نئی تہذیب کے انڈے۔۔۔

محترم قارئین میں نے آج تقریبا" ایک سال کے بعد دوبارہ بلاگ لکھنے کی جراءت کی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ میرے قریبی حلقہ احباب نے میرے بارے میں یہ فتوی دینا شروع کر دیا تھا کہ میں پاکستان کی منفی صورت کشی کرتی ہوں۔ لہذا میں نے سوچا کیوں نہ کچھ عرصہ کے لیے اپنے آپ کو روکا جائے، از سر نو اپنی سوچ اور افکار کا منعکسی جائزہ لیا جائے۔ اس دوران مختلف  تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں میں مشغول بھی رہی۔ سائنسز اور سوشل سائنسز میں پڑھنے اور پڑھانے والوں سے بھی رابطہ رہا اور ملکی وعلاقائی سطح پر عملی و پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ نیشنل یونیورسٹی کے قیام کے لیے کی گئی میٹنگ میں بھی جانا ہوا۔ سکولوں اور تکنیکی تعلیم کے حوالے سے بھی کچھ منصوبہ بندی کی اور وفاقی اور صوبائی وزارت تعلیم کو سفارشات بھی بھیجیں۔ آج ایک سال بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ میں منفی صورت کشی نہیں کرتی بلکہ جب کسی کو میری تحریر میں آئنہ دکھائی دیتا ہے تو وہ یہ رائے رکھتا ہے۔

۲۰۱۹ کے آتے آتے میں نے شعبہ تدریس میں اپنے بیس سال اور ایک سرکاری یونیورسٹی میں ۱۵ سال مکمل کیے۔ میں نے خود کو ہمیشہ ایک طالب علم سمجھا اور محسوس کیا ہے، اسی لیے مجھے بیس سالوں میں ایک بار بھی یہ احساس برتری نہیں ہوا کہ میں بہت کچھ جانتی ہوں اوریہ کہ لوگ نہیں جانتے۔ نہ ہی ان بیس سالوں میں میں نے کبھی خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط پایا، ہاں میں نے بہت بار خود کو لوگوں سے مختلف ضرور پایا اور یہ بھی میرا خاصہ نہیں۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی طرز کا ایک ہی انسان ہے لہذا مختلف ہونا کوئی بڑائی نہیں بلکہ بہت ہی عام سی بات ہے۔ بیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں یہ ضرور سمجھا کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنا نام کر جاتے ہیں اور کون ہیں وہ جن کا نام لیوا بھی نہیں رہتا۔ اولالزکر وہ لوگ ہیں جو کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں ایک مقررکردہ وقت میں اس سے کہیں زیادہ اور سود مند کارکردگی دکھا جاتے ہیں جس کا ان سے تقاضہ بھی نہیں کیا گیا ہوتا۔ جبکہ بعد الزکر وہ لوگ ہیں جو اپنے کام اور زمہ داری کے علاوہ سب کچھ کرتے ہیں اور ان س کبھی کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔

۲۰۱۸ کے دوران مجھے مختلف قسم کے انقلابی اوردھواں دار موٹیویشنل سپیکرز سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا اور کچھ لوگوں کی محفل میں مجھے ان کی قیمتی سوچ سننے کے لیے بلایا بھی گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی مقرر نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اس کی اپنے تحقیق کیا ہے اورکیا انہوں نے انسانی ترقی کے لیے کوئی نظریہ تک بھی پیش کیا ہے؟ البتہ یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنے لیے ایک بھرپور زریعہ معاش پیدا کر لیا ہے۔ تمام یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات اپنے اساتذہ سے جس انسپائریشن کی توقع رکھتے تھے وہ ناپید ہونے کی صورت میں ان موٹیویشنل سپیکرز کی تو چاندی ہو گئی۔

نوجوان چاہے کسی بھی تہزیب اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں اسے آئیڈیل اور انسپائریشنل شخصیات کے بارے میں جاننا، سننا اور پڑھنا پسند ہوتا ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں ان کی کہانیوں میں اپنے کردار تراشتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے کوئی نہ کوئی شخص مشعل راہ بن جاتا ہے۔ اب میرے جناح اور اقبال کے نوجوانوں اور شاہینوں کا کیا بنے گا؟ ان کے لیے تو نئی تہزیب نے اب کچھ بھی آئیڈیل نہیں چھوڑا، کیونکہ وہ جو گندے انڈے تھے ان میں سے بچے نکل کر بڑے ہوئے اور اقتدار کی کرسیوں تک جا پہنچے۔ اب ۲۰۱۹ میں جو بچہ ۱۸ یا ۱۹برس کا ہوا کھڑا ہے اس نے جن لوگوں کو طاقت کے نشے میں دھت دیکھا یہ ان ہی کو اپنا مشعل راہ سمجھ بیٹھا۔ وہ ہمارے اپنے ملک میں بھی موجود تھے اور ان ممالک میں بھی جنہیں دنیا کے فیصلے کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا۔ گزشتہ چند سالوں نے وہ تمام بت توڑ ڈالے اور اس نوجوان نسل نے اعتبار کھو دیا۔

۱۸سے ۲۵ سال کے جوانوں میں ایک شدید تیزی اور غصہ کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں موٹر بائیک ہو یا باپ کی کمائی کی موٹر کار دونوں صورتوں میں یہ سڑک پر دندناتے پھرتے ہیں اور لگتا ہے کہ جب تک کہیں دے نہیں ماریں گے، باز نہیں آئیں گے۔ ان کی یہ اضطرابی کیفیت آنے والے دور کی افرا تفری کا پیش خیمہ ہے۔ انہیں ہر اس شخص کی بات بھلی لگتی ہے جو کہتا ہے کہ کسی کی نہ سنو۔ ان کے خیال میں قانون توڑنا جرائت مندی اور بد زبانی کرنا طاقت کا اظہار ہے۔ یہ پڑھے لکھے نوجوان ہوں یا ان پڑھ فرق صرف زبان کے استعمال میں آتا ہے یعنی الفاظ کا چنائو ایک سا ہی رہتا ہے چاہے وہ علاقائی زبان میں ہو، قومی یا بین الاقوامی۔ زبان کے چنائو سے طبقاتی فرق جھلکتا ہے لیکن شدت پسندی اور عدم برداشت ہرطرف برابر ہی رہتی ہے۔

فی الحال میں صرف یہ ہی سوچ رہی ہوں کہ یونویرسٹیز میں پہنچنے والے ان نوجوانوں کے لیے ایسا کیا کیا جائے کہ جو بگاڑ پیدا ہو چکا وہ سنوارا جا سکے۔ اللہ ہمیں توفیق دے اورہم اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کے لیے ایک بہتر کل تشکیل دے سکیں جس کی باگ ڈور ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *