پینتیس سال پہلے کا سلیم اختر!

ڈاکٹر سلیم اختر مرحوم کو ایک کالم میں سمیٹا نہیں جا سکتا، گزشتہ سے پیوستہ روز میں نے ان کی وفات پر ’’مہاشہ جی‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا۔ اب ان کی زندگی کے حوالے سے کچھ اور پہلوبھی ملاحظہ فرمائیں۔جو میں نے 35برس پیشتر ان کی زندگی میں تحریر کئے تھے۔ اس وقت ان کی شہرہ آفاق آب بیتی بھی شائع نہیں ہوئی تھی اور اس حوالے سے میرا افتخاریہ ہے کہ کتابی شکل میں آنے سے پہلے یہ میرے ادبی مجلہ ’’معاصرانٹرنیشنل ‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔35برس پیشتر کی تحریر آپ کی نذر ہے !واضح رہے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا صرف ایک پہلو ’’مہاشہ جی ‘‘ والے کالم میں در آیا تھا باقی سب کچھ نیا ہے !

میں نے اپنے دوستوں میں ڈاکٹر صاحب سے زیادہ سگّھڑشخص اور کوئی نہیں دیکھا ۔مجال ہے ہوٹل سازی پروقت اور پیسہ ضائع کریں اس کی بجائے وہ اپنا وقت گھر پر گزارتے ہیں چنانچہ اس طرح جو وقت بچتا ہے وہ اس میں تنقید، افسانہ اور طنز و مزاح لکھ کر ادب میں نام کماتے ہیں اور جو پیسہ بچتا ہے اس سے گاہے گاہے دوستوں کی پرتکلف دعوت اپنے گھر پر کرتے ہیں حالانکہ اگر وہ چاہیں تو یہ ترتیب الٹ بھی ہو سکتی ہے یعنی جو وقت بچے اس میں پیسہ کمایا جائے اور جو پیسہ کمائیں اسے ادب میں نام کمانے کے لئے انویسٹ کر دیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مشورہ اب خاصا بعد ازوقت ہے کیونکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سات برس کی عمر تک بچے کی شخصیت مکمل ہو جاتی ہے اس کے بعد ساری عمر اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی، بس چھوٹی چھوٹی ’’آئینی‘‘ اور غیر آئینی ترمیمیں ہوتی رہتی ہیں چنانچہ میرے خیال میں سلیم اختر کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ سلیم اختر کی شکل میں جو چیزبن گئی ہے وہ اتفاق سے اچھی چیز ہے۔ لہٰذا اسے جوں کا توں رہنے دینا چاہئے ورنہ ترمیمات سے اس کی شکل بھی 1973کے آئین جیسی ہو جائے گی۔

سلیم اختر کی ایک خصوصی صفت تو میں نے ابھی تک بیان ہی نہیں کی اور وہ دوستوں سے ان کی محبت ہے وہ دوستوں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں بلکہ میرے جیسے دوستوں کی موجودگی میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ خامیوں کو دوستوں سمیت قبول کرتے ہیں، ان کی دوستی کا صرف ایک معیار ہے کہ مدمقابل پرخلوص ہونا چاہئے چنانچہ جب انہیں اس کے خلوص کا یقین ہو جاتا ہے تو پھر اس کے سات خون معاف کر دیتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی دوستی میں نظریات کو بھی آڑے نہیں آنے دیتے اور یوں احمد ندیم قاسمی سے لے کر راقم الحروف تک ان کے دوستوں میں شامل ہیں۔ سلیم اختر کی دوستی کا دائرہ جتنا وسیع ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اگر آئندہ الیکشن میں کھڑے ہوں تو ان کے مخالف کی ضمانت ضبط ہو جائے۔

دوستوں سے سلیم اختر کی محبت کے حوالے سے ایک بات بتانے کی یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں ایسے شخص کو منافق کہا جاتا ہے جو سب کا دوست ہو اور کسی کو ناپسند نہ کرتا ہو، سلیم اختر کو یہ الزام گوارا نہیں تھا لہٰذا انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم و مغفور کی صورت میں اپنا ایک اختلافی کردار ڈھونڈا کہ اس بہت بڑےا سکالر سے اختلاف بلکہ ’’جنگ وجدل‘‘ بہرحال معنی رکھتی تھی ورنہ یار لوگ تو اتنے تھرڈ کلاس قسم کے دشمن پالتے ہیں کہ اس سے بہتر ہے آدمی بغیردشمن کے زندگی گزار دے۔ سو ڈاکٹر سلیم اختر نے ڈاکٹر وزیر آغا سے ’’دشمنی ‘‘ بھی پوری وضعداری سے نبھائی مجال ہے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغرش آئی ہو اور یوں میرے نزدیک ان کی ادھوری شخصیت اب مکمل ہو گئی ہے اب سنا ہے کہ مشفق خواجہ ان دنوں ڈاکٹر وزیر آغا اور سلیم اختر کے مابین صلح کروانے کے درپے ہیں۔ سبحان اللہ اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے مگر مشفق خواجہ کو چاہئے کہ وہ اس دوران سلیم اختر کے لئے کسی متبادل دشمنی کا انتظام ضرور کر دیں اگرچہ ہم ایسے دوست کے ہوتے ہوئے ڈاکٹر سلیم اختر کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی احتیاط اچھی چیز ہوتی ہے۔

سلیم اختر کے دوستوں اور دشمنوں کا ذکر چھڑا ہے تو جہاں ڈاکٹر طاہر تونسوی کا ذکر گرما گرم ہو گیا ہے ۔طاہر تونسوی سلیم اختر کا شاگرد عزیز ہے اور یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ استاد اور شاگرد دونوں ایک دوسرے کو ’’اون‘‘ کرتے ہیں۔ورنہ فی زمانہ کے استاد او رشاگرد کے حلوے کے علاوہ استاد اور شاگرد میں اتنا قریبی رشتہ کہاں دیکھنے میں آیا ہے طاہرتونسوی سے ملنے کیلئے ملتان سے چل کر لاہور آنا اور اس کا سانس جس طرح پھولا ہوتا ہے لگتا ہے پیدل چل کر آیا ہو اور پھر وہ جتنے دن بھی لاہور میں قیام پذیر ہوا اپنے استاد کی خدمت میں مسلسل متواتر حاضر رہتا ہے کہ وہ سلیم اختر کا شاگرد بھی ہے دوست بھی ہے بلکہ بیٹوں جیسا ہے یہاں ’’بھائی ‘‘ کا لفظ میں نے دانستہ نہیں لکھا کیونکہ ایک دفعہ روس کے ایک بڑے لیڈر نے چیکو سلواکیہ کے ایک لیڈر سے بہت پیار بھرے انداز میں پوچھا کہ تم رومیوں کو اپنا دوست سمجھتے ہو کہ بھائی؟ چیک لیڈر نے جواب دیا کہ روسی ہمارے بھائی ہیں کیونکہ دوست تو انسان اپنی مرضی سے بناتا ہے بہرحال طاہر تونسوی بھی سادہ لوحی کی حد تک مخلص آدمی ہے اور مجھے استاد اور شاگرد میں اگر کوئی قدر مشترک نظر آتی ہے وہ یہی خلوص ہے۔ (ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ان دنوں بستر علالت پر ہیں ان کے لئے دعا کی اپیل ہے)(جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *