سے کسی قدر تسلی ہوتی ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار 2018 کے خسارہ سے گزرنے کے بعد بے کار اور بے یار و مددگار نہیں ہوں گے۔ بلوم برگ کے مطابق دنیا کے امیر ترین  لوگوں کو بھی 2018 میں  511 ارب ڈالر کھونے پڑے  جس کی وجہ امریکہ کی بدلتی ہوئی تجارتی پالیسیاں تھیں۔ سیکیور ٹیزکے سی ای او زبیر غلام حسین کا کہنا ہے کہ "2019 کے لئے،ایکویٹیز   سب سے بہترین سرمایہ کاری کے مواقع کا حامل ہے  کیونکہ اس شعبہ میں پچھلے دو سال میں بہت نقصانات اور خسارے کی صورتحال درپیش رہی ہے ۔  اقتصادی معیشت میں  جو گڑ بڑ کا ماحول دیکھا گیا ہے وہ اب آہستہ آہستہ بہتری کی طرف گامزن ہے  اور آئی ایم ایف کی طرف سے مالیاتی فنڈز کے حصول کے بعد  اور تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے معیشت میں بہت بہتری کی توقع ہے۔ اس سے بہت ممکن ہے کہ ایکوئیٹیز واپس استحکام کے راستے پر گامزن ہو جائیں۔  عارف حبیب لمیٹڈ میں ڈائریکٹر ریسرچ  اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر سمیع اللہ طارق نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا: "رسک سے نہ ڈرنے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے بہترین آپشن ایکوئیٹی  اور میوچول فنڈز  میں سرمایہ کاری ہے کیونکہ اسٹاک فی الحال صرف 7.6 گنا قیمت پر ٹریڈنگ کر رہی ہے. رسک سے بچنے کی کوشش کرنے والے سرمایہ کاروں کے لئے پی پی آئی  سے 13.08  فیصدمنافع  کی توقع ہے۔  اگر ایک یا دو سال میں سود کی شرح میں کمی کی جائے تو وہ منافع کما کر  واپس ایکوٹیز کا طریقہ اپنا سکتے ہیں۔  دوستانہ ممالک (اور ممکنہ طور پر ایک آئی ایم ایف پیکج) کے ذریعہ  ملنے والی امداد سے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور  تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں بھی تجارتی خسارہ کو کم کر دیں گے  جس کی وجہ سے ڈالر کی کشش کم ہو چکی ہے۔ روپے کی قیمت میں مزید 4 سے 5 فیصد کمی کا امکان ہے۔ اکویٹیز کے معاملے میں بہت سے تجزیہ کاروں نے دفاعی پلے کو ترک کر کے ویلیو شئیر کو ترجیح دینے کا رویہ اپنا لیا ہے۔ زیادہ تر انویسٹرز رئیل اسٹیٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیں گے  جس کی وجہ ریگولیٹری اور مارکیٹ رسک ہے ۔ اس کے علاوہ   منی لانڈرنگ کے سلسلے میں تفتیشی کاروائیوں سے بھ انویسٹرز کا حوصلہ متاثر ہوا ہے۔  2018 میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں  سرگرمیوں کی کمی واقع ہوئی  جس  کی وجہ کراچی اور بحریہ ٹاون کے مسائل کے بعد بڑی بلڈنگز کی تعمیر پر پابندی تھی جس سے  سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "ایک سرمایہ کار جو رئیل اسٹیٹ میں پیسے رکھتا ہے اس کے لئے مشکلات کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے خاص  طور پر اس وقت جب خریدی گئی زمین  تجاوزات میں آ جائے یا حکومت کی طرف سے منظور شدہ نہ ہو۔ بہت سے پڑھے لکھے سرمایہ کار اس چیز کو خدا کی نعمت قرار دیتے ہیں کہ  پاکستان میں بٹ کائن جیسے انویسٹمنٹ کے طریقے نہیں اپنائے گئے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں  ڈیجیٹل کرنسی  نے خوب مقبولیت حاصل کی لیکن جب بلبلہ پھٹا  تو سب سرمایہ کاروں کو سرمایہ ڈوب گیا۔ اس کے باوجود مینیجر اثاثہ جات نے شکایت کی ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار پچھلے 50 سالوں میں اثاثوں کی ایک ہی کلاس میں سرمایہ کاری کرنے  پر مجبور ہیں ۔ ایک ناقد پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حیرت کی بات ہے کہ کالا اور سفید دھن  ملک سے باہر منتقل کرنے کے آپشن کو ہی زیادہ ترجیح دی جاتی ہے؟